لوہڑی: سب توں سوہنڑا پنجابی تہوار

دنیا کی مختلف قومیں اپنی موسموں اور اہم دنوں کے حوالے سے مختلف تہوار مناتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں پنجاب کا خطہ ہمیشہ سے ترقی یافتہ، زرخیز اور خوشحال خطہ رہا ہے۔ ۔ اس لئے اس سوہنی دھرتی پر ہمیشہ دشمنوں کی نظر رہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پنجاب ہزاروں سالوں سے…

Read more

جلال چانڈیو: سندھیوں کی عالم لوہار اور اللہ رکھی سے جان چھڑوانے والا

10 جنوری کو جلال چانڈیو کی 18 ویں برسی ہے۔ ”سندھی قوم کو میرا شکرگذار رہنا چاہیے کہ میں نے ان کی پنجابی فنکاروں عالم لوہار اور اللہ رکھی (نورجہان) سے جان چھڑائی، بھلے سندھ کے شہری بابو ٹائپ لوگوں کو میرے کلام اچھے نہ لگیں مگر سندھ کے گاؤں پر میرا راج ابھی ایک…

Read more

نیلم دریا واقعی جنت سے ہی نکلتا ہے کیا؟

بچپن سے کشمیر کو جنت نظیر خطہ سنتا آیا تھے، اب تک کئی بار اس خوبصورت ترین سرزمین کو دیکھ کر بھی ہمارا دل نہیں بھرتا۔ یقین کیجئے کشمیر واقعی جنت ہے۔ وہاں پریاں اور حورین رہتی ہیں اور وہاں سے صاف شفاف پانی، شہد اور دودھ کی نہریں بہتی ہیں۔ ان میں سے اک نہر ”نیلم“ ہے، جس کے لئے البیرونی نے 1030 ع میں لکھا تھا کہ ”شاردا دیوی کے مندر اور بدھ یونیورسٹی کے قریب اک نہر بہتی ہے جس کا پانی صاف شفاف اور نیلے رنگ کا ہے، اس میں ’نیلم پتھر‘ بھی بہتے رہتے ہیں۔“

اس کے بعد شہنشاہ اکبر کے وزیر خاص ابوالفضل ابن مبارک نے 16 ویں صدی میں لکھا کے ”بدھ یونیورسٹی جس دریا کے کنارے آباد ہے اس دریا کا نام ’مدھو متی‘ (شہد کی ندی) ہے اور اس ندی میں سونے اور ہیرے اور دوسرے قیمتی پتھروں کے ٹکڑے بھی بہتے رہتے ہیں۔“ سناتن دھرم کے مطابق نیلم وادی کا پورا علاقہ ہزاروں سالوں سے ”شاردا دیوی کی ملکیت اور امان میں ہے“ شاردا دیوی کو ”سرسوتی دیوی“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، اور وادی سے اوپر پہاڑوں کی طرف دیکھا جائے تو پہاڑوں کی چوٹیاں ایسے نقشہ بناتی ہیں کے جیسے کوئی انتہائی الھڑ جوان حور یا پری جیسی عورت اپنے پورے شباب اور جوبن کے ساتھ سبز رنگی تخت پر سو رہی ہے۔

Read more

جاوید لاہوری ”میراثی“ نہیں کہلانا چاہتا تھا

جاوید کے والد محمد عمر عرف بلھے خان صاحب کا شمار لاہور کے مشہور طبلہ نواز استادوں میں ہوتا تھا۔ ہیرامنڈی کے قریب ”گلی جوہریاں“ میں ہی رہنے کی وجہ سے استاد بلھے خان کا طبلہ اکثر ہر رات کسی نہ کسی محفل میں بجتا رہتا اور اسی وجہ سے ان کے گھر کا چولہا بھی جلتا رہتا تھا۔ کہتے ہیں کہ استاد بلھے خان کے ہاتھ میں بھی جادو تھا، طبلہ سننے والے دور سے تھاپ سن کر سمجھ جاتے تھے کے یہ انگلیاں استاد بلھے خان کی ہیں، ورنہ طبلے تو سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔

مگر اس کے بیٹے جاوید کا دل طبلہ بجانے اور سننے سے بالکل خائف تھا۔ ”لوگ ہمیں میراثی کہتے تھے، اور میراثی لفظ مجھے زہر لگتا تھا، اعتراض اس لفظ سے نہیں تھا مگر یہ لفظ ’میراثی‘ ادا کرتے لوگوں کے لہجے مجھے ماردیتے تھے۔ میں کچھ بھی بننا چاہتا تھا مگر میراثی نہیں۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ گلی میں بیٹھ کر سیخ کباب اور تکہ بوٹی لگاؤں گا مگر طبلہ نہیں بجاؤں گا، مطلب میراثی نہیں بنوں گا۔“ جاوید اب یہ بات کرتے ہوئے خود بار بار ”میراثی“ لفظ ادا کر رہا تھا۔ ”یہ بات 1992 ع کی ہے جب میراثی کو آرٹسٹ لفظ میں بدلنے کو ابھی 25 سال پڑے تھے۔ جاوید مسکرانے لگا۔

Read more

آصف زرداری کی ممکنہ گرفتاری: احتجاج تو ہو گا

سندھ میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں کی مبینہ مالی کرپشن کے خبروں اور جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد زیادہ تر لوگ کرپشن، سندھ کی معاشی ابتری اور خاص طور پر پی پی پی پی کی نظریاتی تباہی کے بجائے اپنی دانشورانہ توانائیاں صرف اس بات پر صرف کرنے میں…

Read more

گجرات کے ڈیرے حقے کے بنا ادھورے ہیں

پنجاب کی محنت کش برادری "گجر" ویسے تو پورے پنجاب میں گجر اور سندھ میں "گجرانی" کے نام میں آباد ہے مگر اس برادری کا مرکز گجرانوالہ ڈویژن کو سمجھا جاتا ہے۔ گجرانوالہ اور گجرات کے "گجر" اپنی بہادری، مہمان نوازی، دراز قد اور وجاھت کے لئے بھی مقبول ہیں۔ آپس میں اختلافات کے باوجود…

Read more

یہ کنہاڑ دریا ہے یا ہیروں کا ہار

اس نے ”ملکہ پربت“ کی کوکھ سے جنم لیا ہے، بابوسر کے سامنے جنت نظیر وادیوں میں رڑہنا شروع کیا ہے اور جب حسین و جمیل ”لولوسر جھیل“ کے میٹھے پانیوں میں پہنچا ہے تو یکایک جوان ہوگیا ہے۔ ”جلکھنڈ وادی“ کو کراس کرتے ہی رفتار کو تھوڑا تیز پکڑتا ہے، اب اس کے سامنے پہاڑ بھی رائی ہیں۔ یہ ہمیشہ جوان رہنے والا دریا ہے اور اسے ”کنہاڑ“ کہتے ہیں۔ ہاں یہ کنہاڑ ہے، شہزادہ دریاء، سوہنا دریا۔ کنہاڑ دریا جس حصے سے جنم لیتا ہے، جغرافیائی طور پر اس علاقے کو ”سندھو کا آبی علاقہ“ (Indus Watershed Area) کہتے ہیں۔

Read more

”دمڑی والی سرکار“ کے کروڑ پتی مجاور

پنجابی زبان کے عظیم شاعر حضرت میاں محمد بخش رح کے مرشد کریم ”حضرت پیرا شاہ غازی رح“ کے مزار پر حاضری اس لئے بھی ضروری تھی کہ ”جو ہمارے محبوب کا مرشد ہو پھر وہ تو اپنا بھی مرشد ہوا“ منگلا ڈیم کے ریسٹ ہاؤس سے میرپور ضلعے کے گاؤں ”چک ٹھاکرا“ تک کا…

Read more

مہاراجہ چندر گپت موریہ کی جی ٹی روڈ اور سی پیک

پاکستان کو چین سے ملانی والے پاک چائنا اکانامک کاریڈور (سیپیک) کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں پاکستان میں معاشی استحکام کے واسطے کمال اور دنیا کے لئے سی پیک اک عجوبہ ہوگا، مگر پاکستان کو ایک وقت میں افغانستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش سے جوڑنے والے تاریخی راستے گرانڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) بھی سی پیک سے کسی صورت کم نہیں۔

مجھے جی ٹی روڈ اس لئے بھی مرعوب کرتا ہے کہ یہ روڈ واہگہ سے لاہور، شاہدرہ، مریدکے، وزیرآباد، گجرانوالہ، گجرات سے لے کر کھاریاں تک مسلسل آباد ہے، اک مسلسل شہر ہے جو ختم ہی نہیں ہوتا۔ یقیناً پنجاب کے لئے جی ٹی روڈ اک لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے، پنجاب اگر جسم ہے تو اس کی ”شہہ رگ“ جی ٹی روڈ ہے۔

Read more

مثبت خبر: کراچی، کیلگری اور لاہور میں ایک ساتھ ”ہو جمالو“۔

ویسے تو دسمبر آتے ہی عاشق، کنوارے، ویلے اور خاص طور پر ان ہی دنوں میں کسی رقیب کا شکار بنے نوجوان شاعری کا سہارا لیتے ہوئے جو کچھ نہیں کہہ پاتے کسی شاعر کے کاندھے پر بندوق رکھ کر فائر کر دیتے ہیں۔ مطلب دسمبر بچھڑنے اور دکھ کا استعارہ ہے۔ سندھ میں مگر ڊسمبر کو اک نئی جہت دی گئی ہے جس وجہ سے سندھ کے لوگ دسمبر کا شدت سے انتظار کرتے ہیں۔ جب سے سندھ اسمبلی نے دسمبر کے پہلے اتوار کو سندھی ثقافتی دن کے طور پر منانے کی قرارداد پاس کی ہے، سندھ میں اک اور عید کا اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ دن پوری دنیا میں میں رہنے والے سندھی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔

Read more