حرام جادی – اردو کے شاہکار افسانے

دروازہ کی دھڑ دھڑ اور ”کواڑ کھولو“ کی مسلسل اور ضدی چیخیں اس کے دماغ میں اس طرح گونجیں جیسے گہرے تاریک کنوئیں میں ڈول کے گرنے کی طویل، گرجتی ہوئی آواز۔ اس کی پر خواب او نیم رضا مند آنکھیں آہستہ آہستہ کھلیں لیکن دوسرے لمحہ ہی منہ اندھیرے کے ہلکے ہلکے اجالے میں ملی ہوئی سرمہ جیسی سیاہی اس کے پپوٹوں میں بھرنے لگی اور وہ پھر بند ہو گئیں۔ آنکھوں کے پردے بوجھل کمبلوں کی طرح نیچے لٹک گئے اور ڈلوں کو دبا دبا کر سلانے لگے لیکن کان آنکھوں کی ہم آہنگی چھوڑ کر بھنبھنا رہے تھے۔ وہ اس سحر خیز حملہ آور کی تازہ یورش کے خلاف اپنے روزن بند کر لینا چاہتے تھے اور پھر بھی بھنبھنا رہے تھے۔

امید و بیم کی یہ کشمکش جسے نیند شاید جلد ہی اپنے دھارے میں غرق کر لیتی، زیادہ دیر جاری نہ رہی۔ اب کے تو دروازہ کی چولیں تک ہلی جا رہی تھیں اور آوازیں زیادہ بے صبر، بے تاب، کرخت اور بھرائے ہوئے گلے سے نکل رہی تھیں۔ ”کھولو کھولو۔ “ یہ آوازیں پتلی، نوک دار تتلیوں کی طرح دماغ میں گھس کر نیند کے پردوں کو تار تار کیے دے رہی تھیں۔ وہ یہ بھی سن رہی تھی کہ پکارنے والا کھولو۔ کھولو کے وقفہ کے درمیان آہستہ ناخوشگوار ارادوں کا اظہار بھی کر دیتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ کوئی شخص اسے سڑک کے ڈھیلوں کو استعمال کرنے کی ترغیب دے رہا تھا۔ آخر اس نے آنکھیں پوری کھول دیں اور ہاتھوں کو چارپائی پر جھٹکتے ہوئے کہا۔ ”نصیبن دیکھو تو کون ہے؟ “

Read more