قوم کے مسائل ایک کراری تقریر کی مار ہیں

پرانا پاکستان تو جب سے بنا تھا اس وقت سے ہی نازک دور میں تھا لیکن نیا پاکستان بنتے ہی عوام سمجھنے لگی تھی کہ بس آنا“ فانا“ اب ملک کی قسمت بدلنے والی ہے۔ کچھ بڑے شہروں کے لوگ تو الیکشن کے اگلے دن ہی یہ سوچ کر آنکھیں ملتے ہوئے اٹھے تھے کہ صبح باہر نکلیں گے تو ہر دیوار پر عامل بنگالی اور مردانہ کمزوریوں کے اشتہارات کے بجائے ”یہ دو دن میں کیا ماجرا ہوگیا کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا“ لکھا نظر آئے گا۔ لیکن پھر لوگ ذرا حواسوں میں آئے کہ میاں دو دن میں یہاں جنگل ہرے تو نہیں ہو سکتے، دو دن میں جنگلوں میں بس آگ لگ سکتی ہے۔

Read more

لان کے جوڑوں اور محرم کے تقدس پر سیل لگ گئی ہے

بھولا نہیں میں آج بھی آداب جوانی میں آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا قتیل شفائی 2001 میں وفات پا چکے لیکن اس شعر میں جو کہہ گئے وہ دراصل آج کل کے سوشل میڈیائی دور سے بہت مطابقت رکھتا ہے۔ میں کم ہی کسی کو نصیحت کرتی ہوں کہ ایک تو ابھی نصیحت…

Read more

ایک تو کراچی کے اوپر سے مڈل کلاس

پچھلے ایک بلاگ میں ہم نے مڈل کلاسیوں کے المیئے بیانکیے تھے اور اب پیش خدمت ہیں کراچی کے متوسط طبقے کے المیئے جن کا نام لیوا اور پانی دیوا کوئی نہیں۔ بچپن میں ریڈیو پر گانا سنتے تھے کہ ”بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر۔…

Read more

اب تشریف لاتے ہیں استاد عمران خان صاحب

ہمارے ایک خشک مزاج ٹیچر تھے، انٹر میں میتھس پڑھایا کرتے تھے۔ الجبرا کی ہر مشق کروانے کے بعد پوچھتے تھے ”بات سمجھ آتی ہے؟“ اب ٹیچر مرد ہو اور رعب دار بھی ہو، تو ”یس سر“ کے علاوہ کوئی کیا کہے گا بھلا؟ اور چلو کسی ایک نکمے لڑکے نے کسی کونے سے نفی…

Read more

مڈل کلاسیوں کے المیے

وہ محاورہ سنا ہوگا آپ نے ”تین میں نا تیرہ میں“ یہ ہم مڈل کلاسیوں کے لئے بنا تھا۔ یعنی ایک قسم امیروں کی ہوتی ہے اور ایک غریبوں کی اور ان کے بیچ کی ایک ٹائپ ہوتی ہے عجیبوں کی۔ بلکہ آپ عجوبے بھی کہہ لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ہم مائنڈ نہیں کریں…

Read more

گجنی فلم اور ریحام خان کی کتاب

گجنی فلم دیکھی ہے آپ نے؟ اس کا ایک دلچسپ سین تھا کہ جس میں ہیروئن اپنی مشہوری کے لئے ایک فرضی کہانی بناتی ہے اور ہر ایرے غیرے ملنے والے کو فخریہ اپنی بپتا من و عن سنانے لگتی ہے کہ کس طرح ہوائی سفر کے دوران کامیاب موبائل کمپنی کا خوبرو مالک اس…

Read more

مزاح کا جنازہ

دو ماہ پہلے کا لکھا ہوا یہ ٹائٹل میرے فولڈر میں جوں کا توں پڑا تھا۔ ایک لفظ بھی مضمون کا میرے ذہن میں تھا اور نہ اندازہ کہ کیا لکھنا ہے۔ بس لوگوں کی خشک ذہنیت پر کچھ لکھنے کی جسارت چاہئیے تھی جو محترم مشتاق احمد یوسفی صاحب کے انتقال کے صدمے پر…

Read more