جمہوریت کے منہ میں دہی کب جمتا ہے؟

"میری زندگی میں آپ کو قناعت اور درویشی نظر آئے گی۔ میرے والدین کی دعاؤں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں کی بارش کی اور اعلیٰ مناسب عطا کیے۔ مجھے اپنی صلاحتیوں سے زیادہ اس کی نگاہ کرم پر کامل بھروسہ ہے۔ ہر مشکل وقت میں اس نے دستگیری کی اور ہر…

Read more

جج انصاف سے ہٹے تو اس کا چہرہ چغلی کھاتا ہے

کسی دانشور کا قول پڑھا تھا کہ تعلیم کی حفاظت مطالعہ سے ہوتا ہے۔ اس لیے اس سرمائے کی حفاظت کے لیے کتب بینی میرا محبوب مشغلہ ہے۔ یہ چسکا جسے پڑ جائے تو پھر مشکل سے چھوٹتا ہے۔ کتب بینی میرا محبوب مشغلہ ہے۔ فجر کی نماز کے بعد الطاف حسن قریشی کی کتاب ”ملاقاتیں کیا کیا“ کی ورق گردانی کر رہا تھا ایک جگہ نظریں رک گئی ”سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس کارنیلیس دوران انٹرویو قریشی کو بتا رہے تھے پاکستانی عدلیہ کبھی گراوٹ کا شکار نہیں ہو گی اس کی بڑی وجہ یہ ہے۔ کہ جج کے لیے جادہ حق سے ہٹنا حد درجہ مشکل ہے۔ دراصل مخالف وکلاء اپنے دلائل اور واقعات کے تجزیے سے صورت حال اس قدر واضح کر دیتے ہیں کہ جج کے لیے انصاف سے گریز ممکن نہیں رہتا جب جج عدالت کی کرسی پر بیٹھتا ہے۔ تو اس میں یہ احساس پوری شدت سے بیدار اور تازہ ہوتا ہے۔ کہ اس کا منصب بہت نازک ہے۔ اور اس کا فریضہ اس قانون کا تحفظ ہے۔ جو انسان کا تعلق خدا سے جوڑتا ہے۔ یہی احساس اس کو منصف مزاج بنائے رکھتا ہے۔ اگر کوئی جج انصاف سے ہٹنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا چہرہ اس کے ارادے کی چغلی کھاتا ہے“

Read more

تبدیلی آئی رے

تبدیلی کا ہر کوئی ثمر سمیٹ رہا ہے خواص سے لے کر عوام تک، جس کے پاس بھی جائیں، وہ تبدیلی کی بات کرتا ہے۔ دوکاندار ہو یا حجام، موٹر مکینک ہو یا راج گیر، ٹیلر ماسٹر ہو یا جوتے مرمت کرنے والا، ایک ہی لفظ ان کہ منہ سے ادا ہوتا ہے اور وہ…

Read more

نواز شریف نے اپیل کر دی

میاں محمد نواز شریف نے العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں احتساب عدالت کی طرف سے سزاکے فیصلہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔ نواز شریف نے اپنے وکیل خواجہ حارث ایڈووکیٹ کے ذریعے دائراپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ احتساب عدالت نے 24 دسمبر کو نواز شریف کو 7 سال قید کی سزا سنائی، 131 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ نیب نے نواز شریف کے خلاف کرپشن کا مقدمہ ثابت کیا ہے، نواز شریف العزیزیہ اور ہل میٹل کے اصل مالک ثابت ہوئے جبکہ وہ اثاثوں کے لیے جائز ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہے، فیصلے میں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کے ساتھ اڑھائی کروڑ ڈالر جرمانے کی بھی سزا سنائی گئی۔ ہل میٹل جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا گیا جبکہ نواز شریف 10 سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے لئے نا اہل بھی قرار پائے، احتساب عدالت کا مذکورہ فیصلہ غلط فہمی اور قانون کی غلط تشریح پر مبنی ہے، دستیاب شواہد کو درست انداز میں نہیں پڑھاگیا، ملزم کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کو احتساب عدالت نے سنے بغیر فیصلہ سنایا استدعاہے کہ احتساب عدالت کے مذکورہ فیصلہ کو کالعدم قراردیاجائے اور نواز شریف کی سزاکو بریت میں تبدیل کیا جائے۔

Read more

نواز شریف کی جرنیلوں سے کبھی کیوں نہیں بنی؟

فیصلہ آنے کے بعد آدھا گھنٹہ گزرتا ہے میاں نواز شریف اپنے مصاحبین کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود ہوتے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے خوشگوار موڈ میں گپ شپ کر رہے ہیں۔ ایک گھنٹہ گزرتا ہے عدالتی اہلکار کھسر پھسر کرتے ہیں۔

ڈیڑھ گھنٹہ گزرتا ہے نیب کے افسر کمرہ عدالت میں آتے ہیں۔ میاں نواز شریف کو ورانٹ گرفتاری دکھاتے ہیں۔ کہتے ہیں ”میاں صاحب چلیں“ میاں نواز شریف جواب دیتے ہیں۔
”جی چلیں گاڑی اپ کے پاس ہے اگر نہیں ہے تو ہماری گاڑی میں چلتے ہیں۔“ اعصاب بحال چہرے پر ملال نہیں اُٹھ کر ساتھ چل پڑتے ہیں۔

اسی ملک کی ایک عدالت سابق سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی سنگین غداری کیس میں گرفتاری کا حکم دیتی ہے اور فرد جرم عائد کرنا چاہتی ہے۔ گرفتاری کے خوف سے سابق ڈکٹیٹر کی ٹانگیں کانپ اُٹھتی ہیں۔ سابق ڈکٹیٹر گاڑیوں کے جلو میں اسلام آباد میں اپنے فارم ہاؤس سے نکلتا ہے اور عدالت حاضر ہونے کی بجائے سیدھا راولپنڈی ”سی ایم ایچ“ پہنچ جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ سابق ڈکٹیٹر دل کے مرض میں مبتلا ہے وہی کمانڈو جو مُکے لہرایا کرتا تھا کہ میں بہادر کمانڈو ہوں کسی سے ڈرتا ورتا نہیں عدالتوں کا سامنا بہادری سے کروں گا پھر ایسا باہر گیا کہ واپس نہ آیا۔

Read more

جج ارشد ملک کی آواز سزا سناتے ہوئے لرز گئی

”پتھر کا انسان ہوں ہر ظلم سہہ لیں گے“ فیصلہ آنے کے فوری بعد میاں نواز شریف نے کمرہ عدالت میں شعر پڑھا۔

احتساب عدالت اسلام آباد کی طرف جانے والے تمام راستے سیل تھے۔ صبح تڑکے عدالت جا پہنچا، سیکیورٹی اہلکاروں نے عدالت کو اہنے حصار میں لے رکھا تھا۔ سیکیورٹی اہلکار نے کہا کہ ایک کلو میٹر گھوم کر عدالت کے داخلی گیٹ پر آنا پڑے گا۔

داخلی دروازے پر پہنچا تو دیکھا کہ میڈیا کے دوست کھڑے تھے جو احاطہ عدالت میں جانے کی تگ و دو کر رہے تھے۔ سیکیورٹی اہلکار دیوار بن کے سامنے کھڑے تھے۔ ان کے ساتھ اچھی بھلی تو تکار ہو گئی۔

Read more

بظاہر نواز شریف کے خلاف فیصلے کی تیاری ہے

ملٹری کورٹس میں جو فیصلے ہوتے ہیں ان کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں ہوتا۔ سزا و جزا کے عمل سے قوم بے خبر ہوتی ہے۔ قوم یہ بھی نہیں جانتی ہوتی کہ ملزم کا جو ٹرائل ہو رہا ہوتا ہے اس میں ملزم کو صفائی کا کتنا موقع دیا جاتا ہے۔

احتساب کورٹ اسلام آباد چوبیس دسمبر کو ایک اہم فیصلہ سنانے جا رہی ہے۔ اس کیس میں ملزم پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں محمد نواز شریف ہیں۔ احتساب کورٹ اسلام کے جج ارشد ملک نے اس کیس کو سنا۔ یہ ریفرنس احتساب کورٹ روم نمبر ایک کے جج محمد بشیر کے پاس تھا۔

محمد بشیر نے ایون فلیڈ ریفرنس میں میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنائی تھی تو وکیل صفائی خواجہ حارث نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی کہ اس ریفرنس کو کورٹ روم نمبر دو میں منتقل کیا جائے۔

Read more

نواز شریف کو جج صاحب پر پورا بھروسا ہے

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تیری عاقبت سنوار چلے

فیض احمد فیض کا یہ شعر میاں نواز شریف نے احتساب عدالت کے داخلی دروازے پر کھڑے ہو کر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران پڑھا۔ فلیگ شپ ریفرنس کی آخری سماعت تھی، میاں نواز شریف ساڑھے نو بجے اپنے سیاسی رفقاء کے ساتھ کمرہ عدالت میں پہنچے۔ سماعت شروع ہونے سے قبل جج کے عین اوپر لگا بجلی کا بلب دھڑام سے نیچے گرا کمرہ عدالت میں موجود ہر شخص اس آواز پر چونکا۔ مجھے یہاں قدرت اللہ شہاب کی بات یاد آ گئی انھوں نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں لکھا ہے کہ جب جنرل یحییٰ نے اقتداد سنبھالا تو تقریب حلف برداری کے لیے جو شامیانے اور قناتیں لگائی گئی تھی عین حلف کے موقع پر آندھی کی وجہ سے اکھڑ گئیں۔ وہ لکھتے ہیں یہ قدرت کی طرف سے ایک اشارہ تھا کہ یہ شخص ملک و قوم کے لیے نیک شگون نہیں۔ یہاں روشنی کا بلب گرا جس کا مطلب ہوتا ہے کہ اندھیرا، اللہ کرے میرا اندازہ غلط ثابت ہو۔

Read more

کیا عدالت میں یہ جمعہ بھی نواز شریف پر بھاری ہو گا؟

اسلام آباد میں مری سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں کی بدولت رگوں میں خون منجمد کر دینے والی سردی پڑ رہی ہے۔ اب کی بار جاڑے کا موسم معمول سے زیادہ سرد ہے۔ اس سرد موسم میں احتساب عدالت میں پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کے خلاف ایک اہم ریفرنس کی سماعت ہو رہی ہے۔ کیس حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ جمعہ تک فیصلہ آنے کا امکان ہے۔

”میں ٹی وی بالکل نہیں دیکھتا اور نہ مجھے کوئی شوق ہے۔ میرا کام انصاف پر مبنی فیصلے کرنا ہے۔ اللہ کو جواب دینا ہے۔ میرے گھر میں مہمان آئے ہم کھانا کھا رہے ٹی وی بند تھا میرے ماموں کو ٹی وی دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ کافی دیر گزر گئی ٹی وی آن نہ ہوا تو ماموں گویا ہوئے آپ ٹی وی نہیں دیکھتے؟ میرا جواب نفی میں تھا کہنے لگے ٹاک شوز دیکھا کریں کیسوں کے متعلق تو آدھی بحث تو ٹاک شوز میں ہو جاتی ہے۔ ماموں جان میں اسی لیے ٹی وی نہیں دیکھتا۔“ یہ الفاظ تھے احتساب جج ارشد ملک کے جو انہوں نے دوران سماعت سنائے۔

Read more

نواز شریف کے وکیل اور فیصل آباد کا گھنٹہ گھر

گزشتہ روز سے ملک کے طول و عرض میں رات گئے تک خوب ابر برسا۔ ابر برسنے اور مری میں برف باری کی وجہ سے اسلام آباد یخ بستہ ہواؤں کی لپیٹ میں ہے۔ سرد موسم میں ملک کا سیاسی درجہ حرارت گرم ہے۔ وزیراعظم ہاوس سے نکل کر لاہور کی جانب موٹروے پر رخت سفر باندھا جائے تو کشمیر ہائی وے سے گزرنا پڑتا ہے۔ پشاور موڑ سے تھوڑا آگے گزر کے دوسرا اشارہ جی الیون کی جانب جاتا ہے جی الیون ون میں ایک سیاہی مائل عمارت ہے جسے احتساب عدالت کا نام دیا جاتا ہے۔

اس عدالت میں اس وقت ملک کے تین سابق وزراءاعظم جن میں نواز شریف۔ یوسف رضاگیلانی اور راجہ پرویز اشرف کیس بھگتنے کے لیے آتے ہیں۔ شنید ہے کہ اس ٹیم میں ایک اور سابق وزیراعظم شاید خاقان کی صورت میں اضافہ ہونے والا ہے ان کے گرد بھی نیب نے شکنجہ کسا ہوا ہے۔ مشرف دور کے وزیراعظم شوکت عزیز کا کیس بھی یہاں چل رہا ہے اور عدالت نے انھیں اشتہاری قرار دے رکھا ہے اس سے آگے بات بڑھی نہیں۔

Read more