حاصل لاحاصل : وہ لمحہ !

ہرانسان اپنی دوزخ ساتھ لے کر پیدا ہوتاہے۔ زندگی گزارنے کے لیے پوری عمر کی ضرورت کبھی بھی نہیں ہوتی۔ ایک لمحہ میں پوری زندگی جینا اور کئی دہائیوں زندہ رہ کر بھی زندگی آشنا نہ ہونا مقدر کی بات ہے۔ بعض اوقات ایک لمحے کی ملاقات عمر بھر کے ساتھ میں بدل جاتی ہے اورعمر بھر کا ساتھ لمحہ بھر کی ملاقات میں گزر جاتاہے۔ عمر بھر کا حاصل کیا ہے؟ صرف ایک لمحہ۔ ! تمھارا، میرا، سب کا ایک لمحہ!

وہ لمحہ جب تم میرے سامنے درمیانی کرسی پر بائیں جانب ہلکا سا جھک کر بیٹھ گئی تھیں، سنہری بال، سنہری آنکھیں، سنہری رنگ، سنہری انگ اور سنہری تم۔ ! مجھے ایسا لگا جیسے گندم کے کھیت میں جوان ہوتی گندم کی بالیاں ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کے ساتھ لہرا رہی ہوں اور میں چاچے علی احمد کے کھیت کے باہر کھڑا، محبت، لالچ، حرص اور خوف کے ساتھ ان کوایسے دیکھ رہاہوں جیسے اگر چاچے نے میری للچائی ہوئی آنکھوں کو اپنی جوان، خوبصورت فصل کی طرف اٹھتے ہوئے بھی دیکھ لیاتو وہ اُس کوچھونے اور توڑنے کے ارادے سے پہلے ہی میری آنکھیں نکال کر میری ہتھیلی پر اور ہاتھ پاؤں توڑ کر حویلی کے ساتھ پڑے کتے کے آگے ڈال دے گا۔ یہ سوچ کر میں جھرجھری لے کر رہ گیا۔

Read more

توہین اور رسالت

توہین رسالت۔ ہوئی یا نہیں۔ گواہ نے گواہی دی یا مُکر گیا۔ تمام گواہ حاضر نہیں ہوئے۔ بیانات میں تضاد تھا کہ نہیں۔ ملزم سزا پائے گا کہ نہیں۔ قانونی معاملات قانون دان اور عدلیہ کے درمیان ہیں اور وہی اس کا فیصلہ بہتر کرسکتے ہیں۔ مسئلہ دراصل یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی توہین ہوئی ہے یا نہیں۔ توہین کرنے والا کون ہے۔ اس نے ایسا کیوں کیا۔ کسی عارضی مفاد کے لیے کیا یا مذہبی جذبات کے بار تلے۔ ہمارے ہاں بہت سے پکے مسلمان کینیڈا اور دیگر ممالک میں شہریت حاصل کرنے کے خود ہی خود پر توہین رسالت کے پرچے کرواتے ہیں۔ چند ڈالروں کی خاطر ایمان بیچ دیتے ہیں۔

آج کی اس مادہ پرست دُنیا میں۔ جہاں ملحد تو دُور کی بات اچھے خاصے خدا پرست لوگ بھی لبرلزم اور سیکولرزم کا کمبل اوڑھنے کے چکر میں خدا کے وجود کی بابت تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور اس سوچ میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ ایمان بڑی چیز ہے یا جان۔ انسان دُنیا میں بیشتر کام اپنی جان کی تسکین اور آرام کے لیے کرتا ہے۔ قتل و غارت، ڈکیتی چوری، محنت مزدوری سب کچھ راحتِ جان کے لیے مگر جہاں ایمان کی بات آجائے جان نچھاور کر دیتا ہے سوچتا ہی نہیں۔

Read more

میں ٹریفک وارڈن ہوں۔۔۔ مجھے مارو

صبح جب آپ کے اور میرے بچے ابھی سو رہے ہوتے ہیں، شہر کے امرا اور روساء ابھی گرم و گداز بستر کی سلوٹوں میں دراز ہوتے ہیں۔۔۔ میں منہ اندھیرے گھر سے نکلتا ہوں۔ میرے بچے میری بیوی سے پوچھتے ہیں۔۔۔ ماما۔۔۔ بابا نہیں آئے۔۔۔ اور وہ نیم مردہ۔۔۔ تخت رات اجڑے سہاگ والی بیوہ…

Read more