مغرب کی ترقی کا راز

25 نومبر 1835 کو سکاٹ لینڈ میں ایک جولاہے کے یہاں بیٹا پیدا ہوا جس نے اپنے سفر کا آغاز بہت ہی سخت حالات میں کیا تھا۔ جس کی وجہ سے اسے اپنی تعلیم ابتدا میں ہی چھوڑنی پڑی تھی۔ بہتر مستقبل کی خاطر اس نے امریکہ ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا جہاں اس نے ریاست پینسلوینیا کو اپنا مسکن بنایا۔ بہت کوششوں کے بعد اُسے 1.25 ڈالر فی ہفتہ ایک کپاس کی فیکٹری میں نوکری مل گئی۔ لیکن یہ رقم اس کے لئے ناکافی تھی اس نے اس پہ اکتفا نہیں کیا۔ وہ مسلسل محنت اور لگن کے ساتھ کام کرتا رہا اور اس طرح اسے پینسلوینیا ریل روڈ کے سپرنٹنڈینٹ کے پاس ٹیلی گراف آپریٹر کے طور پر کام مل گیا۔ وہ مسلسل محنت کے بعد 1859 میں خود سپریڈینٹ بن گیا جہاں اس نے چھوٹے پیمانے پر بزنس کا آغاز کردیا۔ اس چھوٹے بزنس مین کا نام تھا اینڈریو کارنیگی۔

Read more

ایک سکّے کے دو رُخ—-منڈیلا اور موگابے

تاریخ میں کچھ راہنما ایسے ہوتے ہیں جو قوم کی تربیت کو طاقت پر فوقیت دیتے ہیں، اُن کے لیے اقتدار سے زیادہ اہم اقدار ہوتے ہیں۔ وہ اپنی شخصیت اور توانائیوں کو قوم کی تربیت کے لیے صَرف کر دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے صفحات میں اُن کا نام سونے کے حروف سے لکھا جاتا ہے، اور اُسی وقت کچھ راہنما ایسے ہوتے ہیں جو اقتدار سے چمٹے رہنے کو ہی اپنی جیت سمجھتے ہیں، اُن کے لیے اقتدار کا حصول ہی انقلاب ہوتا ہے وہ اپنے سارے اقدار اور اپنی سالوں کی محنتوں کو حصولِ اقتدار پر قربان کر دیتے ہیں اور نتیجتاً وہ اپنی قوموں کو جہالت کے اندھیروں میں جھونک دیتے ہیں۔

Read more

ہمارے معاشرے کا دردناک پہلو—-خوشامد

انسان کی بدنصیبی کی انتہا غلامی ہے. اور جہاں غلامی کی بہت ساری شکلیں ہیں وہاں غلامی کی بدترین شکل جسمانی نہیں پر ذہنی غلامی ہے. کوئی بھی وجود جسے قدرت نے کُھلی فضاؤں میں سانس لینے کا پیدائشی حق دیا ہے وہ فطرتاً کسی کے تابع رہنا پسند نہیں کرتا. ذہنی غلامی کسی بھی…

Read more

ہماری زندگی کا اہم حصہ: چائے

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ہوش سنبھالتے ہی بلکہ یوں کہا جائے تو بجا ہوگا کہ ماں کی آغوش سے ہی بچا چائے کی خوشبو سے مانوس ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ چاہے گرمیوں میں چلچلاتی دھوپ ہو یا دسمبر کی سرد تھرتھراہٹی ہوائیں، چائے کے ذائقے کے بغیر زندگی ادھوری ہی سمجھی جاتی…

Read more