سنیل حسرت کے ساتھ ایک دن

آپ دنیا کا چکر لگا لیں۔ آپ یورپ چلے جائیں۔ امریکہ چلے جائیں۔ روس چلے جائیں۔ برازیل چلے جائیں۔ کولمبیا چلے جائیں۔ نیوزی لینڈ چلے جائیں آپ کو ہر جگہ پاکستانی مل جائیں گے۔ یہ دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ یہ ذہین ہیں۔ یہ محنتی اور خوش اخلاق ہیں۔ یہ لوگوں کو اپنے اخلاق اور کام سے گرویدہ کر لیتے ہیں۔ بابا جی کی دعا سے میں نے تقریبا ساری دنیا وزٹ کی ہوئی ہے۔ بابا جی کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ یہ گگّو منڈی کے نواحی گاؤں میں رہتے تھے۔ یہ پرانی جوتیوں، کپڑوں، ٹین ڈبے کے عوض مرونڈا اور لاہوری پُوڑا دیتے تھے۔ یہ بالکل ان پڑھ تھے۔ میں ان سے گگّو منڈی میں ملا جب اپنی کلاس فیلو نسرین کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے گھر تک پہنچا تھا۔ وہاں نسرین کے بھائیوں نے مجھے کافی کُوٹا۔

اسی وقت بابا جی اپنی ریڑھی کے ساتھ گلی میں وارد ہوئے۔ انہوں نے مجھے چھڑایا، لہوری پُوڑا اور پانی کا گلاس دیا۔ میرے حواس قائم ہوئے تو بابا جی کہنے لگے، ”پُتّر، تیرے ماتھے پر مجھے حرام لکھا ہوا نظر آرہا ہے۔ تو بہت ترقی کرے گا۔ اپنی دو خواہشیں بتا، جو تو اپنی زندگی میں پوری کرنا چاہتا ہے۔ “ یہ حیران کردینے والا واقعہ تھا۔ ابھی بابا جی نے اپنا جملہ مکمل ہی کیا تھا کہ چاروں طرف سے ہلکے بادل آگئے۔ ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔

Read more

ہیرو ہیروئن کا ناک نقشہ: ایک ادبی و تحقیقی مقالہ

فی زمانہ ادب کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس میدان میں سنجیدگی کے ساتھ تحقیقی، تنقیدی اور تعمیری کام کیا جائے، ورنہ بے ادبی فروغ پاتی جائےگی جو بنیادی اخلاقیات کے لئے سخت ضرر رساں ہے۔ اسی تناظر میں ہم نے اس میدان میں پاؤں دھرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ زیر نظر…

Read more

حسین ایثار کا انٹرویو

پروگرام میں خوش آمدید۔ ہمارے آج کے مہمان مقبول کالم نویس، ڈرامہ نگار، شاعر اور دانشور جناب حسین ایثار ہیں۔ جن کے تعارف کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کا نام حسین ایثار ہے! ۔

جی۔ ایثار صاحب۔ کچھ اپنے بارے بتائیے۔

میں۔ (سگریٹ کا طویل کش لے کر خلاؤں میں گھورتے ہوئے ایک لمبا وقفہ ) میرا تعلق لائل پور سے ہے۔ انتہائی پیارا، دلآویز، حسیں، دلنشیں، دلدار، جان من شہر تھا۔ اب تو اس شہر کےنام سے جغرافیہ تک سب بدل گیا ہے۔ ڈھیٹ، بے حیا، غلیظ، منافق، واہیات، بے ہودہ، بدتمیز (منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے) ہوچکا ہے اب یہ شہر۔ ۔ میں تو۔

Read more

جارج گھسیٹے خاں آنجہانی، عارف بے ریا اور یک گونہ بے خودی

کوئی جائے اور شہباز مسیح کو بتائے؛ فقیروں کو لُوٹ کے تونگری نہیں ملتی۔ خدا اس کی قبر کو نُور سے بھر دے۔ ربع سال ہوتا ہے، جون کی تپتی صبح کو جانکاہ اطلاع ملی، جارج گھسیٹے خاں گزر گئے۔ ایسا نجیب و بے ریا آدمی۔ زمین کا نمک۔ دو دہائیوں کی سنگت رہی۔ ایک…

Read more

درد تے نئیں ہو رئی جی؟

معاملہ چونکہ ٹھنڈا پڑگیا ہے لہذا اب ہم اپنا لُچ تلتے ہیں۔ بورڈ پر لکھے ہوئے ڈاکٹر اور کپیٹن کے لفظ تو سمجھ میں آجاتے تھے لیکن بریکٹ میں لکھے ریٹائرڈ کے معنی سے شناسائی نہ تھی۔ ڈاکٹر تو خیر اب اردو کا ہی لفظ سمجھا جاتا ہے لیکن کیپٹن کے لفظ سے شناسائی، فوج…

Read more

پابی کی ڈائری

تہجّد کی ادائیگی کے دوران آنکھ لگ گئی۔ کشف کا وقت تھا۔ خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ اردوان پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ ہوائی مستقر پر گارڈ آف آنر کے بعد انہوں نے گھٹنوں کے بَل جھک کر خاں صاحب کی بیعت کی اور اعلان کیا کہ آج سے پاکستان کے سارے قرضے…

Read more

انصاف کا ترازو

یہ اکابرینِ ملّت اوربزرگانِ دین کا عکس ہیں۔ یہ ہارڈ ورک اور تقوی پر بیلیو کرتے ہیں۔ ان کی ساری لائف اونسٹی، پرہیزگاری، باکرداری اور رزقِ حلال پر بَیس ہے۔ یہ ورلڈ کپ جیت گئے۔ انہوں نے ہسپتال بنا دیا۔ یہ حمید گل سے ملے۔ وہ ایک جوہری تھے۔ انہوں نے پہچان لیا کہ یہی…

Read more

وکی پرنس، سموسے اور ساجدہ کی سیلفی

یہ زندگی سے مایوس ہوچکے تھے۔ ان کی لائف ڈپریسنگ اور پین فُل ہوچکی تھی۔ ایک ایک کرکے ان کی زندگی کی تمام خوشیاں، غموں میں بدل گئی تھیں۔ یہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے، وہ کَم سے کَڑم بن جاتا۔ ان کا سموسوں کا بزنس تباہ ہوگیا۔ ان کی ریڑھی کے بالکل سامنے ایک…

Read more

ڈیم ، چندہ اور کپتان رفاہ بن فلاحی

ارض و سما کے فیصلے گاہے اتنے سہل ہوتے ہیں کہ درویش تو کیا عامی بھی ظاہری آنکھ سے ان کو دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی جائے اور قنوطیت پرستوں کو امیّد دلائے۔ ربع صدی کا قصّہ ہے۔ درویش کے آستانے پر حاضری کا وقت ابھی دورتھا۔ چیچو کی مَلیاں وہ دھرتی جس نے خالو خلیل…

Read more

پانامہ کا ہنگامہ۔ نواز شریف، بابا رام دیو اور عمران خان

پانامہ کے معاملے میں بری طرح پھنس جانے کے بعد نواز شریف کے سامنے بچاؤ کا کوئی رستہ باقی نہیں رہا تھا۔ آخری حل یہی تھا کہ استعفٰی دینے کے بعد اقتدار شہباز شریف یا چوہدری نثار میں سے کسی کے سپرد کردیں اور نواز شریف اس پر راضی تھے ان کی شرط صرف یہ…

Read more