چھوٹے عمران خان زوہیر طورو کا نیا پاکستان

زوہیر طورو کو کون کون جانتا ہے؟ ”انقلاب! اگر ہماری پولیس ہمیں ڈنڈے مارے گی تو ہم انقلاب کیسے لائیں گے۔ ہم گرمی میں تباہ ہو گئے ہیں! “ جی یہی والا زوہیر طورو۔ زوہیر طورو بیچارہ اسلام آباد کا ایک برگر بچہ تھا۔ وہ انقلاب کے مزاحیہ تصورات رکھتا تھا۔ وہ تحریک انصاف کا…

Read more

آنٹی انکروچمنٹ

”آنٹی جی آنٹی جی گٹ اپ اینڈ ڈانس! ” ہمارے ملک میں ہر شے ایک نعرہ ہے۔ ہر خبر دراصل کسی نوع کا بیان ہے۔ ہمارے ملک میں مستقل کچھ بھی نہیں۔ ہر انتظام عارضی ہے، وقتی ہے۔ ہر تحریک محض ابال ہے اور کچھ بھی نہیں۔ آج کل ایک نیا قسم کا ابال بڑے…

Read more

پانی سے چلنے والی گاڑی اور عمران خان

غالباً یہ 2011 ء کی ہی بات ہے سارے ہی ذرائع ابلاغ پر ایک حضرت چھا گئے۔ محترم کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک سائنس کے ماہر ہیں اور پانی سے گاڑی چلا لیتے ہیں۔ محترم کے پاس اپنی ایجاد یا اختراع کا پورا نسخہ تھا۔ محترم فرماتے تھے کہ پانی H 2 O ہوتا ہے یعنی دو ہائیڈروجن اور ایک آکسیجن کے جوہر کے ملنے سے بنا ہوتا ہے۔ ان کی ایجاد سے پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن گیس میں ٹوٹ جاتا ہے اور پھر یہ دونوں گیسیں بالکل کسی بھی دوسرے ایندھن کی طرح جل کرگاڑی کے انجن کو چلاتی ہیں۔ موصوف کا دعویٰ بڑا تھا، اتنا بڑا تھا کہ اگر حقیقتاً پانی گاڑی اور دیگر انجنوں کا ایندھن بن سکتا تو گاڑیوں سے لے کر ٹرینوں تک کا سفر تقریباً مفت ہو جاتا اور فیکٹریوں، ملوں، بجلی گھروں، الغرض ہر نوع کے کارخانوں میں انقلاب برپا ہو جاتا۔

ہمارا میڈیا بیچارہ خبروں کا پیاسا، دعوؤں، وعدوں اور بیانات پر چلنے والا۔ سارا کا سارا ہی موصوف کے گن گانے لگا۔ سندھی چینلوں نے محترم کی پرستش ہی شروع کر دی اور کاوش ٹی وی وغیرہ پر شکوہ کیا گیا کہ قومی میڈیا سندھ کے عظیم سپوت پر توجہ نہیں دے رہا۔ مگر قومی میڈیا بھی موصوف کے گیت گا ہی رہا تھا۔ موصوف کو پروگراموں میں مدعو کیا جاتا اور سامنے کبھی ڈاکٹر عطاء الرحمن اور کبھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بٹھا دیا جاتا۔

Read more

یہودی کا داماد

ہماری یادداشت تھوڑی سی کمزور ہو گئی ہے اس لئے صحیح سے یاد نہیں آتا کہ ”یہودی کی بیٹی“ کس نے لکھا تھا، وہ امتیاز علی تاج کی تحریر تھی یا کسی اور کی۔ مگر ہم نے اس پر بننے والی بلیک اینڈ وائٹ بھارتی فلم ضرور دیکھی ہے کہ جس میں یوسف خان المعروف دلیپ کمار جی ہیرو ہیں۔ یہ فلم بڑے کمال کی ہے، سوچنے کی بات ہے کہ ہند کے ماحول میں رہنے والے لکھاری نے 2000 سال سے بھی زیادہ قدیم سلطنت روما کا تصور کیا اور وہاں پر پسے ہوئے یہود کے حالات کو سوچا اور ایک یہودی کی بیٹی اور ایک رومی شہزادے کے درمیان ہونے والی محبت کی منظر کشی کی۔

ایسا تو تخیل بھی کرنے کے لئے بڑا دل اور بڑا دماغ چاہیے۔ مگر تب ایسے تجربات عام تھے، ویسے جہاں تک یہود کی بات ہے وہ تاریخ میں اکثر ہی مظلوم اور پسا ہوا طبقہ رہے ہیں مگر ان کے زوال سے ہی ان کے عروج برآمد ہوئے ہیں۔ یہ بنی یعقوبؑ یعنی بنی اسرائیل دنیا میں جہاں بھی بسے اقلیت میں رہے، سوائے حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کے ادوار کے یہ کبھی دنیا کے کسی خطے کے حاکم نہ رہے۔ یہ کنعان سے مصر گئے اور وہاں پر عزیز کی حکمرانی کے وسیلے سے حاکم بنے۔

Read more

امام کعبہ اور حرم پاک کے مقدس منبر سے بدصورت جھوٹ

حال ہی میں امام کعبہ جناب عبدالرحمن السدیس صاحب نے بڑا دلچسپ خطاب جمعہ فرمایا، انہوں نے مکہ کے مقدس منبر پر چڑھ کر ارشاد فرمایا کہ ہر صدی میں اللہ رب العزت ایک مجدد بھیجتا ہے، اس صدی کا مجدد کوئی اور نہیں بلکہ ولی عہد سلطنت جناب محمد بن سلیمان صاحب ہیں جو…

Read more

موجودہ بیوی کا سابق شوہر کیا کہلاتا ہے؟

ہمیں بھی اردو سے پیار ہے۔ مگر کبھی کبھی اردو زبان کی ”عسرت“ ہمیں تنگ کر دیتی ہے اس لیے کیونکہ اردو زبان میں کچھ رشتوں کے لئے کوئی نام ہی نہیں۔ مگر یہ کون سے رشتے ہیں یہ بیان کرنے سے قبل ہم تھوڑی علمیت جھاڑنا ضروری سمجھتے ہیں تا کہ جاوید چوہدری کی…

Read more

عمران خان اور ایڈولف ہٹلر

ماشاء اللہ عمران خان کا تصور ذات بہت ہی بڑا ہے، وہ خود کو دنیا کا سب سے عظیم انسان سمجھتے ہیں۔ اس طرح کے تصور ذات کو علم نفسیات میں Grandiose Delusion کے ذیل میں کافی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ مگر عمران خان کے خاص معاملے میں یہ خبط محض ان کا ذاتی خبط نہیں بلکہ ان کے حوارین بھی ان کے اس خبط پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے رہے ہیں کہ ”شہنشاہ معظم کی یہ ادا تو بالکل سکندر اعظم کی سی تھی“، ”جناب عالی ابھی تو بالکل نیلسن مینڈیلا معلوم ہوئے۔ “

خود سے محبت، نرگسیت، خود پرستی اور تکبر جیسے الفاظ عمران خان کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی کا درجہ رکھتے ہیں مگر کیا یہ مسئلہ صرف عمران کان کا ہے؟

Read more

رقی ، فلم نائک اور زومبی

ہم بھی کبھی بچے تھے اور بچکانہ چیزیں ہمیں بھی اچھی لگتی تھیں۔ انسان کی زندگی میں ٹین ایج خوابوں کی دنیا ہوتی ہے، ہمارے ٹین ایج میں بھارتی فلم نائک ریلیز ہوئی تھی۔ ایک ٹی وی چینل کا ملازم ایک وزیر اعلیٰ کا انٹرویو کرتا ہے اور پھر اس سے سوالات کی بوچھاڑ میں ایک ایسا مقام آ جاتا ہے کہ جب خود وزیر اعلیٰ اسے کہتا ہے کہ تم ایک دن کے لئے وزیر اعلیٰ بن کر خود سنبھال کر دیکھو صوبے کو۔ تنقید کرنا کتنا آسان ہے اور کام کرنا کتنا مشکل۔

پھر حالات کی چرخی اس رپورٹر کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا دیتی ہے اور ایک دن کے وزیر اعلیٰ صاحب صوبے کو سمجھ لیجیے کہ نیویارک ہی بنا دیتے ہیں، تالیاں! اس کہانی میں ایک ظالم ولن (جو سابقہ وزیر اعلیٰ تھا) وہ رپورٹر صاحب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے مگر وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ پھر رپورٹر صاحب کی اپنی محبت بھی اس حق اور انصاف کی جنگ میں بڑی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ بعد میں یہ کہانی ان گنت فلموں میں دہرائی گئی۔

Read more

”اسٹیٹس کو“ اور لہراتے ہوئے مکے

آج سے 25 سال پہلے کا زمانہ آج سے بہت مختلف تھا۔ بچوں پر ماں باپ پابندیاں لگاتے اور بچے بھی ان پابندیوں پر عمل کرنے پر مجبور ہوتے۔ مگر زمانہ بدل رہا تھا، زمانہ بدل گیا۔ آج کے دور میں چند اصطلاحات ایک نوع کے وظیفے کا درجہ حاصل کر گئی ہیں۔ ان اصطلاحات…

Read more