گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا

ستمبر 1975 میں مجھے حکومت پنجاب کے محکمہ تعلیم کی جانب سے لاہور سے بہت دور ایک کالج میں بطور لیکچرر تعیناتی کا پروانہ موصول ہوا۔ تگ و دو کرتا رہا کہ لاہور میں تقرری کی صورت نکل آئے لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ چار و ناچار پانچ ماہ سے زیادہ کی تاخیر کے بعد فروری…

Read more

شاہ قاچار، وزیر جنگ اور رضا خان: محلاتی سازشیں اور بدقسمت ایرانی قوم

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک…

Read more

کچھ ذکر ایران کا: چالاک سرکار انگلشیہ، دھوکے باز رضا پہلوی اور عربوں کی ذلت

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک…

Read more

صوبہ بہار کی دیدہ دلیر میم صاحبہ اور آسام کا اینگلو انڈین جوڑا

(میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا ہوتا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے…

Read more

حریت انسان کی پہچان ہے

جب انسانی شعور نے آنکھ وا کی تو اس نے اپنے آپ کو فطرت کی بے رحم طاقتوں کے سامنے بے بس محسوس کیا۔ انسانی فکر کی معلوم تاریخ دس ہزار برس سے کم ہے۔ اس تمام عرصے میں جس فکر کو غلبہ حاصل رہا وہ جبر کا فلسفہ ہے۔ دیومالائی قصوں سے لے کر…

Read more

ایک صدی پہلے برما ریلوے میں ملازمت اور رنگون کی عورتیں

(میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا ہوتا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے…

Read more

ایک صدی قبل اجمیر شریف کی زیارت کا سبق آموز احوال (مع نادر تصاویر)

(میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا ہوتا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے…

Read more

پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت اور شعبہ فلسفہ

یکم جنوری 1979ء کو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں تدریس کا آغاز کیا۔ دو تین برس تو خیریت سے گزر گئے۔ لیکن اس کے بعد جمعیت کے ساتھ معاملات کچھ الجھنا شروع ہو گئے۔ 1983 کا سال تھا جب ان کے ساتھ تنازعہ شروع ہوا۔ ہر تدریسی شعبے میں نئے آنے والے طلبہ و…

Read more

1937ء کا الیکشن اور دیہاتی سیاسی شعور

(میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا ہوتا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے…

Read more

احمدیت کے بارے میں برداشت کی روایت کیوں ختم ہوئی؟

ڈاکٹر صوفی محمد ضیا الحق صاحب گورنمنٹ کالج لاہور میں عربی کے صدر شعبہ تھے۔ وہ عربی زبان، بالخصوص عباسی عہد کی عربی کے بہت جید عالم تھے۔ اتنے بڑے عالم ہونے کے باوجود صوفی صاحب لکھتے نہیں تھے۔ جب کبھی طالب علم ان سے استفسار کرتے کہ آپ لکھتے کیوں نہیں ہیں تو صوفی…

Read more