ناول ”ہے“ کیا ہے؟

آپ کسی بھی اتھیسٹ کے سامنے اس ناول کے علم سے فاتح ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ”کائنات کی اتنی بڑی تخلیق، اور وہ بھی اتنی مکمل۔ کیا ایک بگ بینگ سے وجود میں آگئی۔ وہ بھی اس مفروضہ پر کہ گیسیں اوّل سے موجود تھیں۔ نہیں نہیں۔ انسان سے کہیں بھول چوک ہوئی ہے۔ انسان آج جو کہتا چلا آ رہا ہے۔ کہ سب کچھ خود بخود وجود میں آگیا۔ اس کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے“۔ ہماری رائے میں یہ ناول ہر ایک کے لیے ہے۔ علمائے دین اور طالب علموں خاص طور پر اُن طلباء کے لیے جو تقابل ادیان کے مباحث سے دل چسپی رکھتے ہیں۔

Read more