مَوت کے فرشتے سے راز ونیاز

آہ! آخر تم آگئے۔ ایک دن توتمہیں آنا ہی تھا۔ سانسوں کو الوداع توکہنا تھا۔ موت کے کاندھوں پر جنازہ دھرنا ہی تھا۔ آج تک تم سے فرار بھلا کون پا سکا؟ تم وہ ہو، جس سے ملاقات کی کسی خواہش نے کبھی میرے اندر سر نہ اٹھایا، حتی کہ زندگی نے جب جب کڑوے…

Read more

قوم کو جگانے کا بے ہودہ اور بھونڈا طریقہ

میں آج کل سر پکڑے انگلیوں پر بس دن ہی شمار کر رہی ہوں کہ جانے کب پچیس جولائی کا سورج طلوع ہو گا۔ رکیے! کہیں یہ نہیں سمجھیے گا کہ میں اس تاریخ کے انتظار میں اس لیے اتاولی ہو رہی ہوں کہ مجھے ووٹ ڈال کر محب وطن شہریوں کی فہرست میں اپنا…

Read more

ایک خوشی کتنی سستی بنی، کتنی مہنگی بکی

        میری بیٹی نے عید پر پہننے کے لیے غرارے کا انتخاب کیا۔ قیمت پوچھی تو دکان دار نے دو ہزار بتائی۔ قیمت کم کروانے پر بحث کرنی چاہی تو دکان دار نے انگلی سے بورڈ کی طرف اشارہ کردیا جس پر فکس پرائس درج تھا۔ اب تو دکان دار سے بھی بحث…

Read more

بوم بوم آفریدی کے سامنے بندھا بے بس شیر

میرا بھتیجا بہت شرارتی اور نٹ کھٹ سا ہے، ٹک کر بیٹھنا تو گویا اس کو آتا ہی نہیں۔ دنیا جہاں کے وہ کون کون سے کھلونے ہیں جو میرا بھائی اس کے لیے لے کر نہیں آتا، اور وہ کچھ ہی دنوں میں ان کا ستیاناس کرکے مزید کی طلب میں ہُمکنے لگتا ہے۔…

Read more

طلاق عیب نہ ہوتی تو آج صبا زندہ ہوتی

اور اب صبا کی باری آگئی۔ اس کو اجل اپنی مرضی سے لے کر نہیں اُڑی بلکہ وہ معاشرے کی سنگ دلی اور بے حسی کی بھینٹ چڑھائی گئی۔ صبا کے قتل کے ذمہ دار تو بہت سارے افراد ہیں۔ سب سے پہلے تو والدین، جو ہر بار اسے سمجھا بجھا کر سسرال نام کے…

Read more

میرے وطن کی عورتوں کا آن لائن ریپ

”میری بیٹی۔ ۔ ۔ ایم بی اے۔ ۔ ۔ عمر چونتیس سال۔ ۔ ۔ کے لیے رشتہ چاہیے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، راول پنڈی اور اسلام آباد کے رہائشی لڑکوں کے والدین رجوع کریں۔ (۔ ۔ ۔ سے معذرت)“ فساد کا باعث یہ بریکٹ بنا، جس میں ایک لسانی برادری کا نام لے کر معذرت کی…

Read more

میری ماں کا دم توڑتا ہوا عشق

اس وقت ہاتھوں میں اپنی ماں کی وہ ڈائری لیے بیٹھی ہوں، جس کو پڑھنے کی تو کجا ہاتھ لگانے کی بھی اجازت بھی ماں نے کبھی نہیں دی تھی۔ البتہ دنیا چھوڑنے سے پہلے میرے ہاتھ میں خود وہ ڈائری تھما گئیں، جس کی کھوج میں ہمیشہ ہی میں بے تاب رہی۔ اس ڈائری…

Read more