مجھ پر بھی کاری ضرب اِک اے آدم کی آل 

یہ گزرے کل کی بات ہے۔ انہی مہینوں کی مگر بچپن کے دنوں کی۔ جب بارش برسا کرتی تھی۔ بوندوں کے گرنے کی دیر ہوتی اور بچے اچھلتے کودتے گھر سے نکل پڑتے۔ خوب شور مچاتے جاتے، “ اللہ سائین مینھن وسا، گوڏے جیڏی گپ کر“۔ (اللہ سائیں گھٹنوں گھٹنوں بارش برسادے )۔ پھر شاید…

Read more

باکو کی باتیں

باکو کا سورج عین سر پر طلوع ہوتا ہے۔ وجہ یہ بنی ہے کہ ہوٹل کی کھڑکیاں شیشے کی ہیں اور ان پر جو جھالردار پردے لٹکائے گئے ہیں وہ مہین ہی نہیں سفید بھی ہیں۔ سورج نکلتے ہی روشنی کمرے میں آکھڑی ہوتی ہے اور اٹھے بغیر چارہ نہیں رہتا۔ ہے تو مشکل مرحلہ…

Read more

آذربائیجان میں کوئی ایمانداری کی مثال قائم نہیں کرتا 

ماہ جون کے دوران آذربائیجان کے شہر باکو میں یکایک جب موسم سرد ہو جاتا ہے تو شام جرسی میں گذارنی پڑتی ہے۔ دو تین دن تو ایسے رہے کہ ٹھنڈی ہوا نے دن بھر حکومت قائم رکھی اور وہی جرسی کام آئی۔ لیکن سچ پوچھئے تو سرد موسم کے باوجود وہاں کے لوگوں کے…

Read more