سرخ فام امریکی نسل پر تاریخ کے جبر کا نوحہ

امریکہ میں یورپی قوموں کی آمد کے بعد تمام مقامی سرخ فام قبائل کی طرح چیروکی قبیلے پر بھی قیامتیں ٹوٹیں۔ وہ تفاصیل علیحدہ ہیں۔ باقی قبائل کی طرح چیروکی قبیلے کا اصل سانحہ یہ ہے کہ انہیں اپنی زندگی اور روح کی یکتائی سے ہاتھ دھونے پڑے اور ان کی حاجت روائی کا کوئی طریقہ میسر نہیں۔ اس سانحے کی وضاحت کے لئے چیروکی بزرگ ”کارن ٹیسل“ کا 1785 کا ایک مکالمہ حوالے کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے۔ تاریخ کے ظلم نے انہیں خستگی اور شکستگی کے اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں انہیں تقابلی جائزے کے لئے وہ باتیں کہنی پڑیں جو ان کی سوچ کا بنیادی حصہ نہیں تھیں۔ لاچار ان کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے :

”تم کہتے ہو کہ انڈین بھی ہماری طرح زمین کو کاشت کیوں نہیں کرتے اور ہماری طرح سے زندگی کیوں نہیں گزارتے؟ مگر کیا ہمیں یہ پوچھنے کی اجازت ہے کہ سفید فام بھی ہماری طرح سے شکار کیوں نہیں کرتے اور ہمارے جیسا رہن سہن اختیا ر کیوں نہیں کرتے۔ خدائے برتر نے تو ہر ایک کو زمین عطا کر دی تھی۔ جس میں تمیارے لئے سور اور ہمارے لئے ریچھ رکھا۔ تمہارے لئے بھیڑ اور ہمارے لئے ہرن۔ اس نے تمہارے ساتھ بھی مہربانی کی کہ تمہارے جانور سدہائے جانے والے اور گھریلو طرز کے رکھے مگر ہمارے جانور ہماری روح کی طرح آزاد، وحشی اور جنگلی۔ ہمارے جانوروں کی طبعی ضرورت ہے کہ ان کے پاس حد نگاہ تک کھلی زمین ہو۔ زمین کی فراوانی ہمیں اور ہمارے جانوروں کو اس لئے چاہیے تا کہ ان کے شکار میں فن جیسی لطافت ہو“۔

Read more

سیکولرازم: مذہبی اساطیر سے روشن خیالی کی جانب تاریخ کا سفر

سیکولرازم کے باب میں ہمارے یہاں کم شناسی کا یہ عالم ہے کہ شان الحق حقی صاحب نے اپنی انگریزی اردو ڈکشنری میں سیکولرازم کا ترجمہ ”لادینیت“ کیا ہے۔ سیاسی اور معاشرتی سیکولرازم لادینیت سے بہت مختلف ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں اس کے معانی مذہبی لادینیت کے ہی رائج ہیں۔…

Read more