سیاسی جمود اور طلبا تحریک کی خوشگوار لہر

پاکستان اس وقت سیاسی جمود کا شکار ہے۔ ایک نئی جماعت کے حکومت میں آنے کی بدولت اس پر تنقید الٹا تنقید کا باعث بن رہی ہے۔ 6 ماہ تک مثبت خبریں چلانے کی تنبہیہ کی جارہی ہے اور حالات کا سارا ملبہ پرانی حکومتوں پر ڈالا جارہا ہے۔ سیاسی جماعتیں، جن کا کام حزب اختلاف میں بیٹھ کر تنقید کرنا ہے وہ اپنی ذاتی فکر میں مبتلا ہیں۔ وہ جماعتیں روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور نیب کورٹ کے چکر لگاتے اپنے کیسز میں الجھی ہوئی ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، صحت، تعلیم، و دیگر ایشوز پر اختلاف کرنے والے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ صرف ایک نقطہ نظر لوگوں تک پہنچایا جارہا ہے۔ سنسرشپ کی انتہا ہے کہ سوال کرنے والوں کو نا صرف دبایا بلکہ اٹھایا جارہا ہے۔ اس ساری صورت حال کو سیاسی جمود کا نام دیا جاسکتا ہے۔

Read more

فیض فیسٹیول اور دستور زباں بندی

فیض گھر کے زیر اہتمام اس سال بھی فیض انٹر نیشنل فیسٹیول بھر پور جوش و خروش سے منایا گیا۔ اس فیسٹیول میں شرکت کے لئے پاکستان کے مسافت بعیدہ حتی کہ بیرون ملک سے بھی نامور شخصیات نے شرکت کی۔ جاوید اختر اور شبانہ اعظمی جیسے فنکاروں نے فیسٹیول کو چار چاند لگا دیے…

Read more

منشور کہاں ہے؟

عام انتخاب ایک ماہ کی دوری پر ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں ابھی بھی اسی کشمکش میں مبتلا ہیں کہ کسے ٹکٹ دیا جائے کسے نا دیا جائے۔ لوٹوں کے حصارمیں مبتلا جماعتوں نے  ابھی تک منشور دینا گوارا نہیں کیا۔  جو سیاسی لیڈران کیمپین پر نکل چکے ہیں ووٹرز کی طرف سے انہیں کھری کھری…

Read more

“پاکستان میں جاگیردارانہ سیاست کی اجارہ داری”

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس ملک کی حکمرانی چند وڈیروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور خاندانوں کی اجارہ داری سے عبارت ہے۔ اس تاریخ کا آغاز 1937 کے انتخابات سے شروع ہوگا جس میں مسلم لیگ کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اور تمام وڈیروں اور…

Read more