بے وقعت ورثہ

جرمن ادیب فرانز کافکا کا ناول پڑھ رہا ہوں۔ سوچتا ہوں اسے پڑھنے اور ختم کرنے کے بعد اس کتاب کا کیا کروں؟ یہ جسے میں نے اپنے بچوں کی رزق میں سے پیسے کاٹ کر خریدا ہے۔ پڑھنے اور الماری میں سجا دینے کے بعد میں اسے اپنی بقیہ زندگی میں (اگر ہے بھی…

Read more

بیمار شہروں کے چہرے

ایک شخص بے حال ہورہا ہے۔ اس کابس نہیں چل رہا کہ وہ میونسپل کارپوریشن کے ”کارندوں“ کا کیا کرے۔ میونسپل کا ایک گندا سا ٹرک کھڑا ہے اور کارندے گنے کے جوس کی ایک مشین اٹھا کر گاڑی میں رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ گنے کی مشین کا مالک شخص گونگا ہے۔ وہ بول بھی نہیں سکتا۔ وہ اپنے درد سے چیخ بھی نہیں سکتا۔ زبان پر قدرت کا قفل لگا ہے۔ ہاتھ پاوں بے بس ہیں کہ پولیس کے غراتے، کالے اہلکار سامنے کھڑے ہیں۔ مشین زمین پر گری، ٹوٹی، ادھڑی ہوئی پڑی ہے۔

کارندوں نے مشین اٹھاکر گاڑی میں ڈال دی۔ گونگے کا صبرجواب دے گیا۔ اینٹ اٹھا کر مارنے لگا۔ کارندوں اور اہلکاروں نے اسے پکڑ لیا۔ گاڑی چل پڑی۔ کارندے دوڑ کر گاڑی میں بیٹھ گئے اور وہ لاغر سا گونگا جوان سڑک پر بیٹھ کر بے بسی سے سرپیٹتا اور بین کرتا رہ گیا۔ یہ پنجاب کی کوئی سڑک تھی جہاں سے میونسپل کارپوریشن ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کررہی تھی۔

Read more

مکالمے کے منتظر ہیں

زمین و آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی کائنات، اس کائنات کے اجزائے ترکیبی، اجزائے ترکیبی کا ایک ایک ذرہ، ان ذروں میں دوڑتی زندگی۔ اس زندگی کے وسیع تر سائے میں عالم موجودات میں سب سے افضل و برتر اگر کوئی ذات ہے تو وہ رحمہ اللعالمین کی ذات ہے۔ ہم کیا کہیں اس…

Read more

منظور پشتین! احتیاط جناب والا احتیاط

منظور پشتین نے لاہور میں بھی جلسہ کردیا اور کراچی کے جلسے کے لیے تاریخ بھی دے دی۔ منظور نے اس سے قبل کوئٹہ اور پھر پشاور میں بھی جلسہ کیا تھا۔ پشتون تحفظ مومنٹ بنیادی طورپر وزیرستان میں آپریشن کے بعد عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے اٹھائی گئی تحریک ہے۔ جسے…

Read more