تبادلہ آبادی اور جنونیت کا رقص

مہاراجہ نے جب یہ سنا، تو آپ نے اپنے ایک مخبر کو اصل حالات معلوم کرنے کے لئے اس سابق وزیر کے مکان پر بھیجا۔ اس مخبر نے دیکھا، کہ اس مکان میں ہون ہو رہا ہے، اور اسی برس کے ضعیف اور کمزور سابق وزیر اسی ہون کے پاس بیٹھے چنڈی دیوی کا پاٹھ کر رہے ہیں۔ مخبر نے تمام واقعہ مہاراجہ کو بتایا، تو مہاراجہ نے حکم دیا، کہ اس سابق وزیر کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے۔ چنانچہ سپرنٹنڈنٹ پولیس چند پولیس کا نسٹبلوں کے ساتھ رات کو بارہ بجے اس سابق وزیر کے مکان پر گئے، اور وزیر کو گرفتار کر کے بحکم حضور مہاراجہ صاحب جیل کے اندر چھوڑ گئے۔

کیونکہ اس زمانہ میں ریاستوں میں والی ریاست کا حکم ہی قانون ہوا کرتا تھا۔ یہ واقعہ رات کو بارہ بجے ہوا۔ میں صبح جاگا، تو آٹھ بجے کے قریب ایک دوست ملنے آئے، اور انہوں نے بتایا، کہ سابق وزیر صاحب رات بارہ بجے مہاراجہ کو چنڈی کے پاٹھ کے ذریعے مسخر کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیے گئے ہیں۔ اس واقعہ کو سن کر میں نے فیصلہ کیا، کہ مجھے اس ریاست میں ملازمت نہ کرنی چاہیے دوپہر کو میں نے مہاراجہ کو ایک خط لکھا، کہ میں یہاں اب ملازمت نہیں کرنا چاہتا، میرا استعفیٰ منظور کر لیا جائے۔

میرے اس خط کے جواب میں مہاراجہ نے اپنا آدمی بھیج کر مجھے سے دریافت کیا، میں کیوں مستعفی ہونا چاہتا ہوں اس آدمی کو میں نے جواب دیا، کہ جس ریاست میں یہ یقین نہ ہو، کہ رات کو سونے کے بعد اگلی صبح کے سورج کے شعاعیں یہ اپنے گھر میں دیکھ سکتا ہے، اور یہ شعاعیں شاید اسے جیل کی دیواروں کے اندر ہی دیکھنی ہوں گی، میں ایسی ریاست میں ملازمت نہیں کر سکتا۔ مجھے اس ریاست اور اس ریاست کے حکمران کی خدمت سے سبکدوش کر دیا جائے۔

Read more

عورت میں بچے کی قدرتی خواہش

ہندو متھیالوجی کے مطابق اس شخص کی نجات ممکن ہی نہیں، جس کے ہاں اولاد نہ ہو۔ یعنی ایک ہندو کی نجات تب ہی ممکن ہے، اگر اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد اس کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے خیرات کرے، جسے شرادھ کہا جاتا ہے۔ اور ہندوؤں کے علاوہ دوسری اقوام میں اولاد کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ عام طور پر یہ یقین کیا جاتا ہے، کہ اولاد جوان ہونے پر اپنے والدین کے لئے ایک آسرا ثابت ہو گی۔

جن عورتوں کے بطن سے اولاد پیدا ہو، وہ بہت مطمئن رہتی ہے، اور جن کے ہاں کوئی اولاد نہ ہو، یعنی یہ بانجھ ہوں، ان کی زندگی کا خوشگوار بسر ہونا ممکن ہی نہیں۔ اولاد سے محروم ہونا ان کے لئے قدم قدم پر تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ کیونکہ اولاد سے محروم عورت نہ صرف خود ہمیشہ مغموم رہتی ہے، بلکہ یہ سوسائٹی میں بھی قابل و قعت قرار نہیں دی جاتی۔ اور عزیز و اقارب کو چھوڑ کر اگر شادی کے بعد دو تین برس عورت کے بطن سے کوئی بچہ پیدا نہ ہو، تو اس عورت کی ساس اپنی بہو کے متعلق تشویش محسوس کرتے ہوئے اس خیال میں مصروف ہو جاتی ہے، اس کے بیٹے کی دوسری شادی ہو، اور اکثر حالتوں میں دوسری شادی کر دی جاتی ہے، جو پہلی بیوی کے لئے ناقابل برداشت مصائب و مشکلات کا باعث ہوتی ہے۔

Read more

بلیک مارکیٹ کے روشن پہلو

1942 ء میں جب مہاتما گاندھی اور کانگرسی لیڈر گرفتار ہوئے، تو اس سے پہلے نہ تو ہندوستان میں زیادہ گرانی تھی، اور نہ بلیک مارکیٹ۔ کانگرسی لیڈروں کے گرفتار ہوتے ہی بازار میں ہر شے کی قیمتیں چڑھ گئیں، اور بلیک مارکیٹ کا زور ہو گیا۔ میں بھی کانگرسی اصحاب کے ساتھ گرفتار ہوا تھا۔ حالانکہ میں نہ کبھی کا نگرسی تھا، اور نہ اب کانگرسی ہوں۔ صرف ایک بار مرحوم مولانا عارف ہسوی مجھ سے چار آنہ کانگرس کی۔ ممبری کے چندہ نام پر لے گئے تھے۔

میں اگست 1942 ء میں گرفتار ہوا، اور 1943 ء کے آخر میں نظر بندی سے رہا کیا گیا۔ اس رہائی کے بعد میں نے دیکھا، کہ دہلی کا نقشہ ہی بدلا ہوا ہے۔ ہر شے بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہے، اور کوئی مکان بھی بغیر ”پگڑی“ ( یعنی مکان کرایہ پر لو، تو کرایہ کے علاوہ چند سو یا ہزار روپیہ بغیر لکھت پڑھت کے بطور رشوت دو ) نہیں مل سکتا۔ اس زمانہ کے حالات کو دیکھتے ہوئے ملا واحدی صاحب ایڈیٹر ”نظام المشائخ“ نے ایک واقعہ لکھا :۔

Read more

مذہب قاضی الحاجات

عربی زبان میں روپیہ اور دولت کو قاضی الحاجات، ضروریات پوری کرنے والا ( کیونکہ روپیہ دے کر اس سے ہر شے خریدی جا سکتی ہے) قرار دیا گیا ہے۔ مگر جہاں تک مذہبی کتابوں میں سے اپنے مطلب کی بات حاصل کرنے کا تعلق ہے، مذہب کو بھی قاضی الحاجات قرار دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ ہر مذہبی مجاور اپنی ضروریات کے مطابق اپنے حق میں مذہبی قول پیش دیتا ہے۔ اس سلسلہ کے دو دلچسپ واقعات پیش کرتا ہوں۔

Read more

گناہگاروں کی بے گناہیاں

اس زمانہ پنجاب کی منڈیوں میں دو بڑی یورپین فرموں کے دفاتر ہوتے تھے، ایک سنڈے پیٹرک کمپنی اور دوسری ریلی برادرز۔

ان دونوں کمپنیوں کا کام یہ تھا، کہ یہ ان منڈیوں سے اناج خرید کر یورپ بھیجتیں، اور ان دونوں فرموں کے ذریعے پنجاب کا کروڑ ہا من غلہ ہر سال یورپ جاتا۔ حافظ آباد کی اس منڈی کے بالکل قریب ایک بہت بڑا احاطہ تھا۔ منڈی کا جو دکاندار ان کمپنیوں کے پاس اپنا غلہ فرخت کرتا، غلہ فروخت کرنے سے پہلے اس احاطہ کو استعمال کرتا۔ جس کی صورت یہ تھی، کہ جتنا غلہ فروخت کرنا ہوتا، وہ اس احاطہ میں ایک طرف جمع کر دیا جاتا، اور دوسری طرف مٹی کا بہت بڑا ڈھیر لگا دیا جاتا۔ یہ مٹی چھلنی میں چھنی ہوئی بہت باریک ہوتی، اور چکنی ( یعنی جس مٹی میں چپکنے کی صفت ہو ) ہوا کرتی۔ سب سے پہلے احاطہ میں چند انچ اونچائی میں غلہ بچھا دیا جاتا، پھر اس پر چکنی مٹی کا پاؤڈر ڈالا جاتا۔

چکنی مٹی کے پاؤڈر کو غلہ پر ڈالنے سے پہلے غلہ پر مشکوں کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا، اور پھر مزدور اس غلہ، پانی اور مٹی کے مکچر کو پاؤں کے ساتھ چند منٹ ہلاتے، تاکہ گیلی مٹی غلہ کے ساتھ چپک جائے۔ اس کے بعد پھر نیا غلہ چند انچ تک اونچائی میں بچھایا جاتا، پھر چھڑکاؤ ہوتا، اور پھر مٹی ڈال کر مزدوروں سے پاؤں کے ذریعے ملایا جاتا، اور اس طرح غلہ کا یہ ڈھیر دس دس پندرہ اور بیس بیس فٹ بلند چلا جاتا، اور پھر اس کو بوریوں میں بھرا جاتا۔

Read more

نشہ، پولیس اور اقبالِ جرم

دہلی کے ڈاک خانہ میں سے ایک بیمہ چوری ہو گیا، جو غالباً بیس ہزار روپیہ کا تھا، اور یہ بیمہ بنک نے اپنی دہلی برانچ کو بھیجا تھا۔ بیمہ کے گم ہونے پر ڈاک خانہ کے پوسٹ ماسٹر نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس تحقیقات کے لئے آئی، اور ڈاک خانہ کا ایک کلرک اس سلسلہ میں گرفتار کیا گیا، جو شراب پینے کا عادی تھا۔ اس کلرک کو گرفتار کر کے حوالات بھیج دیا گیا۔ اس مقدمہ کی تحقیقات پر ایک سکھ انسپکٹر پولیس مقر ر ہوا، جس کا نام غالباً سردار جسونت سنگھ تھا۔

ان سردار جسونت سنگھ نے تحقیقات کے سلسلہ میں بہت کوشش کی، کہ بیمہ کا پتہ چل سکے، اور آپ نے وہ کچھ بھی کیا، جو پولیس عام طور پر مشتبہ ملزموں کے ساتھ کرتی ہے، مگر کلرک جرم سے انکار ہی کرتا رہا۔ یہ تحقیقات ایک ہفتہ تک جاری رہی۔ سردار جسونت سنگھ ہر روز ہی اس کلرک سے ”انٹیرو گیشن“ کرتے رہے اور ”تھری ڈگری“ طریقے بھی استعمال ہوئے، مگر کلرک نے جرم کا اقرار نہ کیا۔

Read more

جنسی کمزوری کا بوٹ پالش سے علاج

جنسی احساس کمتری کے سلسلہ کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں، جو دلچسپ اور افسو سناک بھی ہے۔ جرنلزم کا پیشہ اختیار کرنے سے پہلے میں میڈیکل پریکٹس کرتا تھا۔ اور طبی دنیا کی نئی ایحادات سے مجھے دلچسپی تھی، جو اب بھی قائم ہے۔ میں نئی ایجاد ہونے والی ادویات کی فہرسیتں اور لٹریچر منگاتا رہتا ہوں، اور اگر کوئی اچھا ڈاکٹر ملنے کے لئے آجائے، تو بعض بیماریوں کے متعلق اس سے بھی دیر تک بحث ہوا کرتی ہے۔ میں ناگپور جیل میں تھا، تو اس جیل کا سٹاف مجھ سے بہت اچھی طرح پیش آتا، کیونکہ یہ لوگ اخبارات کے اثرات سے واقف تھے۔

جیل کے سپرنٹنڈنٹ کرنل موڈی تو دوسرے تیسرے روز میرے پاس آیا کرتے، اور میری ضروریات دریافت کرتے۔ مگر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ہر روز صبح میرے پاس آتے، اور اس کے بعد شام کو قیدیوں کی گنتی کرنے اور بارکیں بند کرنے کے بعد میرے پاس آ جاتے۔ وہاں ہی چائے پیتے، کیونکہ میرے پاس بسکٹ، انڈے اور پھل وغیرہ کافی مقدار میں موجود رہتے، اور ایک آدھ گھنٹہ باتیں کرتے۔ ایک روز باتوں باتو ں میں ری جووی نیشن ( اعادہ شباب ) کے مسئلہ پر ذکر شروع ہو گیا، تو میں نے اپنی معلومات کے مطابق ان کو بتایا، کہ بڑھاپا کیوں آتا ہے اور شاب اور قوت کو قائم رکھنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟ یہ باتیں ایک گھنٹہ کے قریب ہوتی رہیں۔

Read more

انگریز کی خفیہ پولیس اور ایک انقلابی کی کایا پلٹ

پچھلی نصف صدی میں دنیا میں جن لوگوں کو سیاسی اعتبار سے بہت بڑی بین الاقوامی شہرت نصیب ہوئی، ان میں مرحوم مسٹرایم۔ این رائے ایک اہم شخصیت تھے۔ آپ امپر یلزم کے بہت سخت دشمن اور کٹر کلاس کے کمیونسٹ تھے۔ چنانچہ موجودہ نوجوان حلقہ ابھی پیدا بھی نہ ہوا تھا، کہ آپ ہندوستان سے روس چلے گئے، وہاں مشہور انقلاب پسند مسٹر لینن کے ساتھیوں میں شامل ہو گئے۔

مسٹر رائے نے لینن کے ساتھیوں میں شامل ہونے کے بعد درجنوں بار دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا، مگر غلط نام سے اور جعلی پاسپورٹوں اور ویزوں کے ساتھ، آپ ہندوستان میں جب 1930 ء میں گرفتار ہوئے، تو اس وقت بھی آپ کے پاس ایک غلط نام کا جعلی پاسپورٹ تھا۔ اور اس موقعہ پر جس ڈرامائی انداز میں آپ گرفتاری ہوئی، وہ بہت ہی دلچسپ اور برٹش گورنمنٹ کے جاسوسی کے وسیع ذریعہ کا ثبوت ہے۔ مسٹر رائے تاج محل ہوٹل بمبئی میں مقیم تھے۔ آپ اگلے روز جہاز کے ذریعہ انگلستان جانے والے تھے۔ آپ کی سیٹ اس جہاز میں ریزرو ہو چکی تھی، کہ علی الصبح چار بجے پولیس نے آپ کو تاج محل ہوٹل کے کمرہ سے گرفتار کر لیا۔

Read more

ایڈیٹروں کی قلابازیاں

اردو جرنلزم کی پچھلی نصف صدی میں کیا حالت تھی، اس سلسلہ کے چند واقعات دلچسپی سے خالی نہ ہوں گے۔ صحافتی کورٹ فیس ”ریاست“ کے عروج کے زمانہ میں راقم الحروف دوستوں سے ملنے کے لئے مہینہ میں ایک آدھ بار دہلی سے لاہور ضرور جایا کرتا، اور یہ سفر صرف ایک دن کا…

Read more

مہارانیوں اور بیگمات کی بیچارگیاں

یہ مسئلہ بہت دلچسپ، بہت دقیق اور مردوں کے لئے بہت ہی غور طلب ہے، کہ عورت کیا چاہتی ہے؟ یعنی شادی کے بعد عورت کیونکر اپنے شوہر کے ساتھ خوشگوار، مطمئن اور پرکیف زندگی بسر کر سکتی ہے۔ کیونکہ اگر تحقیقات کی جائے، تو نوے فیصدی عورتیں شادی کے بعد ایک غلامانہ زندگی بسر…

Read more