جنرل نیازی کا پستول اور قومی مفاد

دسمبر کی ایک رات تھی۔ صلاح الدین کمپنی کے لان کے باہر پوری پلاٹون کھڑٰی تھی۔ عمومی طور پہ سردیوں میں اس طرح کا اجتماع، موزے، جوتے اور قمیض سے بے نیاز ہوا کرتا ہے مگر ہمیں حکم تھا کہ پی ٹی کٹ، پل اوور، ٹریک سوٹ اور جتنے کپڑے اس کے اوپر پہنے جا سکتے ہیں، پہنے جائیں تا کہ وزن کم کرنے میں مدد مل سکے۔  جونہی سینئیر جنٹلمین کیڈٹ نے کارپورل کو تمام لوگوں کے حاضر ہونے کی خبر سنائی۔  طویل قامت کارپورل میں کوئی اور ہی روح حلول کر گئی۔ وہ گرجے

Gen Niazi s pistol is still at Indian Military Academy. Who will bring it back?

(جنرل نیازی کا ریوالور بھارت کی ملٹری اکیڈمی مین رکھا ہے۔ تم میں سے کون اسے واپس لائے گا؟)

Read more

سلیم لنگڑے پہ مت رو

کنگز کالج میں وہ سب کچھ ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی لفظی اور لغوی تعریف کے زمرے میں آتا ہے۔ بڑی بڑی راہداریاں، خاموش سیڑھیاں اور حشمت کے قدیم نشان۔ دیوار کی ایک طرف ورجینیا وولف کو اپنا لیا گیا ہے اور دوسری طرف ہگز بوسن والے پیٹر ہگز کی تصویر ہے۔ حالات کے ایک مختصر…

Read more

محمد حنیف کا نیا ناول ”ریڈ برڈز“

انیس بھائی، ہماری زندگیوں میں فقط پھوپھو کے بیٹے نہیں تھے بلکہ ان زمانوں میں وہ سب کچھ تھے جس کے لئے آج کل تقریبا ڈیڑھ درجن سپر ہیروز درکار ہیں۔ کربلا کے بعد بیبیوں پہ کیا بنی، لیاقت علی خان کو گولی کیوں ماری گئی، قدیر خان کیسے امریکہ کی تمامتر ٹیکنالوجی کے باوجود زندہ بھی ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں، یہ سب باتیں ہمیں انیس بھائی بتاتے تھے۔ بس یوں سمجھیں کہ ہمارے لئے ان کی کہانیاں، تاریخ تھیں اور ان کے خیالات، تعلیم۔

پھر ایک پربھات کے بعد یہ سب بدلنا شروع ہو گیا۔ ہلکی ہلکی سردی کے سبب، چھت پہ سونا موقوف ہو چکا تھا سو انیس بھائی کے ٹاک شوز بھی اگلی گرمیوں تک ملتوی قرار پائے تھے، لیکن اب وہ اکثر اپنی بیٹھک کے سامنے، ہمارے سوئی گیس والے پائپ پہ قدم جما کر بتاتے کہ روس، افغانستان میں بہت ظلم کر رہا ہے، اگر اسے افغانستان میں نہ روکا گیا تو یہ جنگ ہماری گلیوں تک آ جائے گی۔ میں سوچنے لگتا کہ سرفراز کالونی کی گلی نمبر چھ میں روسی سپاہی، ٹینکوں سمیت کیسے پہنچیں گے جب کہ یہاں تو کرولا بہت مشکل سے آتی ہے۔ کچھ دن بعد سکول سے گھر آیا تو دادی، چار موم کے دوپٹے سے آنکھیں پونچھ رہی تھی۔ پتہ چلا انیس بھائی فوج میں جا رہے ہیں۔

Read more

پانی مر رہا ہے

آکسفورڈ کے ڈاکٹر فیصل بتا رہے تھے کہ نیورالوجی کی اپنی ایک دنیا ہے۔ کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں کہ بینائی کھونے کے باوجود ضد کرتے ہیں کہ انہیں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں کبھی کبھار ڈاکٹر، ان کے تیقن کی بنیاد پہ انہیں واپس جانے کی اجازت بھی دے دیتا ہے مگر…

Read more

نوناری صاحب سے سوال ہے

یہ ایک لمبی مسافت ہے۔ تھکا دینے والی، مستقل بے یقینی سے منسلک۔ آپ ستمبر میں کاغذ بھجواتے، ایک ابتدائی طبی معائنہ کیا جاتا، اکتوبر کی آخری تاریخوں میں امتحان ہوا کرتے، دسمبر کے وسط میں انٹرویو ہوتا پھر ایک تفصیلی طبی معائنہ ہوتا اور اگر آپ ان سب مراحل میں کامیاب ہوئے ہوتے تو…

Read more

سروور کی رنگین مچھلیوں کو جان کا خوف نہیں ہے

گریندر پال سنگھ جوسن کی درخواست تھی کہ میں پشاور کے کسی چرنجیت سنگھ سے سر پہ اوڑھنے والے رومال وصول کروں اور ریاض صاحب تک پہنچا دوں جو امریکہ میں ان کے ہمسائے تھے اور ان دنوں پاکستان میں تھے۔ میں نے چرنجیت سنگھ کو فون کیا تو انہوں نے میرے لہجے میں سفر…

Read more

جب ہیر، باہو، چندر بھان اور عبدالسلام سے جھنگ چھوٹا

جھنگ کی زرخیزی کو وقت کے علاوہ بھی کوئی کلر چاٹ رہا ہے۔ جس مٹی سے صوفی سرشار ہوئے ، وہاں قبروں کے کتبے اکھاڑنے کی نوبت کیونکر آئی۔ یہ شہر جیسا تھا ویسا کیوں نہیں رہا اور جیسا ہے ویسا کیوں ہے، اس سوال کے جواب میں اور بھی بہت سے جواب پوشیدہ ہیں۔…

Read more

صوبے دار شبیر، منظور پشتین اور سرخ جھنڈی

شبیر صاحب، ایک ایسے حوالدار تھے جن کی فراست اور نقشہ بینی پہ کرنل صاحب کو پورا اعتماد تھا۔ ان کی دو باتیں مجھے کبھی نہیں بھولتیں، گرقستان اور لال جھنڈی ۔ پنوں عاقل میں سال کے تین موسم ہوتے تھے۔  گرمی، مزید گرمی اور شدید گرمی۔ 2003 کی گرمیوں کا موسم، 2003 کی مزید…

Read more