ملے گی اُس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ

نہیں! بیورو کریسی ہشت پا نہیں! یہ آکٹوپس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ آکٹو پس کو مار سکتے ہیں۔ یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔ بیورو کریسی پیرِتسمہ پا ہے ؎ ہشیار! کہ پیرِ تسمہ پا ہے یہ ضُعف سے کانپتا زمانہ بیورو کریسی تحریکِ انصاف کی گردن پر سوار ہے۔ ٹانگیں گلے میں حمائل کیے۔…

Read more

ایک بار پھر بُلا لیجیے!

قطار طویل تھی اور صبر آزما! ہم انچوں کے حساب سے آگے بڑھ رہے تھے سب کچھ نہ کچھ زیر لب پڑھ رہے تھے۔ کچھ حمدو ثنا‘ کچھ درود شریف، کچھ کلام پاک کی تلاوت کرتے جا رہے تھے۔ پھر بائیں طرف جالیاں دکھائی دیں۔ زردی مائل سنہری جالیاں‘ دائیں جالی پر جلی حروف میں…

Read more

قافلوں کے غبار میں مٹی کا ایک ذرّہ

نور کے قافلے رواں ہیں۔ ہزاروں لاکھوں قافلے۔ چہار دانگِ عالم سے! مشرق سے اور مغرب سے۔ شمال سے اور جنوب سے! ان قافلوں کے غبار کا ایک ذرّہ یہ کالم نگار بھی ہے۔ ایک حقیر ذرہ۔ ان قافلوں کے مسافروں کے جوتوں پر پڑا ہوا ایک ذرّہ۔ مگر کیا اس سے بڑا بھی کوئی…

Read more

چوائس ہمارا اپنا ہے!

آپ اس طبقے کی طاقت اور دیدہ دلیری کا اندازہ لگائیے ۔کھرب پتی وفاقی وزیر کو وسیع و عریض فارم حاصل کر کے بھی چین نہ آیا۔ چنانچہ انہوں نے ساتھ پڑی ہوئی سرکاری زمین پر قبضہ کر لیا۔ پریس کا کہنا ہے کہ یہ قبضہ کئی کنال پر مشتمل ہے۔ جبکہ وزیر صاحب نے…

Read more

تین نحوستیں جو خم ٹھونک کر سامنے کھڑی ہیں

یہ جو گائے کا معاملہ ہوا ہے اور وفاقی وزیر اعظم سواتی کا اور آئی جی کے تبادلے کا اور مارپیٹ اور تھانے کچہری کا… تو اس سے ایک بار پھر وہ تین نحوستیں، لباس اتار کر، برہنہ حالت میں، قوم کے سامنے آ گئی ہیں جو ستر برس سے کالے بادلوں کی طرح چھائی…

Read more

چھوٹے دن اور لمبی رات

کوئی تختِ حکومت پر ہو یا تختۂ دار پر رُت کسی کا انتظار نہیں کرتی۔ وقت بے نیاز ہے۔ اسے کیا پرواہ کہ ؎ کسی سے شام ڈھلے چھِن گیا تھا پایۂ تخت کسی نے صبح ہوئی اور تخت پایا تھا جاڑے کی آمد آمد ہے۔ ناصر کاظمی نے کہا تھا ؎ پھر جاڑے کی…

Read more

بھیڑیں!کالے رنگ کی بھیڑیں!

لیڈروں کو ناکامی سے دوچار کرنے والوں کے دوسر اور تین ٹانگیں نہیں ہوتیں۔ وہ اسد عمر جیسے ہی ہوتے ہیں۔ رئوف کلاسرہ نے جو کچھ بتایا ہے اگر وہ سچ ہے تو وزیر اعظم پر لازم تھا کہ اب تک اسد عمر سے اس ’’بندہ پروری‘‘ کا سبب پوچھ چکے ہوتے ۔اگر غلط ہے…

Read more

خوش خرامی یا برق رفتاری؟

لڑکا بگڑا ہوا تھا۔ برسوں کا بگڑا ہوا، کھیل کود کا عادی، پڑھائی سے متنفر، کبھی گھر سے بھاگ جاتا، کبھی مکتب سے، کبھی کسی لڑائی میں ملوث، کبھی کسی کو پیٹ کر آتا، کبھی آتا تو سر پر پٹی بندھی ہوئی۔ ماں باپ کا بخت اچھا تھا۔ استاد وہ ملا جو حکومت پر نہیں…

Read more

کیا اس زہر کا بھی کوئی علاج کرے گا؟

پانی جو جھیلوں‘ دریائوں اور سمندر میں تھا۔ گلی کوچوں میں آ گیا ہے۔ سیوریج کا غلیظ بدبودار پانی بھی اس میں شامل ہو گیا ہے۔ کوڑے کے ڈھیر پانی میں تحلیل ہو رہے ہیں۔ گھروں سے باہر آنے والا متعفن پانی اس میں مزید شامل ہو رہا ہے۔ہر لمحہْ ہر گھڑی! بدبو میں اضافہ…

Read more

روشنی مقدر ہو چکی

موسموں کا الٹ پھیر مقرر کردیا گیا ہے۔ گرما رخصت ہورہا ہے۔ سب کو معلوم ہے آنے والے مہینے سرد، تند ہوائوں کے ہیں۔ جھکڑ چلیں گے۔ درختوں کے پتے گریں گے۔ زرد خشک پتے! زرد خشک پتوں کے ڈھیروں پر چلنے سے کھڑکھڑانے کی آوازیں آئیں گی۔ پھول نہیں کھلیں گے۔ یہ وہ موسم…

Read more