اندلسی وزیراعظم المنصور اور عمران خان کے مابین حیرت انگیز مماثلت

مسجد قرطبہ کے صحن میں بیٹھا ایک طالبعلم اپنے خیالوں میں عجیب مگن تھا، انتہا کی سنجیدگی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ اس کے دیگر دوست جو وہیں کھیل کود میں مشغول تھے، اچانک ان کی اس پر نظر پڑی۔ ایک نے اچانک سوال داغا، ”عامر تم کس دنیا میں کھو گئے ہو“؟ دوسرے نے شوخی سے کہا عامر دن کے خواب دیکھ رہا ہے۔

سنجیدگی میں ڈوبے اپنے خیالوں کے بارے میں اس نے اپنے ساتھیوں کو بتایا : ”ایک دن میں اندلس کا وزیراعظم بننے جا رہا ہوں، اندلس کو درپیش مسائل کو اپنے دور حکومت کے دوران حل کرنے کے لیے میں سوچ و بچار میں مصروف تھا“۔ یہ سنتے ہی دوستوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا۔ مستقبل کے وزیراعظم نے غصے سے انہیں چپ کرایا اور کمال شاہی جلال سے کہا کہ وہ مناصب بتاؤ جو تم لوگ میرے دورِ وزارتِ عظمی میں حاصل کرنا چاہو گے۔ ہنسی تھمی، دوستوں نے چہروں پہ سنجیدگی طاری کی اور ایک نے شہر کا قاضی بننے کی خواہش کی، دوسرے نے داروغہ بننا چاہا، تیسرے نے باغات کی نگرانی میں دلچسپی لی جبکہ چوتھے نے بدستور غیر سنجیدگی اور بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاہی جلال کو یوں غضبناک کیا : ”جب کبھی یہ انہونی ہو کہ تم بادشاہ بنائے جاؤ تو میں چاہوں گا کہ میرا چہرہ سیاہ کر کے گدھے پر بٹھا کر پورے قرطبہ کا گشت کرایا جائے“۔

Read more

پاک بھارت تعلقات اور نواز و عمران حکومتیں

نواز شریف کی الیکشن کیمپین ( 2013 ) کے منشور کا ایک مرکزی و زریں نکتہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات اور خطے میں امن کا دیرپا قیام تھا۔ یہ ان کا لا اُبالی بخار تھا نہ ہی بے وقت کا راگ، بلکہ بطور اسٹیٹسمین یہ ان کا سوچا سمجھا اور دیرینہ خواب تھا۔ اپنی…

Read more

چھوٹا آدمی ، بڑا منصب ۔ ۔ ۔ مگر کون؟

بھارت کے ساتھ مجوزہ و ممکنہ ملاقات میں ناکامی کے بعد وزیراعظم پاکستان نے غیر پارلیمانی و غیر سفارتی زبان پر مشتمل ایک غیر متوقع ٹویٹ کی، جس کی ٹرمپ کے علاوہ شاید ہی دنیا میں کوئی نظیر ہو۔ یہ ٹویٹ ہر جگہ گپ شپ اور بحث مباحثے کا موضوع بن گئی تھی۔ حکمران جماعت…

Read more

آئین و قانون کی عدم تعمیل اور ملازم بچوں کی غلامیٔ جدید

ایک دن ابنِ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کی پیٹھ پر کچھ نشانات دیکھے تو اس سے پوچھا : ”کیا میں نے تجھے یہ تکلیف پہنچائی؟ “ غلام نے جواب دیا : ”نہیں تو۔ “۔ ابن عمر نے فوراً اسے آزاد کر دیا۔ آپ نے تکلیف دی تھی نہیں، غلام کو گلہ تھا…

Read more

سوویت یونین کے ایک مسلمان جرنیل کی زندگی کی پہلی نماز جمعہ

دوسرے میلینئم کے آخری سال کے آخری مہینوں کے دوران ایک دن اسپین کے جزیرے طینیریفے میں شوروم پر کلائنٹس کے ایک سیاح جوڑے نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ روسی حلئے کی خاتون نے گلے کی گولڈ چین میں ہاتھ کی شکل کا ایک طلائی کالگینٹ ہینگ کیا ہوا تھا۔ پنجہ نما یہ چیز…

Read more

مشرق و مغرب کے استاد اور تعلیم

  بیلجئم کی لیون یونیورسٹی کے فلاسفی ڈیپارٹمنٹ میں ”فلاسفی آف سائنس“ کا اورل ایگزام تھا۔ دس سٹوڈنٹس کو پروفیسر صاحب نے بلایا ہوا تھا۔ راؤنڈ ٹیبل پر بیٹھے سب طلباء کو بیس ٹاپکس کی ایک لسٹ اور ایک رائیٹنگ شیٹ دیدی گئی۔ بعد میں پروفیسر صاحب نے ہر سٹوڈنٹ کو لسٹ میں سے ایک…

Read more

گلوبل دنیا میں امت مسلمہ اور پاکستانی

دنیا سمٹ کر گلوبل ویلیج کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ ”گلوبل ویلیج دنیا“ کی مختلف جگہوں پر مختلف رنگوں، معاشروں، علاقوں، نسلوں اور مزاہب سے تعلق رکھنے والے گروپوں کے ادغام سے نئے معاشرے جنم لے چکے ہیں۔ اور کئی دوسری جگہوں پر ایسے نئے ملٹی کلر، ملٹی ریشل، ملٹی لینگول معاشرے جنم لے…

Read more