ڈاکٹر جاوید اقبال: دلِ ناصبور

ایک شخص اس دنیا میں طویل عمر بسر کرتا ہے۔ اس دوران میں وہ اعلیٰ ترین تعلیمی اسناد حاصل کرتا ہے، تحریر و تصنیف میں نام پیدا کرتا ہے، ہائی کورٹ کا جج بنتا ہے، چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہوتا ہے، سپریم کورٹ کا جج بننے کا اعزاز حاصل کرتا ہے، ریٹائرمنٹ کے…

Read more

تحریک خلافت،  ترک بغاوت، مسلم جذبات اور گاندھی جی

علامہ اقبال نے بال جبریل میں جرمن سے ماخوذ شیر اور خچر کا ایک مکالمہ نظم کیا ہے: شیر: ساکنان دشت و صحرا میں ہے تو سب سے الگ کون ہیں تیرے اب و جد، کس قبیلے سے ہے تو؟ خچر: میرے ماموں کو نہیں پہچانتے شاید حضور وہ صبا رفتار، شاہی اصطبل کی آبرو…

Read more

ایرانی پولیس، سیلونی ڈاکٹر کی بیوی اور ہندو کی شوخ چشمی

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا چپہ چپہ دیکھا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔…

Read more

تعلیم کا نوحہ

کوئی بیس برس پرانی بات ہے کہ ایک نجی یونیورسٹی میں مجھے ایک کورس پڑھانے کی دعوت دی گئی جس کا عنوان تھا: Thinking and Learning  زیادہ تر طلبہ کا مضمون کمپیوٹر سائنس تھا اور انھوں نے ایف ایس سی کیا ہوا تھا۔ لیکچرز میں بعض مثالیں دیتے ہوئے میں نے ماؤزے تنگ اور سٹالن…

Read more

دو قومی نظریہ: چند سوالات

وجاہت مسعود صاحب نے کچھ عرصہ قبل دو قومی نظریہ کے بارے میں چودہ سوالات اٹھائے تھے۔ یہ سوالات چودہ تو نہیں ہیں کیونکہ زیادہ تر سوالات overlap کرتے ہیں ،تاہم ان سے تعرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ سوالات سے پہلے اولین پیراگراف میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ مسلم لیگ نے دو…

Read more

رضا شاہ پہلوی  ایران کا بادشاہ کیسے بنا؟

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک…

Read more

گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا

ستمبر 1975 میں مجھے حکومت پنجاب کے محکمہ تعلیم کی جانب سے لاہور سے بہت دور ایک کالج میں بطور لیکچرر تعیناتی کا پروانہ موصول ہوا۔ تگ و دو کرتا رہا کہ لاہور میں تقرری کی صورت نکل آئے لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ چار و ناچار پانچ ماہ سے زیادہ کی تاخیر کے بعد فروری…

Read more

شاہ قاچار، وزیر جنگ اور رضا خان: محلاتی سازشیں اور بدقسمت ایرانی قوم

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک…

Read more

کچھ ذکر ایران کا: چالاک سرکار انگلشیہ، دھوکے باز رضا پہلوی اور عربوں کی ذلت

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک…

Read more

صوبہ بہار کی دیدہ دلیر میم صاحبہ اور آسام کا اینگلو انڈین جوڑا

(میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا ہوتا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے…

Read more