سی پیک سے بے خبر ڈمی بلوچستانی قیادت

سی پیک بلوچستان کی صورتحال نے جام صراحی اور ساقی کو پریشان کررکھا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر بلوچستانی ساقی بھی اس کو ایک پیگ کی حد سے زیادہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اخبارات میں خبر پڑھی کہ بلوچستان کے کوٹے پر دیگر صوبوں کے طلباء و طالبات کو چین…

Read more

فواد چوہدری بلوچستان کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

پاکستان کے 44 فیصد رقبے، اور صرف 7 فیصد آبادی کے ساتھ تیل، گیس، تانبے اور سونے جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ملک کے سب سے غریب اور پسماندہ علاقوں میں شمار ہونے والے صوبہ بلوچستان کے بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا یہ کہنا ہے کہ گزشتہ دس…

Read more

بلوچستان میں مخلص قیادت کا فقدان

جس کا فائدہ بلوچستانی کی اکثر سیاسی شاطر قیادت نے اٹھایا اور اسلام آباد و عام بلوچستانی کے درمیان جو رابطوں کے فقدان کا خلا موجود تھا، اس بلوچستانی سیاست دان نے مزید ہوا دی، اور سیاست سے بد ظن شخص کو اسلام آباد اور پنجاب رائے عامہ بنانے کے لیے بطور ڈھال استعمال کرنے میں کام یاب ہوا۔ عام آدمی کا بد ظن ہونا بھی بجا تھا کیوں کہ اس کے مسئلے کو اہمیت جو نہیں دی گئی۔ بلوچستان میں صوبائی حکومت نے 2006 میں اکنامک سروے رپورٹ جاری کی جس کی روشنی میں بلوچستان کی اس وقت کی کل آبادی، جو اس وقت 65 لاکھ کے قریب تھی، اس آبادی کے بالغ 17 میں سے صرف ایک شخص باقاعدہ ماہ وار تنخواہ لیتا تھا۔ جب کہ اس کے مقابلے میں صوبہ پنجاب میں 5 میں سے 1 شخص باقاعدہ تنخواہ لیتا تھا۔ رپورٹ ایک آئینہ ثابت ہوئی، جس میں ناقص حکومتی کارکردگی نظر آئی۔ شاید اس وجہ سے 2006 کے بعد وہ معاشی سروے رپورٹ دوبارہ پلاننگ انیڈ ڈویلپمنٹ ڈپمارٹمنٹ بلوچستان نے شایع نہیں کی۔

Read more

عمران خان کے دیسی انڈے و مرغیاں اور بلوچستان

تاریخ کا مشاہدہ کرنے سے کہیں نظر نہیں آرہا کہ کسی قوم نے مرغیوں پر بیٹھ کر فتوحات حاصل کی ہوں۔ تاہم اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ مرغی اور انڈے کچن کے ضروری اجزاء ہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں عورتیں مرغیاں پالتی ہیں۔ ان کا گوشت اور انڈے فروخت کرتی ہیں مگر مجموعی معیشت میں ان کی اہمیت نہیں ہے۔ پتہ نہیں وزیر اعظم عمرا ن خان کو کیا سوجھی اور کس معیشت دان نے سمجھا یا کہ مرغی اور انڈے کی روایتی صنعت کو ترقی دینے سے ملک میں معاشی انقلاب آجائے گا۔

یا پھر ان کو یہ سوچ ڈاکٹر اکبر حریفال سے ملی ہے جو وہ بطور سکریڑی لائیوسٹاک بلوچستان تھے۔ وہ بھی کچھ ایسے آئیڈیاز کے قائل تھے۔ 44 کروڑ روپے صوبائی حکومت سے طلب کر لئے کہ وہ انڈوں کے ذریعے صنعتی انقلاب لائیں گے۔ لیکن 3 ارب 78 کروڑ روپے سالانہ تنخواہوں کی مد میں ادا کرنیوالے 6830 ملازمین کے محمے لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کی از سر نو نظر ثانی و تشکیل تو نہ کرسکے اور بطور سیکریڑی 2018 میں انگریز کے متعارف کردہ کیمل مین یعنی اونٹ چرانے والے کو بھی بھرتی کردیا اگرچہ اس کی اب ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

Read more

حفیظ کھوسہ، سیکریڑی سیکنڈری ایجوکیشن بلوچستان سے مخاطب ہیں

احساس محرومی میں گھرے ہوئے بلوچستان نے، یہاں سمندر کے ساتھ سرکاری ماسٹر کو بھی محرومیوں میں لپیٹ دیا ہے۔ استاد سمجھتا ہے کہ یہ طویل محرومی اس کے بروقت سرکاری سکول جانے سے ختم نہیں ہوگی، وہ سکول میں رہے یا نہ رہے، سکول اور صوبے کی حالت بدلنے والی نہیں ہے۔ پنجاب نے اس کو ان پڑھ رکھا ہے وہ مٹی کا فرزند ہے، اتنا تو حق بنتا ہے کہ وہ سکول سے غیر حاضر ہو۔ وہ کون سی تنخواہ پنجاب سے لیتا ہے۔ تنخواہ اور وزیر دونوں بلوچستانی ہیں۔ وہ پنجاب سے بدلہ اپنے سکول میں غیر حاضری کی صورت میں لینے پر تلا ہوا ہے۔

Read more

کرپشن کا بے لگام گھوڑا اور اناڑی صحافتی جوکی

بلوچستان میں ہمیشہ سے احساس محرومی کی ایک آواز سنائی دیتی ہے اس آواز میں حقیقت ہے تو جان بھی ہے، اور کچھ سوالات بھی پوشیدہ ہیں، تلخ حقیقت یہ ہے کہ جہاں دیگر لوگ ذمہ دار ہیں وہیں پر اس نعرے کی چھتری تلے چند کام چور و کرپٹ بلوچستانیوں نے اپنے مفادات کا نہ صرف بازار گرم کر رکھا ہے بلکہ صوبے کے نظام کی بنیادیں اپنی نا اہلی اور بے پناہ کرپشن کی وجہ سے کھوکھلی کردی ہیں۔ اور اپنی آنے والی نسلوں کو اپاہج بنا دیا ہے۔

تعلیم سے لے کر صحت تک یہاں گذشتہ تیس سال میں ایسے لوگوں کو اہم ذمہ داریاں دیں، جن کی سوچ پندرہ سالہ بچے سے بڑی نہیں تھی۔ جنہوں نے ہمیشہ ٹافی کی تلاش کی، دانت کی فکر نہ کی۔ صوبے کے احساس محرومی کا رونا رونے والے قوم پرست اقتدار ہوں یا وفاق پرست کے نام نہاد دعویدار ہوں، یا پھر اسلامی نظام کے نفاذ کے دعوئے دار، کسی نے عام آدمی کا بھلا نہیں کیا۔ حکومت بلوچستان نے 2016 میں ورلڈ بینک کے ساتھ اسلام آباد میں بیٹھ کر ایک پروجیکٹ کے لئے 22 ارب روپے سود پر لینے کا معاہدہ سائن کیا۔

Read more

بلوچستان میں ٹوئٹر والی سرکار اور اسفند یار خان

سیکریٹری پلاننگ انیڈ ڈویلپمنٹ کی پوسٹ پر تعینات اسفندیار خان کاکڑ ؛ صوبے کی خراب طرز حکمرانی کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوکر قانونی طور پر حاصل ہونے والی 3 لاکھ 50 ہزار روپے کی ماہانہ تنخواہ، 400 لیٹر پٹرول ٹی اے ڈی اے اور دیگر مراعات چھوڑ کر محض ایک لاکھ روپے اور گمنام آفیسر کی زندگی بسر کرنے لگے اور سیکریٹری سے جوائنٹ سیکریٹری کہلانے پر تو رضامند ہیں لیکن بلوچستان میں مراعات اور مفادات سے مزین سیکریٹری پلاننگ انیڈ ڈویلپمنٹ کی پوسٹ پر کام کرنے کو تیار نہیں ہیں

Read more

نئی نسل سے مکالمہ

چائنا نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ یہاں کے چھوٹے قد چپٹی ناک اور چھوٹی آنکھوں والے لوگوں نے کم عرصے میں اپنے ملک کو ایک منفرد مقام دلوا دیا ہے، دنیا کا شاید ہی کوئی انسان ہو جس نے چائینیز پروڈکٹ استعمال نہ کی ہو۔ انگریز دودھ والی چائے کے ذریعے…

Read more

بلوچستان میں یہ اچھی حکمرانی کیسی

باسٹھ ارب روپے کے خسارے کا بجٹ میں لپٹے ہوئے صوبے بلوچستان میں دو ماہ بعد تک ’شفافیت ہمارا منشور‘ کی آواز بالآخر دم توڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ بلوچستان میں نئی صوبائی حکومت کی تشکیل کے بعد حکومت نے عوامی سطح پر یہ تاثر دینے کی تگ و دو شروع کر دی تھی…

Read more

پرنسپل کیڈٹ کالج مستونگ کی ریاستی تذلیل

محسن میرے وجود کو سنگسار کرتے وقت۔۔ شامل تھا سارا شہر ایک تہوار کی طرح جہاں ذاتی خواہشات، پسند و ناپسند پر ریاستی معاملات چلائے جائیں، جہاں سرکاری دفاتر کے ٹیلی فون، سرکاری عہدے دار، اپنے ذاتی مفادات، انّا کی تسکین کی خاطر، یا پھر من پسند لوگوں، کاروباری شراکت داروں، ذاتی فائدہ دینے والوں،…

Read more