لان کے جوڑوں اور محرم کے تقدس پر سیل لگ گئی ہے

بھولا نہیں میں آج بھی آداب جوانی میں آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا قتیل شفائی 2001 میں وفات پا چکے لیکن اس شعر میں جو کہہ گئے وہ دراصل آج کل کے سوشل میڈیائی دور سے بہت مطابقت رکھتا ہے۔ میں کم ہی کسی کو نصیحت کرتی ہوں کہ ایک تو ابھی نصیحت…

Read more

ایک تو کراچی کے اوپر سے مڈل کلاس

پچھلے ایک بلاگ میں ہم نے مڈل کلاسیوں کے المیئے بیانکیے تھے اور اب پیش خدمت ہیں کراچی کے متوسط طبقے کے المیئے جن کا نام لیوا اور پانی دیوا کوئی نہیں۔ بچپن میں ریڈیو پر گانا سنتے تھے کہ ”بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر۔…

Read more

اب تشریف لاتے ہیں استاد عمران خان صاحب

ہمارے ایک خشک مزاج ٹیچر تھے، انٹر میں میتھس پڑھایا کرتے تھے۔ الجبرا کی ہر مشق کروانے کے بعد پوچھتے تھے ”بات سمجھ آتی ہے؟“ اب ٹیچر مرد ہو اور رعب دار بھی ہو، تو ”یس سر“ کے علاوہ کوئی کیا کہے گا بھلا؟ اور چلو کسی ایک نکمے لڑکے نے کسی کونے سے نفی…

Read more

مڈل کلاسیوں کے المیے

وہ محاورہ سنا ہوگا آپ نے ”تین میں نا تیرہ میں“ یہ ہم مڈل کلاسیوں کے لئے بنا تھا۔ یعنی ایک قسم امیروں کی ہوتی ہے اور ایک غریبوں کی اور ان کے بیچ کی ایک ٹائپ ہوتی ہے عجیبوں کی۔ بلکہ آپ عجوبے بھی کہہ لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ہم مائنڈ نہیں کریں…

Read more

گجنی فلم اور ریحام خان کی کتاب

گجنی فلم دیکھی ہے آپ نے؟ اس کا ایک دلچسپ سین تھا کہ جس میں ہیروئن اپنی مشہوری کے لئے ایک فرضی کہانی بناتی ہے اور ہر ایرے غیرے ملنے والے کو فخریہ اپنی بپتا من و عن سنانے لگتی ہے کہ کس طرح ہوائی سفر کے دوران کامیاب موبائل کمپنی کا خوبرو مالک اس…

Read more

مزاح کا جنازہ

دو ماہ پہلے کا لکھا ہوا یہ ٹائٹل میرے فولڈر میں جوں کا توں پڑا تھا۔ ایک لفظ بھی مضمون کا میرے ذہن میں تھا اور نہ اندازہ کہ کیا لکھنا ہے۔ بس لوگوں کی خشک ذہنیت پر کچھ لکھنے کی جسارت چاہئیے تھی جو محترم مشتاق احمد یوسفی صاحب کے انتقال کے صدمے پر…

Read more