کراچی سے نرس کے اغوا کا ڈراپ سین

جنوری کی 10 تاریخ رات کے بارہ بجے کے قریب فیس بک کی ایک پوسٹ پر نظر پڑی، جس میں لکھا تھاکراچی میں مقیم گلگت بلتستان کی ایک نرس گھر سے ڈیوٹی کے لئے نکلی اور واپس نہیں آئی۔ اس خبر کو پڑھنے کے بعد سخت صدمہ پہنچا کیونکہ شہروں میں اغوا کے بعد بہت ہی کم خوش نصیب لوگوں کو زندہ بازیاب کروایا جاسکتا ہے۔

اس خبر کی تصدیق کیے بغیر سو جانا ممکن نہیں تھا بڑی کوششوں کے بعد کریم شاہ نامی آدمی کا نمبر ملا جو لڑکی کا چچا تھا اور وہ کراچی میں رہائش پذیر تھا۔ مجھے شک ہوا تھا کہ کوئی کورٹ میرج کا چکر ہوگا۔ لیکن جب میں نے ان کے چچا سے بات کی تو اندازہ ہوا کہ وہ اذیت میں مبتلا تھے۔ وہ ٹھیک طرح بول بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کے باوجود میں نے ہمت کرکے پوچھا کہ خوش بخت کی شادی ہوئی تھی تو انہوں نے نا میں جواب دیا یقین ہوگیا کہ یہ کوئی چکر ہے پھر پوچھا کہ بھائی ایسا تو نہیں کہ خوش بخت نے کسی سے پسند کی شادی کی ہو اس پر انہوں نے کہا کہ اس کو بھاگنے کی کیا ضرورت تھی ان کو اتنی آزادی حاصل تھی کہ وہ اپنی پسند کا اظہار کرسکتی تھی۔ اور وہ بتا کے شادی کرسکتی تھی اس کو کسی نے اغوا کیا گیا ہے۔

Read more

گلگت بلتستان کی لڑکی کراچی سے غائب، پولیس مدد کے لئے تیار نہیں

گلگت بلتستان کے دور دراز علاقہ یاسین سے تعلق رکھنے والی خوش بخت فروری 2016 کو اپنے خوابوں کے تعبیر کے لئے روشنیوں کے شہر کراچی کے لئے نکل پڑی۔ وہ ایک نرس بن کر انسانیت کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔ اس نے کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں نرسنگ کے کورس میں داخلہ لیا۔ وہ اپنے دیگر بہن بھائیوں کے ہمراہ کراچی کے علاقے جیوانی میں رہائش پذیر تھی۔ انہوں نے حال ہی میں اسی ہسپتال میں نوکری حاصل کی تھی 4 جنوری بروز جمعہ گھر سے ڈیوٹی کے لئے نکلی اور واپس نہیں آئی۔

Read more

خلتی کی جمی ہوئی جھیل، خوفناک تباہی جو نعمت بن گئی

کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اگلے ہی لمحے کیا ہونے والا ہے۔ قسی اثنا میں قریبی گاؤں جنڈورٹ کے نالے سے دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ قریب کوئی اونچا پہاڑ ٹوٹ کر گررہا ہے۔ لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا، لمحے بھر میں ان آوازوں میں اتنی شدت آئی کہ لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف بھاگنا شروع کردیا۔ کسی کو کچھ نہیں معلوم تھا کہ آخر ہوا کیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے۔ ایک مقامی معلم کے مطابق جو اس وقت طالب علم تھے اس نے دیکھا کہ قریبی نالے میں اونچے درجے کا سیلابی ریلا آرہا تھا۔

اس کو پہلے تو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا، کیونکہ سیلاب کے لئے بارش کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ آج تو آسمان بالکل صاف تھا تو سیلاب کیسے آسکتا ہے۔ یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ بارش ہوئے بغیر بھی آسمانی بجلی گرتی ہے یا پھر اس سیلاب کا سبب گلیشیرز کا پگلنا تھا۔ اس سیلاب بلا کی اصل وجہ آج تک معلوم نہیں ہو سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ جب یہ سیلابی ریلا آبادی کے قریب سے گزر رہا تھا تو بہت ہی خوف ناک منظر تھا مٹی کے تودے بڑے بڑے پتھر اور پانی ایسا گزر رہا تھا جیسے کوئی جن اپنے اہل و عیال کے ساتھ محو رقص ہو۔

Read more

سپاہی عقیل خاں جوانی کے دن سیاچن میں گزارنا چاہتا تھا

گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں دور قدیم سے یہ روایت ہے کہ جس گھر میں کسی کی موت واقع ہو ہمسائے تیسرے دن تک غم زدہ خاندان سے اظہار ہمدردی کے طور پر تیسرے دن تک راتیں اس گھر میں جاگ کے گذارتے ہیں۔ دادا کی وفات پر بھی محلے والے شام سے گھر…

Read more

کام کوئی بھی چھوٹا نہیں ہوتا

وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر بڑے دلچسپ تبصرے دیکھنے کو ملے۔ مرغی انڈوں والی تقریر پر یہ تبصرے اور تجزیے ہنسی مذاق کی حد تو ٹھیک ہے، لیکن اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کا یہ پروگرام شہروں میں ذندگی گزارنے والوں کے لئے…

Read more

۔گلگت بلتستان میں موسم خزاں کےرنگ۔۔

بہتر ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا گلگت بلتستان کا شمار پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔قدرتی حسن اور وسائل سے مالا مال اس خطے کو سیاحوں کی جنت اور پاکستان کےماتھے کا جھومر بھی کہا جاتا ہے۔دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، ہندو کش اور ہمالیہ بھی یہاں ملتے ہیں۔…

Read more

ڈبل شاہ سے پے ڈائمنڈ تک، چالیس کروڑ کا ایک اور ٹیکہ

آپ نے ڈبل شاہ کا نام تو سنا ہوگا ،اگر نہیں سنا تو گوجرانوالہ کارہائشی سبط الحسن شاہ جس نے پیسے ڈبل کرنے کا جھانسہ دے کر صرف اٹھارہ مہینوں میں ستر ارب روپے کمایا تھا۔ وہ شروع شروع میں پندرہ دن کے اندر چھوٹی موٹی رقم ڈبل کرکےواپس کر دیتا تھا،جس کی وجہ سے…

Read more

گلگت بلتستان کی یہ سبسڈی ہی ختم کردینا چاہیے

حکومت پاکستان گذشتہ چار دہائیوں سے گلگت بلتستان کو گندم پر سبسڈی دے رہی ہے۔ یہ سبسڈی وقت کے ساتھ بڑھتے بڑھتے نو ارب تک پہنچ چکی ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان کے دور دراز کے علاقوں میں آٹے کا چالیس کلو والا تھیلہ چھ سو روپے میں دستیاب یے۔ گذشتہ کچھ سالوں سے گلگت…

Read more

یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن: قومی ادارہ تباہی کے دہانے پر

یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کا قیام آج سے سینتالیس سال قبل انیس سو اکہتر کو عمل میں آیا، اس فلاحی ادارے کو بنانے کا مقصد ان لوگوں تک معیاری اور سستی اشیائے خوردونوش پہنچانا تھا، جو غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یوٹیلٹی سٹور کا رخ وہ لوگ کرتے ہیں جو عام…

Read more

کیا ہوتا اگر حسن، حسین بھی پاکستان آجاتے

امیر ابو منصور سبکتگین غزنی کے گورنر الپتگین کا داماد تھا۔ وہ انتہائی سادگی، عاخزی اور غربت میں میں زندگی گزارتا تھا۔ وہ اکثر شکار کی غرض سے جنگل کا رخ کرتا تھا، کوئی آسان شکار ہاتھ آجاتا تو شکار کرکے گزر بسر کرتا۔ ایک دن جب وہ شکار کے لئے جنگل کی طرف جارہا…

Read more