معذوروں کی خاموش اور اندھیری دنیا میں روشنی کا مینارہ۔ ہیلن کیلر

مہینہ تھا مارچ کا اور سال 1887۔ ہیلن کیلر کو اپنے گھر میں عام دنوں سے زیادہ گہما گہمی محسوس ہو رہی تھی۔ باورچی خانہ سے مزے دار کھانے کی خوشبو آ رہی تھی۔ اس کی ماں نے بھی اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ شاید کوئی آ رہا ہے، کوئی مہمان۔ اتنی دیر میں گھوڑے کے…

Read more

سبزی فروشی سے پدما شری ایوارڈ تک ناممکن کو ممکن بنانے والی سبھاسنی مستری

مجھے وہ لوگ دل کے بہت قریب محسوس ہوتے ہیں جو شعور کی کھلی آنکھوں کے ساتھ خواب بنتے ہیں۔ انسانیت کی بھلائی اور امن و آشتی کے جن کے آدرشوں میں وسعت اور زندگی میں مقصدیت ہوتی ہے۔

سبھاسنی مستری (Subhasini Mistry) کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔ جنہوں نے نوجوانی میں سپنوں کی جوت جگائی اور بڑھاپے میں انہیں تعبیر ہوتے دیکھا۔ ان کا یہ خواب تھا غریبوں کے لیے مفت چیریٹی ہسپتال کی تعمیر کا۔ گو خواب اور تعبیر کے درمیان سینتالیس سال کا طویل عرصہ تھا مگر سبھاسنی کی ثابت قدمی، اولوالعزمی اور انسانیت کے درد نے ناممکن کو ممکن بنایا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2018 میں پدماشری ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جو بھارت کا چوتھا بڑا شہری ایوارڈ ہے۔

سبھاسنی مستری کی زندگی کا سفر بچپنے سے ہی بڑا کڑا تھا۔ وہ بنگال کے قحط کے زمانے میں پیدا ہوئیں جب ملک میں بھوک اور موت کا بسیرا تھا۔ ان کے ماں باپ کلکتہ سے تیس کلومیٹر کے فاصلہ پہ واقع گاؤں میں اپنے چودہ بچوں اور بیوی کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی ایک معمولی زمین کے ٹکڑے پر اگنے والی کھیتی غربت کو دور کرنے اور اتنے افراد کی بھوک مٹانے کے لیے کافی نہ تھی۔ سبھاسنی کی ماں چرچ آشرم، سرکاری اداروں اورکچھ زمینداروں کے گھروں سے چاول مانگ کر بچوں کا پیٹ بھرتی۔ اس حالت میں سات بچے مر گئے۔ غربت کی وجہ سے سبھاسی بھی بارہ سال میں اپنے سے بارہ سال بڑے مزدور ”چندرا۔ “ کو بیاہ دی گئی۔ جو دو سو روپے تک کما لیتا تھا۔ تئیس سال کی عمر میں سبھاسی کے چار بچے تھے جن کا وہ ذمہ داری سے خیال رکھتیں اور بمشکل گھر چلاتیں۔

Read more

پردیس میں معمر مہاجرین کے مسائل

شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا (اسلم کولسری ) بچپن میں سنا کسی شاعر کا یہ شعر باوجود کم عمری کے میرے حافظہ میں محفوظ ہو گیا۔ شاید اس لیئے کہ عورت ہونے کے ناطے ماں بننا میرا اعزاز بھی ٹھہرا تھا۔ اولادوں سے ماؤں…

Read more

پردیس میں مردوں کے ہاتھوں عورتوں پر گھریلو تشدد

جب سعیدہ کو اس کے شوہر ریاض نے لاتیں گھونسے مارے اور پھر دھکے دے کر گھر سے نکالا تو سرمئی شام اترنے ہی کو تھی۔ ”خبردار جو دوبارہ اس گھر میں قدم رکھا۔ “ ریاض نے غصے سے ڈھارتے ہوئے دیارِ غیر کے اس واحد گھر کا دروازہ بند کر دیاجس سے وہ آشنا تھی۔ سعیدہ خاصی دیر تک باہر کھڑی گھٹی گھٹی سسکیوں کے ساتھ آنسو بہاتی رہی۔ تکلیف خوف اور بے بسی سے اس کے جسم پر لرزہ طاری تھا۔ نہ وہ اس ملک سے آشنا تھی اور نہ ہی زبان سے واقف۔

پاکستان سے امریکہ آئے اسے ابھی اسے بمشکل سات ماہ ہی گزرے تھے۔ پنجاب کے ایک گاؤں سے آٹھویں پاس سعیدہ کا شوہر یونیورسٹی کے کیمپس میں بطور پی ایچ ڈی طالبعلم رہتا تھا۔ امریکہ اس کی خوابوں کی سرزمین تھی اور خود وہ سعیدہ کے خوابوں کا شہزادہ۔ اس کے بچپن کے ٹھیکرے کی مانگ اس کا چچا زاد۔ سعیدہ جو بمشکل سال بھر پہلے اس کی بیوی بنی تھی۔ آج اپنے گھر سے باہر بے بسی کے عالم میں کھڑی تھی۔ اسی پریشانی میں اس نے اپنی کوکھ میں پلنے والے بچے کی حرکت سے ایک امید سی بندھی کہ شاید دروازہ کھل جائے اور ریاض کہے ”مجھے معاف کر دو میں غصہ میں بھول گیا تھا کہ تمہاریے جسم میں پلنے والا بچہ میرا بھی تو ہے۔

Read more

بیگم اختر کی گائیکی میں درد اور تنہائی

ناک میں ہیرے کی چمکتی لونگ، لبوں پہ سنجیدہ مسکراہٹ، ساڑھی میں لپٹا باوقار جسم، غزل، ٹھمری اور دادرا کی تانیں الاپتی، سروں کے دریا میں غرق بھلا کون ملکہ غزل بیگم اختر کے سوا اور کون ہو سکتا ہے۔ جن کی گائیکی میں ایسا جادو تھا۔ کہ اس کا توڑ کوئی نظر نہیں آتا…

Read more

آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر اور جان ایلڈر رابینسن

( جان ایلڈر کی کتاب ’’ لک می ان دی آئی‘‘ نے اسے معذوری کو سمجھنے میں مدد دی ۔) ’’آپ وہیل چئیر پر ہوں تو لوگ آپ کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کریں گے ۔ با آسانی ( آپ کی معذوری کو) قبول کریں گے ، لیکن آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر میں مبتلا لوگوں…

Read more

قانون توہین مذہب اور اقلیتی خواتین

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شمار ان ترقی پذیر ممالک میں ہے کہ جہاں باوجود اکیسویں صدی میں سانس لینے کے آج بھی نمناک آنکھوں کے ساتھ لڑکیاں بالیاں یہ بول دھراتی ہیں۔ اب جو کہو ہو داتا ایسا نہ کیجیو اگلے جنم موہے بیٹا نہ کیجیو اس اداس خواہش کی وجہ کوئی انہونی نہیں۔ سب…

Read more

پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد پسندی

وہ سال تھا 1984 کا۔ سندھ مدرسہ الاسلام (ایس ایم سائنس) کالج کراچی کے عین مقابل کا گنجان علاقہ۔ وہیں جہاں مشہور و معروف روڈ کے کشادہ مضبوط سینے پر ہر لمحہ سینکڑوں گاڑیاں گزرتی تھیں۔ یہ اسی شہرِ کراچی کا ذکر ہے جس کی آغوش پاکستان کے ہر خطے سے آنے والے مختلف النسل،…

Read more

پرویز ہود بھائی کا انٹرویو

چند برس قبل کی بات ہے 11 اور 13 مئی 1998 کو گوتم بدھ کی زمین پوکھرن (ہندوستان) میں چھ جوہری دھماکے ہوئے۔ پھر 27 اور 29 مئی چاغی بلوچستان میں پاکستان نے چھ ایٹمی دھماکے کر کے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ واضح رہے کہ یہ دونوں وہ ممالک ہیں کہ جہاں کے…

Read more

بائی پولر ڈس آرڈر اور مزاج کے بدلتے موسم

چالیس سالہ شاہد نے جو پیشے کے اعتبار سے سول انجینئر اور کراچی کے ایک متمول گھرانے کا فرد ہے، بتایا ”میری زندگی خصوصاً نوجوانی کا بیشتر حصہ یاسیت کی کیفیت میں گزرا۔ ہر صبح کالج جانا میرے لئے محال ہوتا، زیادہ تر ناغہ ہوجاتا۔ میرے ملنے والے کہتے تم بہت ”موڈی“ ہو، کبھی مزاج…

Read more