حسین نقی کون؟ اور پیپلز پارٹی کی بہادر کارکن لڑکیاں کون؟

  حسین نقی کا نام میں نے پہلی مرتبہ کراچی یونیورسٹی میں 1969۔ 70 میں اس وقت سنا جب میں نے بائیں بازو کی امیدوار کی حیثیت سے اکنامکس سوسائٹی کی نائب صدر کا انتخاب جیتا تھا۔ این ایس ایف کا جو بھی کارکن مجھے مبارکباد دینے اتا، یہی کہتا کہ حسین نقی کے سات…

Read more

فہمیدہ ریاض۔۔۔ بولڈ اینڈ جینئس

مجھے لکھنا تو کچھ اور تھا لیکن ہوا یہ کہ فہمیدہ چلی گئیں اور اب فہمیدہ کے علاوہ کسی اور کے بارے میں کیسے لکھوں۔ ساٹھ کی دہائی کے اواخر اور ستر کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں نوجوانی کے دور میں داخل ہونے والی نسل انقلاب کے رومان میں مبتلا تھی، یہ خواب دیکھنے…

Read more

ہم ادھوری عورتیں۔۔۔

برسوں پہلے عورتوں کی آدھی گواہی کا غلفلہ اٹھا تھا۔ کہا گیا کہ مالیاتی امورمیں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوگی یہ ضیاءالحق کا دور تھا۔ اس کے بعد بینظیر کا دور آیا تو پہلی مرتبہ سندھ ہائی کورٹ میں ایک خاتون جج کا تقریر ہوا لیکن بنک میں مالیاتی امور کے…

Read more

جنسی ہراسانی آخر کب تک؟

قلم قبیلے سے تعلق رکھنے کی بنا پر ہمیں الفاظ کی حرمت کا زیادہ ہی پاس رہا ہے۔ مگر توبہ کیجئے صاحب، یہ پاکستان ہے، یہاں کسی کے بارے میں کچھ بھی شائع ہو جائے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ اخبار یا کتاب کی بات تو چھوڑئیے، ان الفاظ کو آپ قانون کی شکل بھی دے…

Read more

قومی ڈیپریشن ۔۔۔۔ اور پیٹ پوجا کا جنون

ہم کھانے کے لئے زندہ رہتے ہیں یا زندہ رہنے کے لئے کھاتے ہیں؟ یہ اس زمانے کی بات ہے جب کراچی میں کون آئس کریم نئی نئی متعارف ہوئی تھی، ایک شام ہم باہر نکلے تو ہم نے اپنی بچی کو ایک کون آئس کریم دلوا دی۔ بچی ہمارے ساتھ آئس کریم کھاتی ہوئی…

Read more

عطاالحق قاسمی کا کالم اور ایک صحافی کی خود داری کا دھڑن تختہ

اٹھارہ اگست پاکستان کی تاریخ میں عمران خان کے وزارت عظمےٰ کا حلف اٹھانے کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا لیکن احفاظ الرحمنٰ اور ان کے اہل خانہ اس تاریخ کو کسی اور وجہ سے بھی یاد رکھیں گے۔ اس روز عطاالحق قاسمی نے اپنے کالم میں جہاں آزادی صحافت کے لئے احفاظ الرحمن…

Read more

سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کا استعمال

ساٹھ کی دہائی کے آخری برسوں کا ذکر ہے۔ کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لینے سے پہلے سیاست سے ہمارا تعلق خوابوں اور کتابوں کے حوالے سے تھا یعنی ہم کتابیں پڑھتے تھے اور ایک ایسے معاشرے کے خواب ضروردیکھتے تھے جو امن، انصاف اور مساوات پر مبنی ہو گا لیکن عملی سیاست کی ہمیں الف…

Read more

ایم آر ڈی، لہو میں دھمال اور کوک سٹوڈیو کا انقلاب

جمہوریت کی خاطرکوڑے کھانے والے ، بے روزگاری کا عذاب جھیلنے والے ، قید و بند کی صعوبتیں اٹھانے والے ترقی پسند ساتھی بتا سکتے ہیں کہ ضیاالحق کی آمریت کے دوران جب وہ اقبال بانو کو فیض کا یہ کلام گاتے ہوئے سنتے تھے تو ان پر کیا گزرتی تھی۔خون جوش مارنے لگتا تھا۔سرشاری…

Read more