غیرت پر قتل ہونے سے کیسے بچا جائے (جدید بہشتی زیور)

زیادہ مشکل نہیں ہے۔ بس چند رہنما اصول ذہن نشین کر لیں۔ 1۔ پیدا ہوتے وقت اپنی سی کوشش کریں کہ آپکا جنم بحیثیت ایک نر کے ہو۔ جوں ہی آپ ایک اولاد نرینہ کی صورت میں اس جہان رنگ وبو میں قدم رنجہ فرمائیں گے آپ کا غیرت کے پیمانے پر تول پورا مان…

Read more

پراگ کی اخلاق باختہ عورتیں اور دھان گلی کے اخلاق یافتہ مرد

حلقۂ شناسائی مختصر ہے اور حلقہ یاراں مختصر تر۔ جو ہیں وہ مردم بیزاری میں مجھ سے سوا ہیں۔ سو چھٹی کا دن بھی ”عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے“ جیسا رہا اور اس کا اگلا دن بھی یوں ہی گزرنے کو تھا کہ شام کو موسم کے کچھ سنورنے کی امید نظر…

Read more

سو سال بعد کا پاکستان

یہ نصف صدی کا نہیں، پوری صدی کا قصہ تھا۔ 1996 میں امریکی مصنف لی رٹلج کی کتاب "جب میری دادی ایک بچی تھی" شائع ہوئی۔ مصنف نے بیسویں صدی کے طلوع ہونے کے وقت امریکا کی معاشی، معاشرتی اور اقتصادی حالت کا ایک اجمالی جائزہ لکھا۔ امریکا آج بھی انسانی حقوق، معاشی مساوات اورعمرانیات…

Read more

تیرہویں برج والے اور مثبت خبر کا جال

علم النجوم کا مطالعہ کریں تو دو بڑے دل چسپ حقائق کا پتہ لگتا ہے جس سے اس ساری کہانی کی قلعی کھل جاتی ہے۔ بابلی عہد کے فلکیات دان صرف پانچ سیاروں سے آگاہ تھے اس لیے علم النجوم میں پانچ سیارے رہنما قرار پائے۔ بعد میں تین چار سیارے اور نکل آئے تو حساب تلپٹ ہو گیا اور کہانی کو ازسرنو ترتیب دینا پڑا۔ دوسری حقیقت اس سے بھی دل چسپ ہے۔ برجوں کے تعین کے لیے زمین اور سورج کی سمت کے اعتبار سے ستاروں کے جو جھرمٹ ملے، وہ تیرہ تھے پر سورج کی تین سو ساٹھ درجے میں دائروی حرکت کو تیرہ برابر حصوں میں بانٹنا ممکن نہیں تھا اس لیے ایک برج کو سرے سے ہی غائب کر دیا گیا۔

اب آپ اسے حکومتی سازش کہہ لیں۔ فلکیات دانوں کا دھوکا یا پھر حساب کتاب کی غلطی پر اگر برجوں کی تقسیم کو مان بھی لیا جائے تو یہ سارے ہاروسکوپ، یہ ساری پیش گوئیاں ایک غلط تقسیم یا غلط تفہیم کی مرہون ہیں نہ کہ ستاروں کے جھرمٹ کے صحیح تعین کی۔ یہ تیرہواں برج افیکئیس کہلاتا ہے۔ اگر آپ 29 نومبر سے سترہ دسمبر کے بیچ پیدا ہوئے ہیں تو آپ کی قسمت کا حال کوئی نہیں بتا سکتا کیونکہ منجم اس برج کو فہرست میں ڈالنا شعوری یا لاشعوری طور پر بھول گئے تھے۔ اور یہ بھی کہ آپ کو غلط بتایا گیا کہ آپ برج قوس میں ہیں۔ اب یہ کیا تماشا ہے۔ یہ بھی سن لیجیے۔

Read more

شراب، ناچ گانا، حسین لڑکیاں اور لبرل

دل تو تھا کہ تمہید باندھی جائے۔ کچھ بچپن کی تربیت سنائی جائے، کچھ جوانی کی آزمائشیں، کچھ دل ناکردہ کار کے غموں کا ذکر ہو، کچھ ان قیامتوں کا جو اب بھی گزر رہی ہیں۔ پر قصہ طویل ہو جائے گا۔ بات مختصر یہ ہے کہ دل اداس بہت ہے۔ گلہ ان سے نہیں ہے جو عقل و خرد سے عاری ہیں۔ شکوہ ان سے ہے جو صف دوستاں میں کھڑے اپنی کمان کا رخ ہماری ہی طرف کیے بیٹھے ہیں۔ نگاہیں حیرت سے ان الزامات کو تکتی ہیں جو روز آنگن میں آ گرتے ہیں۔ کوئی منطق کا مقدمہ نہیں، کوئی تاریخی روایت نہیں، کوئی فلسفے کی بحث نہیں، کوئی علمی بنیاد نہیں، اقدار کا کہیں ذکر نہیں ہے، کوئی شہادت سر منظر کیا، پس منظر بھی نہیں ہے پر فیصلے سنائے جاتے ہیں۔ روز سنائے جاتے ہیں، کمال تیقن سے سنائے جاتے ہیں۔

کہانی شاید اس دن شروع ہوئی تھی جب محترم حامد میر جونا گولڈ برگ کی لبرل فاشزم کی اصطلاح سوچے سمجھے بغیر استعمال کر بیٹھے۔ ہمارے دائیں بازو کے دانشوران ملت نے اسے اچکا اور اس کا منشور بنا ڈالا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس اصطلاح کی ایجاد کا مقصد بھی یہی تھا کہ لبرل اقدار کو بھی کسی بہانے داغدار کر کے اسی صف میں کھڑا کر دیا جائے جہاں قدامت پرست نیت باندھے کب سے اکیلے مطعون ہو رہے ہیں۔ اس اصطلاح کا سہارا لے کر قدامت پرست یہ ثابت کرنا چاہ رہے تھے کہ فاشزم کا سرا کسی بھی نظریاتی تحریک سے اٹھانا ممکن ہے۔

Read more

چورن، بنٹے والی بوتل اور نشتر

سر درد ہو تو لاکھ اینٹی بائیوٹک کھائیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فشار خون اوپر نیچے ہو جائے تو ذیابیطس کی گولی اثر نہیں کرتی۔ گردہ اپنا فعل چھوڑ دے تو ڈائلیسس کے بغیر گزارہ نہیں۔ دل کی تکلیف کے لئے کوئی الرجی کی دوا زبان کے نیچے نہیں رکھتا۔ کھانسی کا شربت جوڑوں کے…

Read more

اویس کو سیلفیوں کی نہیں ایک سچے آدمی کی ضرورت ہے

محمد اویس سے ملیے۔ اویس کراچی میں رہتے ہیں۔ پڑھے لکھے ہی نہیں ، پاکستانی معیار سے اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ سیاسیات میں ایم اے کیا ہے۔ اویس مسکلر ڈیسٹرافی نامی جسمانی معذوری سے لڑ رہے ہیں۔ اس لڑائی میں انہوں نے ہمت نہیں ہاری پر اب ان کے حوصلے کچھ شکستہ ہو چلے ہیں۔…

Read more

ظفراللہ خان کو بتانا تھا۔۔۔  

ظفر اللہ خان کا فون تھا۔ فون اٹھاتے ہی، مانو، ژالہ باری شروع ہو گئی۔ ظفرکبھی دوست ہوا کرتا تھا۔ اب بھائی ہے۔ وہ بھی سمجھ نہیں آتی کہ چھوٹا یا بڑا۔ عمومی حالت میں تو میں ہی بڑا رہتا ہوں اور اس کی محبت سمیٹتا رہتا ہوں لیکن کبھی کبھی جب اسے ناصح بننا…

Read more

انور سعید صاحب کے بیٹے! عزیز از جان گدھے

سکول میں جماعت ہشتم کے بورڈ کے امتحان کا نتیجہ آیا تو توقعات سے شاید بدتر تھا یا بہتر، یہ تو مجھے آج تک نہیں پتہ لیکن انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ سکول میں اب نہم کے پانچ سیکشنز سے لائق فائق بچوں کو چھانٹ کر الگ کرنا ہے اور ان کا ایک الگ…

Read more

احمدیوں پر لکھا جانے والا آخری مضمون

یہ بات تین دہائیوں سے زیادہ پرانی ہے۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا ہے پر پل کے دو کنارے اور دور ہو گئے ہیں۔ موسم زیادہ بے رحم ہو گیا ہے اور سوچ، برداشت اور رواداری کے سارے پرندے روٹھ کر کسی اور دیس کی جھیلوں کو مراجعت کر گئے ہیں۔…

Read more