انڈے والا بن کباب اور مرتے ہوئے انسان کی مدد کرنے کا فلسفہ

یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب قطب الدین اور ناصر بھائی پاکستان چوک پر کراچی کا مشہور انڈے والا بن کباب کھا کر ریسٹورنٹ سے باہر آ رہے تھے۔ رانگ سائڈ سے آنے والے ایک موٹر سائکل سوار نے سامنے سے آنے والے ایک ٹرک کو ذور دار ٹکر ماری (اخبار میں آپ نے یہ پڑھا ہوگا کہ ٹرک نے موٹرسائکل سوار کو کچل دیا مگر یہ فرضی واقعہ ایسے پیش نہیں آیا) ۔ ٹکر واقعی بڑی زور دار تھی اور موٹرسائکل سوار دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر زمین پر آرہا۔ ٹرک حسب معمول نو دو گیارہ ہوگیا اور قطب الدین اور ناصر بھائی جائے حادثہ کی طرف لپکے۔

قطب الدین: اوہ خدایا! کچھ کریں ناصر بھائی! چلیں اسے ہسپتال پہنچائیں۔
ناصر بھائی: ایک منٹ! ذرا حالات و واقعات کا بغور مشاہدہ کرلو۔ ایسا نہ ہو ہم کچھ غلط کر بیٹھیں۔
قطب الدین: غلط؟ کیا مطلب ناصر بھائی؟ اگر ہم نے بروقت کچھ نہیں کیا تو اس بیچارے کی جان بھی جا سکتی ہے۔

ناصر بھائی: اس شخص کی جان بچانا اتنا اہم کیوں ہے؟
قطب الدین: کیونکہ ہم ایسا کر کے خدائی فرمان پر عمل کریں گے۔ کیونکہ ایک زندگی کی اہمیت ہر شے پر مقدم ہے۔ کیونکہ یہ ہماری طرح کا ایک انسان ہے۔

Read more