غیرت کا دامن صد چاک ۔۔۔ اور ردائے بانو

ہندوستان کے شہر دلی میں اکیس سالہ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ملزمان اخبارنویس کے سامنے پیش کیے گئے، تو سوال ہوا ’’جنسی تشدد تو چلیئے ایک طرف، قتل کیوں کردیا‘‘۔ ملزم کا منہ کیا کھلتا کہ وکیل نے آگے بڑھ کر ایک عالمانہ جواب دے دیا۔…

Read more

سوال کی حرمت کا سوال ہے

بنی نوع انسان کی تاریخ ہمیں یہ تو بتاتی ہے کہ سوال اٹھانے والوں پہ عرصہ حیات تنگ کیا گیا، مگر تاریخ ایسی ایک بھی مثال دینے سے عاجز ہے جس میں سوال کو گلا گھونٹ کے ماردیا گیا ہو۔ بات یہ ہے کہ۔!! وہ میزائل ابھی ایجاد نہیں ہوا جو سوال تک مار کرنے…

Read more

الیکشن ہوگئے!

اسے ذوالفقار علی بھٹو کی جیت سے تشبیہہ اس لیے نہیں دینا چاہیے کہ ریاستی بندوبست بھٹو کے ساتھ نہیں، ان کے مخالفین کے ساتھ کھڑا تھا۔ انتخابات میں قرعہ فال عمران خان صاحب کے نام نکلا ہے، اگلے پانچ برس بغیر کسی چوں کے اور بغیر کسی چراں کے ان کا استحقاق ہونا چاہیے۔…

Read more

جبران ناصر! تو چھا گیا ہے لڑکے

جبران ناصر جیتے گا یا نہیں، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ یہ بات تو پکی ہے کہ جوان ہارے گا نہیں۔ پاکستان ایسے دور میں داخل ہوچکا ہے جہاں جیتنے والے اور نہ ہارنے والے دوبدو ہوگئے ہیں۔ جیتنے والے وہ ہیں جو عوام کا فیصلہ نہیں مانتے۔ نہ ہارنے والے وہ ہیں جوعوام کے فیصلے…

Read more

عمران خان اگر ہارے تو کیوں ہاریں گے؟

پختونخوا میں انتخابی معرکہ سر کرنے کے بعد کپتان کو ایک موقع ملا۔ اپنے عزم کو ثابت کرنے کا۔ اپنے تجربے کی آرائش کرنے کا۔ کپتان نے مگر گھاٹے کا سودا کیا۔ انہوں نے طے کیا کہ اگلے انتخابات میں بھی اپنی خوبیوں کے ساتھ نہیں جانا۔ دوسروں کی خامیاں مجھے کافی رہیں گی۔ سارے…

Read more

حامد میر صاحب! سلام پھیریے، فلائٹ نکل رہی ہے!

حامد میر صاحب ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنہیں انیس سوننانوے میں منتخب عوامی حکومت کے خاتمے پر سجدہ شکر بجالانے کی توفیق ہوئی تھی۔ وہ چند گداگرانِ سخن جو اپنا ہنر ایک آمر کی ذات والا صفات پر وارنے نکلے تھے، حامد میر ان میں سے ایک تھے۔ مجھ جیسے نو بالغ حامد…

Read more

مرتے ہوئے پانیوں میں زندگی ڈھونڈنے والا جرمن سفیر

مارٹن کوبلر جرمن سفیر ہیں جو پاکستان میں تعینات ہیں۔ یہ سفارت کاری کی بہت خوشگوار جہتیں متعارف کروا رہے ہیں۔ سنی سنائی سے سے زیادہ وہ دیکھی دکھائی پر بھروسہ کررہے ہیں۔ پاکستان کی ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں میں ایک عام سامع کی طرح شرکت کرتے ہیں۔ عوامی مقامات پر جا کر روایات و…

Read more

محکمہ زراعت کا زرعی انقلاب اور تحریکِ چھبیس جولائی کا احیا

گزشتہ صدی کے وسط میں ہمیں فیدل کاسترو کی "تحریک ِ چھبیس جولائی" جیسی ایک تاریخی تحریک ملتی ہے۔ چی گویرا نے اپنی عملی اور انقلابی زندگی کا آغاز اسی تحریک سے کیا تھا۔ یہ ایک مسلح تحریک تھی جس کی بنیاد کیوبا کے آمر بتیستا کے جبر کے خلاف پڑی تھی۔ اس تحریک کا…

Read more

ایردگان کی کامیابی، صالحین کی خوشیاں اور سیاسی اسلام

طیب ایردگان جیت گئے۔ یہ عوام کا فیصلہ ہے اور عوام نے یہ فیصلہ ناقابل یقن رفتار سے ہونے والی معاشی و اقتصادی ترقیوں کی بنیاد پر کیا ہے۔ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ ایردگان کی جیت پر خوش ہے۔ اپنے اپنے دائرے میں سب کی خوشی سمجھ آرہی ہے، مگر صلحائے پاکستان کی خوشی…

Read more