کپتان صاحب کی کیبرے میں نائٹ ٹریننگ

برٹش وِنگ کی دھیمی دھیمی بے آواز سی فضا سے نکلِ کرانڈین وِنگ کی رنگ رنگیلی دنیا میں پہنچا، تو یوں محسوس ہوا جیسے انار کلی میں آنکلا ہوں۔ وہی انار کلی کے رنگ و صَوت اور وہی گہما گہمی، لیکن عجیب بات تھی کہ عین اس وقت کوئی دیسی افسر نظر نہ آر ہا تھا ؛ البتّہ ایک قریب کے خیمے سے قہقہے بلند ہو رہے تھے جو لاریب افسرانہ تھے۔

چِق اٹھا کر داخل ہوا، تو سبھی کو یکجا پایا۔ مخثار ’قاضی، اصغر، بتالیہ، بھا ٹیہ، کیانی، امیر، سوامی، نینے، نادر اور کئی دوسرے جِن سے ابھی تعارف نہیں تھا، ہماری آمد کر حسب ِ معمول ایک ایسے نعرے سے منایا گیا جس کا اثر شائبے کے دیگر خیموں میں ایک ہلکے سے زلزلے کے طور پر محسوس کیا گیا۔ پوچھا کہ فرزندانِ ہند تمبو میں بیٹھے کیا سازش کر رہے ہیں، تو بتایا گیا کہ کونسل آف ایکشن کا جلاس ہے۔

Read more

دیسی نعرہ تکبیر پر مصری شاہ فاروق کے عربی قہقہے

فلوس۔ بخشیش۔ مافیش۔ وہ مکی کے بھٹبے بیچنے والوں کی صدا : ”رفیق چھلی۔ “ جو وہ لوگ ہمارے پنجابی سپاہیوں کی کشش کے لیے لگاتے اور ہمارے سپاہیوں کی اخو تِ اسلامی کا وہ منظر کہ اپنے مِصری دکانداروں کی ہزاروں ”چھلیاں“ سِربازار بھون کر اپنا پیٹ اور ان کی جیبیں بھر دیتے۔ ہمارے سپاہیوں کی اِس فالتو اخوت کا ایک مظاہرہ کبھی نہ بھولے گا۔

جیسا کہ ایک جگہ پہلے کہا جا چکا ہے، ہندوستانی مسلمان ( یا اب کہنا چاہیے پاکِستانی مسلمان) بہت سادہ ہے۔عرب ملکوں اور وہاں کے لوگوں سے اِسے والہا نہ عشِق ہے اور ہر عرب کے متعلق یہی سمجھتا ہے کہ بعد از نبی بزرگ توئی قِصہ مختصر۔ اسے یہ خوش فہمی بھی ہے کہ عرب بھی ہمیں چچازاد ہی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اکثر عربوں کو اِن رشتہ داروں کے وجود کا ہی علم نہیں ان دِنوں قاہر ہ میں میلا دالبنیؐ کا تہوار بڑی شان سے منایا جاتا تھا۔ خود شاہ ِفاروق تقریبات میں حِصہ لیتے۔ اس سال یوم میلادہیں ہمارے کیمپ کے مسلمان جوانوں نے بھی شرکت کرنا چاہی۔

چونکہ ہمارے سپاہیوں کا مصریوں کے ساتھ اختلاط کا معاملہ تھا، کرنل صاحب نے مجھے خود ساتھ جانے کو کہا کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہونے پائے ؛ چنانچہ میں صوبیدار صاحب اور کوئی پچاس جوان صاف ستھری وردیاں پہنے فوجی لاریوں میں بیٹھ کر جلسہ گاہ میں پہنچے۔ شاہ فاروق کے آنے میں ابھی کچھ وقت تھا کہ صوبیدار صاحب نے میرے کان میں کہا :

” اگراجازت دیں تو شاہ فاروق کے آنے پر ہم نعرہء تکبیر بلند کریں؟ “
میں نے کہا: ”آپ کو کیا تکلیف ہو رہی ہے جو آپ ایسی حرکت کرنا چاہتے ہیں؟ “

بولے : ”خلیفہء اسلام ہے اور ہمارا دل چاہتا ہے کہ اپنے مسلمان بادشاہ کے لیے نعرہ لگائیں۔ “

Read more

کپتان صاحب کی بکتر بند گاڑی کو کمپاس کی غلطی کیبرے لے گئی

ہوا یہ تھا کہ ایک انگریز میجر بنام مِڈوے نے کیپٹن اجندر سنگھ بتالیہ کے خلاف ایک کیس کھڑا کر دیا تھا یا بزبان ِ فوج انہیں چارج پر رکھ دیا تھا۔ فردِ جرم میں مذکور تھا کہ ملزم کو کیبرے دیکھنے کے لیے شائبہ سے بصرہ جانا تھا۔ کوئی اور سواری نہ ملیِ، تو آرمرڈ کار یعنی بکتر بند گاڑی لے کر ہی تماشا دیکھنے چلا گیا۔ وغیرہ۔ اَب ایوان کے سامنے سوال یہ تھا کہ بتالیہ کیا صفائی پیش کرے۔ مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔

Read more

کرنل صاحب اور ارجن سنگھ کی وہسکی

سگنل سینڑ کی زندگی فقط اللہ ہو کے گرد ہی نہیں گھومتی تھی۔ جہاں ارجن سنگھ ایسے ہم جماعت ہوں وہاں کئی ایسے واقعات ناگزیر تھے جو دل یزداں میں بھی کھٹکنے لگیں۔ ارجن سنگھ ایک قوی ہیکل اور خوش مزاج سکھ کیڈٹ تھا۔ پینا اس کی کمزوری تھی۔ ایک شام ارجن سنگھ کو معمول…

Read more

کرنل صاحب کا انصاف

لفٹننٹ کرنل پیٹرسن عباسیہ کیمپ کے کمان افسر تھے۔ آپ کی سیرت کے کئی درخشاں پہلو تھے لیکن جس پہلو سے ہم ماتحتوں کا واسطہ تھا یعنی آپ کا مزاج، وہ اتنا درخشاں نہ تھا جتنا آتش فشاں تھا۔ نتیجتہً ہمیں جرمنوں کے علاوہ اپنے کرنل صاحب سے بھی جنگ یا خانہ جنگی کا سامنا…

Read more