راوی کا جسڑ پل، ڈیشنگ سیکنڈ لفٹننٹ اور کالا پٹھان

سن 1967 کے آخر کی بات ہے ایک دن ہماری یونٹ بیس بلوچ کے چند افسر دوپہر کے کھانے کے بعد میس میں بیٹھے خوش گپیوں میں مشغول تھے۔بات چھڑی یونٹ میں افسروں کی کمی اور کام کی زیادتی کی۔ لفٹننٹ زاہد یاسین (بعد میں میجر' ستارۂ جرأت اور اب مرحوم) کہنے لگے قرائن کے…

Read more

قصہ دو پُلوں کا: چٹاگانگ کا لیفٹنٹ اور چنیوٹ کا ایگزیکٹو انجنیئر

ہمارے ایک بزرگ دوست ہیں۔ یعنی ہم سے بھی ’بزرگ‘۔ اللہ کے فضل سے سنچری مکمل کرنے والے ہیں۔ (خدا کرے ’ناٹ آؤٹ ’ ہی رہیں) ریلوے سے چیف انجنیئر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ نہایت وضعدار اور نستعلیق۔ ملتے ہی پہلا سوال ہوتا ہے تو آپ اپنی کلاس فیلوز سے مل آئے؟ اور اگلا…

Read more