ڈاکٹر شاہد مسعود اور میڈیا

ہمارے بچپن میں اکثر بازاروں میں لوگ سانڈے کا تیل فروخت کرتے تھے۔ بلا کے چرب زبان ہوتے تھے اور دائرے میں موجود ہر عمر کے لوگوں کی نفسیات سے کھیلنے کے ہنر سے واقف ہوتے تھے۔ یہ لوگ آخر میں کامیابی کے ساتھ چھوٹی چھوٹی شیشوں میں موجود تیل فروخت کر جاتے تھے۔ گاڑیوں میں مسافروں کو رقت بھرے لہجے میں المناک داستان سنا کر رقم مانگنے والے اور چٹکی بھر منجن سے دانتوں کو شیشے کی طرح چمکانے کا عملی مظاہرہ کرنے والے سب ایک جیسے ہیں۔

Read more

اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے

امریکیوں کو افغانستان میں جی ایچ کیو یا جنرل مشرف نہیں لایا تھا۔ افغانستان میں امریکی بھارتی اتحاد کے پیچھے بھی جی ایچ کیو کا کوئی جنرل نہیں تھا۔ بگرام ائر بیس پر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو دہشت گردوں سے بچانے کے بہانے تعینات کردہ امریکیوں کی خصوصی ڈیلٹا فورس کے پیچھے بھی کوئی…

Read more

صحافیوں کی نمائندگی کا حق پروفیشنل صحافیوں کو دیں گے یا پراپرٹی ڈیلروں کو؟

صحافیوں کو یقینی طور پر شعور ہے کہ نجی چینلز کی بہار کارگل کے بعد آئی تھی۔ نواز شریف آپریشن کی کامیابی کے بعد اس بہار کو خزاں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ بھی انہوں نے کیا ہے جنہوں نے کبھی بھارتی میڈیا کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے میڈیا کو آزاد کیا تھا۔

جو لوگ جانتے ہیں عام انتخابات میں عوامی ووٹ کی توہین کی گئی۔ جو لوگ جانتے ہیں الیکٹرانک میڈیا کے اینکرز کو پراپیگنڈہ کے لئے استعمال کیا گیا۔ جو لوگ جانتے ہین مولوی خادم کو مخصوص سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ جو لوگ جانتے ہیں جیپ کا انتخابی نشان دینے میں کسی نے کوئی کردار ادا کیا تھا۔ جو لوگ جانتے ہیں لبیک اور ملی مسلم لیگ بنانے کا فیصلہ نواز شریف کے ووٹ کاٹنے کے لئے کیا گیا تھا۔ جو لوگ جانتے ہیں نظام انصاف اور نیب کو مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، نواز شریف اور آصف علی زرداری کو ہدف بنانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، وہ لوگ یہ بھی جانتے ہیں میڈیا میں ہزاروں لوگوں کی بے روزگاری کے پیچھے بھی ایک مخصوص حکمت عملی ہے۔

Read more

ترکی میں استقبالیہ قالین کا رنگ نیلا کیوں تھا؟

ترکی میں نیلا رنگ غصہ اور بیزاری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پلانٹڈ وزیراعظم کے استقبال کے لئے اہلیان ترکی نے جو قالین بچھایا وہ نیلے رنگ کا تھا۔ اپ پیسے مانگنے گئے ہیں اور اس دفعہ آپ کے پالن ہار بھی آپ سے بیزار نظر آتے ہیں اس لئے اکیلے ہی مانگنا ہے۔ سعودی…

Read more

دھماکے، خود کش حملے: میرے حیران کن مشاہدات

خود کش دھماکوں کے بے شمار زخمی دیکھے ہیں اور جسم سے جان نکلنے کے مناظر بھی رٹے جا چکے ہیں۔ دو دن پرانے اور ایک ہفتہ پرانے مردہ جسم کی بو بھی لاشعور میں پختہ ہو چکی ہے۔ دھماکوں کے فوری بعد انسانی جسم اور ذہن کا ردعمل کیسا ہوتا ہے اپنی آنکھوں سے…

Read more

بی بی کے قاتل کیوں پکڑے نہیں جا سکے؟

محترمہ بینظیر بھٹو کے لیاقت باغ جلسے سے نصف گھنٹہ قبل ہم نیوز کے رپورٹر اور روزنامہ جنگ کی اپنی خاتون کولیگ کے ساتھ قریب کے ہوٹل میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ہماری گفتگو کا موضوع رات کو خفیہ ایجنسی کے عہدیدار کی بینظیر بھٹو سے ملاقات اور اسی ہفتہ کوئٹہ میں بینظیر بھٹو…

Read more

چیلنج سے موقع پیدا کرنے کا وقت

تین مرتبہ کے وزیراعظم کو سزا سنا دی، ہاتھ کیا آیا؟ عدالتوں سے سیاستدانوں کو سزا سنانے سے ان کا ووٹ بینک کم نہیں ہوتا، اس میں اضافہ ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف کرپشن اور مذہب کا چورن فروخت کیا لیکن یہ جماعت دو فوجی مارشل لاوں کو بھگت گئی اور آج بھی…

Read more

قومی مستقبل کے معاملات کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے

امریکی افغانستان سے واپس جا رہے ہیں لیکن کسی کو کچھ نہیں پتہ کس قیمت پر۔ سابق چیرمین سینٹ میاں رضا ربانی گزشتہ روز ایوان میں خارجہ پالیسی کا نوحہ پڑھ رہے تھے۔ وہ کہتے تھے عوام کے منتخب نمائندوں سے خارجہ پالیسی کی ملکیت چھین لی گئی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم سابق چیرمین سینٹ…

Read more

تماشا سی پیک کا ہے

پاکستان میں پناما ڈرامہ سے جس کھیل کا آغاز ہوا بتدریج شدت اختیار کرتا جا رہا۔ ایک مہربان نے چینی قرضوں اور پاک چین دفاعی تعلقات کے تناظر میں نیو یارک ٹائم میں شائع ہونے والی "کہانی"بھیجی ہے۔ الف لیلی کی اس داستان میں قرصوں کی عدم ادائیگی پرسری لنکن بندر گاہ پر چینی قبضہ…

Read more

عاطف میاں کی غلط بیانیاں اور دانشوروں کا کہرام

عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کمیٹی سے ہٹائے جانے کو لے کر سوشل میڈیا پر متفکرین کا کہرام جاری ہے۔ یار لوگ دور دور کی کوڑیاں لا رہے ہیں۔ طنزیہ پیرا گراف لکھے جا رہے ہیں۔ مفکرین کے رونے پیٹنے سے لگتا ہے گویا پاکستان دنیا کی سپر پاور بننے جا رہا تھا جو اب…

Read more