بینظیر اور بابا دھنکہ کے ڈنڈے

پیپلزپارٹی کے تین وزراء کو قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کی پارٹی ہائی کمان کی طرف سے ہدایت تھی، جن میں میجر جنرل (ر) نصیر اللہ خان بابر، ڈاکٹر این ڈی خان اور ڈاکٹر شیرافگن نیازی شامل تھے۔ میں تین کے اس ٹولے پر نکتہ چینی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے…

Read more

ایک بھارتی وزیراعظم کے والد پاکستانی دستور ساز اسمبلی کے رکن نکلے

This entry is part 4 of 5 in the series ایوان اقتدار کے مشاہدات

بھارتی وزیراعظم کے والد پاکستانی دستور ساز اسمبلی کے رکن تھے جب میں نواز شریف کے دوسرے دور میں وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے غیر جانبدار تحریک کی کانفرنس میں شرکت کے لیے دلی گیا تو ایک استقبالیے کے دوران میں نے وزیرِ خارجہ اندرکمار گجرال کو بتایا کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی…

Read more

جونیجو کی بدمعاشی اور نصرت بھٹو کی خواہش

This entry is part 3 of 5 in the series ایوان اقتدار کے مشاہدات

صرف میں ہی ایک بدمعاش جب اٹھائیس مئی انیس سو اٹھاسی کو جونیجو حکومت ڈسمس کردی گئی تو صدر ضیا الحق نے جونیجو کو ڈنر پر مدعو کیا اور بتایا کہ ان کی کابینہ کے چند وزرا کو نئی کابینہ میں بھی لیا جائے گا۔ اس پر جونیجو نے کہا تو کیا کابینہ میں صرف…

Read more

بھارتی ایٹمی دھماکہ، کارگل اور نواز شریف

This entry is part 5 of 5 in the series ایوان اقتدار کے مشاہدات

جب گیارہ مئی انیس سو اٹھانوے کو بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو اگلے روز کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا۔ اجلاس میں چوہدری نثار علی خان نے پاکستان کی جانب سے جوابی جوہری تجربے کی مخالفت کی۔ سرتاج عزیز، مشاہد حسین اور بیگم عابدہ حسین کے بھی یہی خیالات تھے۔ میری رائے یہ…

Read more

پاک فضائیہ نے ایک سائیکل مکینک سے جدید ترین طیارہ ٹھیک کروایا

This entry is part 1 of 5 in the series ایوان اقتدار کے مشاہدات

گوہر ایوب خان کی کتاب Glimpses into the corridors of Power ایک ایسے شخص کا تاثر دیتی ہے جس کے ہمراہ آپ کسی باغ میں ٹہل رہے ہوں اور وہ آپ کو اپنے تجربات و واقعات سے سرسری طور پر آگاہ کر رہا ہو۔ کبھی وہ سیاست پر آجاتا ہے تو کبھی ذاتی واقعات پر…

Read more

جب ایک فوجی نے بھٹو کی پٹائی کر دی

This entry is part 2 of 5 in the series ایوان اقتدار کے مشاہدات

جب ایک فوجی نے بھٹو کی پٹائی کر دی انیس سو اکہتر کے اوائل کی بات ہے جب کراچی کے ایک مشہور ہوٹل ’لا گورمے‘ میں زلفی ( ذوالفقار علی بھٹو) اپنے ایک دوست کے ہمراہ بیٹھے پی رہے تھے اور بیلے رقص سے بھی لطف اندوز ہورہے تھے۔ اس دوران لیفٹیننٹ کرنل شمس الزماں…

Read more