فلسطین، اسرائیل اور پاکستان کا رویہ

کیا زندگی میں ہمہ وقت جمود رہنا چاہیے؟ یا اس طرح کہہ لیجیے کہ کیا دنیا کے معملات ایک ہی رخ پہ چلتے ہیں؟ اوسط درجے کی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اس بات کا جواب نفی میں دے گا۔ کیونکہ یہ اعجاز اللہ تعالی نے صرف انسان کو ہی ودیعت کیا ہے کہ وہ عقل کو برو کار لا کر مسائل کا حل ڈھونڈ نکالتا ہے۔ اور اگر ان مسائل کا تعلق انسانی جانوں سے متعلق ہو تو پھر ایسے حالات میں سے فہم اور تفہیم سے راستہ نکالنا لازم ہو جاتا ہے۔ ان چند جملوں کی تمہید اپنے موضوع کو سمجھنے کے لئے باندھی گئی ہے۔ اب آتے ہیں اس موضوع کی طرف جہاں بات کرنا قدرے مشکل بنا دیا گیا ہے۔

آسان الفاظ میں بات کرتے ہوئے اگر کہا جائے کہ فلسطین جو کہ دنیا کا ایک گھمبیر اور انسانی المیے سے جڑا ہوا ایک مسئلہ ہے، خصوصا مسلم امہ اسے مذہب کے حوالے سے جذباتی مسئلہ قرار دیتی ہے جبکہ فریق ثانی یعنی ایل یہود بھی ایسے ہی سوچتے ہیں۔ اپنے قیام کے بعد اسرائیل نے اپنی طاقت اور بین الاقوامی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے لاکھوں فلسطینیوں کو ان کی زمین اور وطن سے بے دخل کیا ہے۔ اس قضیے پہ عرب اسرائیل جنگیں بھی ہو چکی ہیں لیکن فلسطین کے حق میں کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ کئی دہائیوں سے سسکتا اور بلکتا یہ خطہ دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے لیکن آواز صرف توانا فریق یعنی اسرائیل ہی کی سنی جاتی ہے۔

Read more