لڑکیوں پر بری نظر ڈالنے والے

” سگنل کی لال بتی جلی اور گاڑیاں ایک ایک کرکے رکنے لگیں، اپنے ہیلمٹ کی کھڑکی اٹھائی تو اپنے آگے والے بائیک سوار پر نظر پڑی، اس کی نظریں سیدھے ہاتھ پر بڑے اشتیاق سے کسی کو گھوررہیں تھیں، ابھی میری نظریں اسی طرف جا رہیں تھیں کہ اس کے برابرمیں ایک رکشے والے کو دیکھا وہ بھی للچائی نظروں سے اسی طرف نگاہیں چپکائے بیٹھا تھا۔ تجسس انسانی فطرت ہے، سو نظریں اسی طرف اٹھائیں جہاں خلقت کو دیکھتا پایا۔

دیکھا کہ موٹر سائکل پر ایک بزرگ، نظر کا چشمہ لگائے پسینہ پسینہ گھبرائے گھبرائے کھڑے تھے، اس عمر میں بائیک چلانا واقعی مشکل ہوتا ہے، پر لوگوں کی نظروں کا مرکز وہ نہیں تھے، بے شک نہیں تھے۔

وجہ تھی، بلکہ تھیں، پیچھے بیٹھی ان کی دو صاحبزادیاں، جی دو نوجوان لڑکیاں، جو ان کے ساتھ ایک ہی بائیک پر تھیں

Read more