پیوستہ رہ شجر سے، اُمیدِ بہار رکھ

گزشتہ روز کیا کیا المیے تھے کہ بپا نہیں ہوئے۔ ابھی اپنے پیارے دوست بشیر بلور کے بیٹے ہارون بلور کی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کا ماتم جاری تھا کہ جمعہ کے روز دہشت گردوں کے پے در پے حملوں میں پہلے بنوں میں ایک اور دوست اکرم درّانی کے جلسے میں درجنوں لوگ…

Read more

نعرۂ مستانہ یا پھر شہباز شریف کی کاٹھ کی ہنڈیا

چلیے سکھ کا سانس لیں وہ سیاسی عناصرجو ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی گردان سے زِچ تھے اور ووٹ کی عزت کا تمسخر اُڑائے بنا نہیں رہتے۔ اب راستے کا کانٹا صاف ہوا اور پاکستان کی تاریخ کے ’’اہم ترین انتخابات‘‘ کی راہ ہم وار ہو چلی ہے۔ تین بار منتخب وزیراعظم نواز شریف اور اُن…

Read more

پاکستان میں اقتدارِ اعلیٰ کا مالک کون؟

کبھی تو حقِ رائے دہی کا سورج طلوع ہوگا اور کبھی تو شبِ تاریک ختم ہوگی۔ بس اسی انتظار میں دہائیاں بیت گئیں۔ وہ کونسا انتخاب ہے جو پاکستان میں متنازع نہ ہوا ہو؟ یہاں تک کہ ٹریڈ یونینز اور پیشہ ور تنظیموں کے انتخابات بھی اس غیرجمہوری کلچر کی نذر ہو جاتے ہیں۔ حقِ…

Read more

ایسا احتساب کہ قابلِ احتساب ہے

کس کافر کو احتساب سے انکار ہے اور ایسا کہ کوئی قومی خائن اور راہزن بچ نہ پائے، خواہ وہ کیسی ہی کمیں گاہ میں جرم چھپائے بیٹھا ہو۔ لیکن! مملکتِ خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی نیک کام کبھی نیک نیتی سے ہوا ہے؟ آج کل سیاستدانوں اور اُن کے حواریوں کے احتساب کا…

Read more

اقبال کے نوجوان ستاروں پر کمند نہیں ڈال سکیں گے؟

حضرت علامہ محمد اقبال تو خواب دیکھتے چلتے بنے۔ ایک محبت بھرا خواب اُنہوں نے اُن نوجوانوں بارے بھی دیکھا جو خواب ہی خواب میں اُنہیں ستاروں پہ کمند ڈالتے دکھائی دیئے۔ اقبال کا خواب کیا خواب ہی رہے گا؟ اگر محترم علامہ آج زندہ ہوتے تو شاید اُنہیں ہر جانب کرگسوں کے غول کے…

Read more

مفتاح اسماعیل کی الوداعی معاشی درفنطنیاں

صدر ٹرمپ کے ہاتھوں تو نیولبرل اکنامک آرڈر تلپٹ ہوا جاتا ہے، لیکن ہمارے نابینا حافظ نیولبرل اکنامکس یا آزاد منڈی کے مغنی ہونہار مفتاح اسماعیل نے تو کمال ہی کر دکھایا ہے۔ کارپوریٹ سرمایے کے اس منیجر نے ایسے ہاتھ دکھائے ہیں کہ مارکیٹ کے بڑے کھلاڑی بھی خوش اور متعین آمدنی والے مڈل…

Read more

فاٹا کی اصلاحات: دیر کی گنجائش نہیں

نوآبادیاتی دور کب کا تاریخ ہوا۔ لیکن قبائلی علاقوں میں ابھی بھی کروفر سے جاری۔ انگریزوں کے انیسویں صدی کے غلامانہ قانونی و انتظامی ڈھانچے ختم ہونے کو نہیں۔ اگر پہلی بھٹو حکومت میں جنرل نصیر اللہ بابر کی زیرِ قیادت کمیٹی کی وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (FATA) کو صوبہ خیبرپختون خوا میں…

Read more

فیصلے سے آگے

میاں نواز شریف ابھی بھی حیراں ہیں کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ اور اب شاید وہ پوچھیں گے کہ ’’ہمیشہ کے لئے کیوں‘‘(؟) میاں صاحب پہ رحمتیں برسیں بھی تو ٹوٹ کر زحمتیں آئیں بھی تو گئیں اور اب کے لگتا ہے کہ ٹلنے کو نہیں۔ اور وہ بھی اُسی صالح سیاست کے ہاتھوں جس سے…

Read more

متاعِ لوح و قلم اور جبری گمشدگی

متاعِ لوح و قلم چھینے جانے پہ تو اب آہ و بکا کی آزادی بھی نہیں رہی تو خونِ دل میں انگلیاں ڈبو کر کہیں دبک جائیں یا پھر نوحہ کناں ہوں؟ بھلا اظہار نہ ہو تو انسان کیسا اور جمہوریہ کیسی؟ صدیاں لگی ہیں حقِ اظہار حاصل کرنے کو۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلان…

Read more