مذہبی فکر کو درپیش نئے چیلنجز!

کسی بھی سوسائٹی یا سماج میں جب الہامی راہنمائی اترتی ہے یا انسانی کوششوں اور تجربات کی بنیاد پر قانون سازی ہوتی ہے تو اس کے پیچھے کچھ بنیادی تصورات اور مفروضات ہوتے ہیں جو اس الہامی راہنمائی اور قانون سازی میں بنیادی کر دار ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ تصورات اور مفروضات ہوتے ہیں جو پہلے سے سماج میں موجود ہوتے ہیں اور الہامی راہنمائی اور قانون سازی کے وقت ان تصورات اور مفروضات کی رعایت کی جاتی ہے۔ ہر سماج اور سوسائٹی میں یہ تصورات مختلف ہوتے ہیں اور یہ اختلاف زمان و مکان دونوں اعتبار سے ہوتا ہے۔

ایک ہی زمانے میں دو مختلف معاشرے جو دنیا کے دو مختلف خطوں میں آباد ہیں ان میں بھی یہ تصورات مختلف ہوسکتے ہیں اور اگر یہ اختلاف زمانی ہو کہ ان معاشروں میں سینکڑوں سالوں کا فرق ہو تو یہ اختلاف بنیادی نوعیت کا ہوجاتا ہے۔ گویا ہر دور میں سماج میں موجود تصورات ومفروضات بدلتے رہتے ہیں۔ جب یہ صورتحال ہے تو مذہبی راہنمائی اور انسانی قانون سازی کو ان بدلتے تصورات و مفروضات کی بنیاد پر سماج کی راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم یہاں انسانی قانون سازی پر بات نہیں کریں گے کہ یہ ہمارا موضوع نہیں۔ الہامی راہنمائی کی تعبیر و تشریح علماء کا کام ہے اب علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی فکر کی راہنمائی میں ان بدلتے ہوئے تصورات و مفروضات کو مد نظر رکھیں۔

Read more

دینی قیادت کا المیہ!

انتخابات ہوچکے، کچھ لوگ مسند اقتدار سنبھال چکے، اداروں نے فیصلہ سنا دیا، تاریخ کا فیصلہ مگرابھی باقی ہے۔ اس سارے ہیر پھیر میں البتہ ایک المیہ تھا جو دینی قیادت پر گزر چکا مگر قیادت ہنوز دلی دور است کے عہد میں جی رہی ہے۔ ایک طوفان تھا جس نے سب کچھ ملیا میٹ…

Read more