نواز شریف، اذان ضرور ہو گی

قانونی موشگافی کیا رہتی ہے اس کا تعلق عوامی رائے سے قائم نہیں ہو پاتا ہے۔ بالخصوص اس کیفیت میں کہ جب رائے عامہ میں حمایت اور مخالفت کرنے والے دونوں طبقات سیاسی رہنماء کی سیاسی زندگی کے اتار چڑھاؤ کا معاملہ اس کے طاقت کے مراکز سے تعلقات میں تلاش کر رہے ہوں۔ یہی معاملہ اس وقت پاکستان کو در پیش ہے۔ نواز شریف کی سیاسی زندگی اس وقت جس موڑ پر آ پہنچی ہے اس کے متعلق یہ تاثر قائم رکھنا کہ وہ خود اس کی توقع نہیں کر رہے تھے، حالات کے معاملے میں اپنی آنکھیں بلکہ کان اور دماغ بھی بند کر لینے کے مترادف ہو گا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حالات کس رخ جا سکتے ہیں۔ کسی کو بھی سپر پرائم منسٹر تسلیم نہ کرنے کے بیان نے یہ طے کر دیا تھا کہ ووٹ کی طاقت کا تصادم اینٹی پولیٹیکل سوچ سے ضرور ہو گا۔ نتیجتاً تجربات پھر دہرائے جائیں گئے۔ اور فی الواقعہ ایسا ہوا بھی۔ لیکن ہمارے سامنے اصل سوال یہ موجود ہے کہ ان تجربات کی بنا پر جو سیاسی بناء پڑتی ہے اس سے اس وقت وطن عزیز کس طرح نبرد آزما ہے۔

Read more

افغانستان سے پاکستان تک: ذمہ داری کی ضرورت

افغانستان ایک بار پھر اُس دوراہے پر کھڑا ہے کہ اگر راستہ درست نہ اختیار کیا گیا تو ایسی صورت میں افغان سرزمین تو خونی غسل کرتی ہی رہے گی مگر پاکستان بھی اس کے اثرات سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکے گا۔ افغانستان میں کسی حل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کا مکمل ادراک موجود ہو کہ حالات اس حد تک خراب کیوں ہو گئے اس کے لیے ماضی کو ہلکا سا کریدنا ہو گا۔ ظاہر شاہ کی حکومت افغانستان میں رواں دواں تھی دوسرے لفظوں میں ایک ریاست موجود تھی اس کا ایک آئینی سربراہ بھی موجود تھا مگر عوام کو نئے نئے لولی پاپ دینے والوں نے اس بات کی پروا کیے بنا ء کہ اگر یہ نظام ٹوٹ گیا تو اس کی جگہ کون سا نظام آئے گا یا بے یقینی اور بدامنی مستقل ڈیرے ڈال لے گی، سوشلسٹ نظریات کی بنیاد پر ظاہر شاہ کی آئینی حکومت کو سردار داؤد کے ذریعے ماضی کا قصہ بنادیا۔

Read more

حکومت اور مکڑی کا جالا

فرانس میں ایک قابل لحاظ طبقے نے سڑکوں پر احتجاج کی راہ لی اور نظام مملکت اس حد تک ابتر کر دیا کہ فرانس کے صدر مکرون کو اپنے ٹیکسز میں اضافے کے فیصلہ کو سر دست واپس لینا پڑا۔ لیکن اس سب کے دوران معاملات اتنے دگرگوں ہو گئے کہ سی این این جیسے نشریاتی ادارے کو یہ سوال اٹھانا پڑ گیا کہ کیا مغربی جمہوریتوں کو بحران کا سامنا ہے؟

یہ ایک ایسا سوال ہے کہ اگر اس کا جواب مثبت ہوا تو دنیا میں غیر معمولی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو سکتی ہیں۔ اگر غور کرے تو تبدیلی کا آغاز برطانیہ کے بریگزٹ کے فیصلے سے شروع بھی ہو چکا ہے۔ برطانیہ نے جب بریگزٹ کا فیصلہ کیا تو اس وقت سے برطانوی سیاست میں ایک ارتعاش کی کیفیت موجود ہے۔ موجودہ وزیر اعظم تھریسا مے ابھی اقتدار سے بیدخل ہونے کے قریب تھی بہرحال اعتماد کا ووٹ تو لے گئی لیکن بریگزٹ پر رائے شماری کو تاخیر میں ڈالنا پڑا۔

Read more

چینی کونسلیٹ پر حملہ اور کرتار پور راہداری

کرتار پور راہداری کا معاملہ واضح طور پر لگ رہا تھا کہ یہ ہونا ہی ہے۔ اسی دوران کراچی میں چینی کونسلیٹ پر حملے نے یہ بھی واضح کر دیا کہ دوسری طرف کیا گل کھلانے کی مزید تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ان دونوں واقعات کے لئے وقت کا تعین کوئی اتفاقی امر نہیں ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے اور بلوچستان میں شورش پسند اس کو چھپاتے بھی نہیں تھے۔ ان کی توقعات کا محور بھارت ہے۔ اس لئے جب 15 اگست کی تقریر میں نریندر مودی نے بلوچستان کا ذکر کیا تو یہ طبقہ خوشی سے نہال ہو گیا۔

دوسرے لفظوں میں یہ بھارت کی حکمت عملی کو جو پاکستان میں وہ روا رکھنا چاہتا ہے کو آگے بڑھانے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ اسلم اچھو گذشتہ تقریباً ایک عشرے سے کچھ کم سے بلوچستان میں تشدد کے واقعات میں ملوث رہا ہے۔ کوئٹہ سبی اور قلات میں یہ بہت زیادہ متحرک رہا اور اس نے پاکستان میں رہائش کے دوران اور جب سے یہ قندھار میں 2012 ؁ء سے رہائش پذیر ہے اس کے باوجود اپنے زیر اثر علاقوں میں جہاں اس کا حامی بی ایل اے کا گروپ موجود ہے یہ آتا جاتا رہتا ہے۔

Read more

نواب زادہ نصراللہ خان کی خواہش

مشرف کے اقتدار کے تاریک دن وطن عزیز پر مسلط تھے اور سیاسی جماعتیں نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم کی قیادت میں ان دنوں کو روشن ایام میں تبدیل کرنے کی جدو جہد میں مشغول تھی انہی دنوں میں ایک ٹیلی ویثرن انٹرویو کے دوران نواب زادہ نصر اللہ خان مرحوم نے فرمایا کہ ہم یہ کہہ رہے ہے کہ اسی پارلیمنٹ کو ساورن (با اختیار ) کر دو۔ میں چونک گیا ایک ایسی پارلیمنٹ جو کسی حجاب کے بناء آمریت کی پیدا وار اور حاشیہ بردار ہو اُسکے لئے اس خواہش کا اظہار اور وہ بھی ایسے شخص کی جانب سے کہ جو قافلہ جمہوریت کا سالار ہو ایک زمانہ دیکھ چکا ہوں، نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم مجھ پر بہت شفقت فرماتے تھے چند دنوں بعد میں نے ایک پروگرام منعقد کیا نواب زادہ مرحوم کو صدارت کی دعوت دی اور انہوں نے کمالِ مہر بانی سے میری اُس دعوت کو قبول فرما لیا اور وقت مقررہ پر تشریف لے آئے۔

Read more

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور نظم مملکت میں بہت بڑی تو نہی لیکن ایک نوعیت کی تبدیلی وقوع پذیر ہو گئی ہے۔ اور اس تبدیلی کی ہمارے واسطے اہمیت یہ ہے کہ امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے سو ہمارا بھی ہمسایہ ہے۔ ان انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو سینٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل تھی جس کے سبب سے ان کو قانون سازی اور بجٹ کی منظوری کے لئے بہت آسانی حاصل تھی۔

مگر حالیہ انتخابات کے بعد ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل ہو گئی ہے اور اس اکثریت کے بل بوتے پر وہ منصب صدارت کی جانب سے اٹھائے اقدامات کی ایوان میں چھان پھٹک کر سکتے ہیں۔ لیکن ریپبلکنز کو سینٹ میں بدستور اکثریت حاصل ہے کہ جس کے سبب سے صدر ٹرمپ کے لئے اعلیٰ حکام کی تقرریوں کی منظوری لینے میں حسب سابق مشکلات نہیں ہو گی۔ لیکن اب ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے لئے ممکن ہو گا کہ نا صرف کہ وہ ایوان کی مختلف کمیٹیوں کے رکن ہوں گے بلکہ ان کمیٹیوں کا ایجنڈا طے کرنے کا اختیار بھی ان کو حاصل ہو گا۔

Read more

دورہ چین کے تاثرات: سب اچھا نہیں ہے

پاکستان میں سیاسی تبدیلی کے وقوع پذیر ہونے سے جن معاملات میں سب سے زیادہ خدشات کا سامنا ہوا ان میں سے سر فہرست سی پیک کی مکمل تعمیر ہے۔ یہ بالکل درست ہے کہ موجودہ حکومت نے اب تک سی پیک کے حوالے سے یہ موقف ہی پیش کیا ہے کہ وہ اس منصوبے…

Read more

خارجہ پالیسی کا چاک چاک گریباں

گزشتہ انتخابات سے قبل تحریک انصاف اپنے انتخابی جلسے اور جلسوں میں سابق فوجی آمر ایوب خان کا امریکہ میں استقبال کی ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ دکھاتی تھی کہ اس وقت اقوام عالم میں ہمارا احترام کتنا زیادہ تھا اور اب یہ احترام کافور ہو گیا ہے۔ حالانکہ اس احترام کی بدولت ہی…

Read more

بنگلہ دیش میں بھارتی قدم

جنوبی ایشیاء میں بھارتی بالا دستی قائم کرنے کی غرض سے بھارت سبک رفتاری سے مختلف ممالک میں اپنے مفادات کو ان ممالک کے مفادات سے اس انداز میں جوڑ رہا ہے کہ اگر وہاں پر کوئی سیاسی تبدیلی وقوع پذیر ہو بھی جائے تو بھی ان کے لیے بھارتی چنگل سے آزاد ہونا جوئے…

Read more

بنگلہ دیش میں حالیہ مظاہرے اور سیاسی بے چینی

بنگلہ دیش میں چند دنوں قبل دس یوم پر محیط طلبہ کی جانب سے کیے گئے ہنگاموں کو ریاستی طاقت کے زور پر دبا لیا گیا۔ لیکن خیال یہ ہے کہ یہ اشتعال اس حد تک بنگلہ دیش کے معاشرے میں اس وقت موجود ہے کہ جو دوبارہ بہت جلد کسی وقت پھٹ پڑ سکتا…

Read more