لکھاری یا روگی بنانے والے گھناؤنے کردار

میں لفظوں میں زندہ رہتی ہوں، لفظ پہننا اور اوڑھنا اچھا لگتا ہے۔ یہ جو اخبار ہیں نہ، یہ میرے ہر درد کی دوا ہیں، سر کے نیچے رکھتی ہوں توسردرد ختم ہو جاتی، کمر کے نیچے رکھ لوں تو سکون ملتا ہے۔ انہیں نہیں پتہ کہ یہ لفظ میرے لیے کیا ہے۔ روبینہ پروین شکوہ کناں نظروں سے فرح ہاشمی، ڈاکٹر ثمینہ اور میری طرف دیکھ کر کہہ رہی تھی۔ وہ بول رہی تھی اور میری آنکھیں سے آنسو مسلسل رواں تھے۔

وہ چوبرجی چوک میں ایک جھگی میں رہنے لگی تھی، ذہنی توازن بگڑ گیا تھا۔ کوئی کب تک سہہ سکتا ہے، آخر تھک جاتا ہے۔ وہ بھی تھک گئی مسلسل ظلم سہہ سہہ کر۔ نکل آئی گھر کی چاردیواری سے ننگے سر اور برہنہ پا۔ کسی نے موسم کی شدت سے بچانے کے لیے جہاں سوئی ہوئی تھی، وہاں چادر ٹانک دی، جو دیکھتے دیکھتے جھگی بن گئی۔ اردگرد دکاندار اچھے تھے۔ اس کے کھانے پینے کا خیال رکھنے لگے، بیمارہوتی تو دوا لا دیتے، یوں وہ اس جگہ کا حصہ بن گئی۔ وہ کون تھی، کہاں سے آئی تھی، کوئی نہیں جانتا تھا۔

Read more

اللہ تیرے نام

شاید ہم بدل گئے ہیں یاخود نمائی کے خود غرض نما کلچر نے مذہبی لبادہ اڑھ لیا ہے، ہمیں گیارہویں کی دیگیں، ہر سال عمرہ، حج، پانچ کی جگہ سات نمازیں پڑھنے کا شوق ہے کہ ماتھے کا محراب اللہ کو بہت پسند ہے، آقا دو جہاں ﷺکی محبت میں میلاد کی محافل سجانے، نعت…

Read more

بونے کبھی بڑے نہیں ہوتے

بچپن سے اب تک کئی ایسی فلمیں دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں چھوٹے قد کے افراد یا تو مرکزی کرداروں کے مددگار روپ میں دکھائی دیتے یا پھر انہیں برائی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ تاہم بہت کم فلموں میں انہیں مثبت کردار میں پیش کیا گیا، یہی تاثر ناولوں میں بھی دیا گیا۔…

Read more

عطا الحق قاسمی اور میرا مستقبل

ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے معروف کالم نگار عطا الحق قاسمی کی بطور ایم ڈی اور چیئرمین پی ٹی وی تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے، انہیں کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے تاحیات نااہل قرار دیا ہے۔عطا الحق قاسمی کو گذشتہ دورِ حکومت میں سرکاری ٹی وی چینل، پی ٹی وی کا…

Read more

خواتین کے لیے دوہرے معیار کا نیا پاکستان

پاکستان کے صوبہ کے پی میں نیا پاکستان تو دوہزار تیرہ کے انتخابات کے وقت ہی بن گیا تھا جس کی بھینٹ دوہزار اٹھارہ میں باقی پاکستان کی صورت میں دی گئی۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے جو سیاسی کلچر متعارف کروایا اس کے نتائج سیاسی عدم برداشت کی صورت میں ہمارے سامنے موجود…

Read more

بیویوں کے سہارے ترقی کے خواہشمند ذلتوں کے مارے لوگ

معاشرتی زندگی میں کچھ افراد کے کڑوے سچ پورے معاشرے کی مجموعی سوچ کا احاطہ کرتے نظر آتے ہیں ۔ جنہیں اجتماعی طور پر تسلیم کرنے کے لیے بہت جرات اور بہادری کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارے ہاں ناپید ہو چکی ہے۔سب سے اہم ترین سچ کہ ہم جیسے ہیں ویسے نظر نہیں آتے،اپناسچ…

Read more

سیاسی تربیت اور خالی پیپے

جمہوری نظامِ ہائے حکومت میں سیاسی جماعتیں کلیدی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ جمہوریت کی نشوونما انہی کی کاررکردگی اور قیادت سے نتھی ہوتی ہے۔ اگر کسی سیاسی جماعت کے پاس ملک گیر مقبولیت، ذمہ دار اور دیانت دار قیادت، ملکی و قومی اُمنگوں کے منشور ونظریات ہوں تو وہ ملک جمہوری روایتوں کا امین…

Read more

مائیکروفکشن میں عقیل عباس کی ’دلہن‘۔

ڈی ایچ لارنس لکھتے ہیں ’کسی نئی آواز کو سننا مشکل ہے اتنا ہی مشکل جتناکہ کسی انجانی بولی کو سننا۔ کیونکہ دنیا ڈر کے مارے نئی آواز کو نہیں سنتی، کیونکہ دنیا اگر کسی بات سے ڈرتی ہے تو وہ ہے نیا تجربہ، اور اس کیوجہ یہ ہے کہ ایک نیا تجربہ بہت سے…

Read more

قابلیت، نا اہل حسینہ اور ٹھرکی ماحول

جدید دور کی معاشی جد و جہد نے، آج ان پڑھ عورت سے لے کر اعلیٰ تعلیم یافتہ عورت کو بھی گھر کی چار دیواری سے باہر آنے اور اس معاشی دوڑ کا حصہ بننے پر مجبور کر دیا ہے، جو جدید طرز زندگی کے حصول کی جانب جاتا ہے۔ گھر کے معاشی حالات بھی…

Read more

جدید کتے – ایک تمثیل

انسانی جبلت بھی ناقابل فہم ہے۔ بنیادی طور پر جدید دور کا انسان خود غرض ہے اور اس کے تعلقات کی نوعیت اس کے مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ وہ انا پرست بھی ہے اور اپنی انا کی تسکین کے لیے ہر ممکن کوشش کرتاہے۔ چاہیے دوسروں کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے۔ آپ…

Read more