نانک گلی میں عید کا سا سماں

یاتریوں میں کچھ ننگے پاؤں ہیں۔ کئی پیر ٹرین سے اترتے ہی ماتھا ٹیکتے ہیں۔ کوئی احترام میں پاکستان کی جانب جھک رہا ہے تو کوئی ہاتھوں کے اشاروں سے فرض پورا کررہا ہے۔ آوازیں بلند ہوتی ہیں ’واہے گرو جی کا خالصہ، واہے گرو جی کی فتح‘ ۔ پاکستانی میڈیا کے کیمرے یہ تمام مناظر قید کررہے ہیں۔ کچھ دیر میں ہی دوسری اور پھر تیسری ٹرین لاہور پہنچتی ہے یوں 3 ہزار سے زائد سکھ یاتری پاکستان اترتے ہیں۔ جتھے دار امرجیت سنگھ اور ان کے ساتھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہیں اور پاکستان کی جانب سے سکھ کمیٹی کے پردھان (صدر) سردار تارا سنگھ نمائندگی کرتے ہیں اور یوں سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو بات کرتار پور بارڈر اور سدھو جی کی جپھی تک پہنچ جاتی ہے۔

دہلی، چندی گڑھ اور امرتسر سے آئے مہمان اپنی سرکار کو برا بھلا کہتے ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کے جذبے کو سراہا جاتا ہے۔ ویزے نہ دینے کی شکایات کے انبار لگتے ہیں اور پاکستانی میڈیا عید میلاد النبی کی نشریات میں سے یاتریوں کو بھی کچھ وقت زکوت کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ کرتار پور راہداری کھولنے کی پاکستانی پیش کش پر بھارت کی چپ پر سکھ یاتری اپنی ہی سرکار سے ناراض سے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب عمران خان اور جنرل باجوہ کی کھل کر تعریفیں کی جاتی ہیں۔ یاتریوں کو خصوصی ٹرین کے ذریعے ننکانہ پہنچایا جاتا ہے جہاں ایک دن کے وقفے کے بعد بابا گرونانک کے جنم دن کی مرکزی تقریب منعقد ہونا تھی۔ میڈیا بھی واپس ہوجاتا ہے۔

Read more

وزیر اعظم کی لاہور کے صحافیوں سے ملاقات: گفتگو اور تاثرات

یہ تیسرا موقع تھا جب وزیر اعظم عمران خان حکومت سازی کے بعد لاہور آئے اور پنجاب کابینہ کے مسلسل تیسرے اجلاس کی وزیر اعلی کے ساتھ مشترکہ صدارت کی۔ اس سے قبل پنجاب حکومت کی تشکیل اور وزیر اعلی عثمان بزدار کی کابینہ کی حلف برداری کے بعد عمران خان پہلی بار بطور وزیر…

Read more