ٹیلی فون

جن دنوں میں صیدون کے مشرق میں ایک بلند مگر خشک پہاڑی علاقے میں واقع ’مغدلونہ‘ نامی ایک چھوٹے سے لبنانی گاؤں میں بڑا ہو رہا تھا تو ’وقت‘ کی کسی کے لیے کوئئی خاص اہمیت نہ تھی ما سوائے ان لوگوں کے جو قریب المرگ ہوتے تھے یا پھر وہ جو کسی عدالت کے باہر حاضری کے لیے انتظار کر رہے ہوتے تھے کیوں کہ انہوں نے کہیں زمین پر حد بندی کے نشانات کی خلاف ورزی کی ہوتی تھی۔

اس زمانے میں واقعتا گھنٹوں دنوں مہینوں اور سالوں کا حساب رکھنے کے لیے کسی گھڑی یا کیلنڈر کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ہمیں پتہ ہوتا تھا کہ ہم نے کون سا کام کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے عراقی مرغابیوں کو پتہ ہوتا تھا کہ انہوں نے کب شمال کو پروازکرنی ہے کیونکہ صحرا سے اٹھنے والی گرم ہوا انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیتی تھی یا پھر بھیڑوں کو یہ علم ہوتا تھا کہ انہوں نے کب اپنے گیلے گیلے میمنوں کو جنم دینا ہے جو مارچ کی سخت سرد ہوا میں اپنی کانپتی ہوئی کمزور ٹانگوں پر بمشکل کھڑے ہوتے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ وہ کہاں آگئے ہیں اور اگر آ ہی گئے ہیں تو انہیں اب کیا کرنا ہے۔

Read more

ایک دیوانی لڑکی فروا اور بیوی

اتوار کی صبح میری آنکھ کال بیل کی آواز سے کھلی تھی۔ کمرے میں دن کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ میں نے کمبل میں سے ہاتھ نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی گھڑی کو اپنی طرف کیا۔ ساڑھے نو بج چکے تھے۔ میں نے مڑ کر عاشی کی طرف دیکھا۔ وہ مدہوش سوئی پڑی تھی۔…

Read more

متر پیارے نوں۔۔۔ حال مریداں دا کہنا

اس نے جب کار کو بڑی سڑک سے اتار کر بائیں طرف جانے والی کچی سڑک پر ڈالا تو اس کی نظر یونہی کلائی کی گھڑی پر پڑ گئی۔ دن کے دس بجنے والے تھے۔ مئی کا آغاز تھا اور صبح کا وقت لیکن دھوپ ابھی سے چربی پگھلا رہی تھی۔ سورج کے جلال کا…

Read more

کمانڈو سپاہی، محبت کا شاعر اور داود بانڈہ کا بھیڑیا

چاروں طرف پھیلے ہوئے سیاہ سنگلاخ پہاڑوں کی چوٹیوں پر صبح کی ابرق سفیدی اترنے لگی تھی۔ رات کی منجمد ہوا اب دھیرے دھیرے پگھل رہی تھی۔ ایک طویل خونیں جنگ کے بعد بالآخر ہم داود بانڈہ کی چوکی کو دشمن کے قبضے سے چھڑانے میں کام یاب ہو گئے تھے۔ دشمن اب پسپا ہو…

Read more

گمشدہ محبت کی بے آواز صدائیں

خلاف توقع نیو ٹاون کا مکان نمبر 159۔ بی ڈھونڈنے میں ہمیں کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں آئی تھی۔ کوئی ایک گھنٹہ پہلے جب میں نے رشدہ کو اس کے ڈیفنس کے بنگلے سے پک کیا تھا تو میں نے شہر کے مضافات میں واقع نیوٹاون کا صرف نام سن رکھا تھا۔ سارا راستہ میں…

Read more

اسکول کی دہلیز پر ملاقات

جب میری نظر پہلی بار اس پر پڑی تو وہیں جم کررہ گئی تھی۔ بلا شبہ وہ بہت ہی خوبصورت تھا۔ اسے دیکھ کر جو پہلا خیال مجھے آیا وہ یہی تھا کہ میں آدمی ہو کر ٹھٹک گیا ہوں پتہ نہیں عورتیں اسے دیکھ کر اپنے دل کیسے سنبھالتی ہوں گی۔ وہ اس جگہ…

Read more