جواد نظیر کا آخری نوٹس

افسوس میں آج اپنی صحافتی زندگی کی دوسری کتاب منوں مٹی تلے دفن کر آیا ہوں۔ سینہ ہے کہ شدت غم سے پھٹا جا رہا ہے، اسی لئے مٹی کا مادھو بنا، مجسم بت کی طرح ساکت کھڑا ہوں۔ ابھی شہنشاہ صحافت سیدی عباس اطہر کا غم غلط نہیں ہو سکا تھا کہ تاجدار صحافت…

Read more

کچھ ذکر قلم مزدوروں کا۔۔۔ نیز یہ کہ بادشاہ ننگا ہے

شجاع صاحب، یقین جانئے اس سے زیادہ برا وقت نہیں آ سکتا، آج کے بعد ہمارے دن بدل جائیں گے۔۔۔۔ میرے بہت ہی پیارے دوست اور ساتھی نے یہ بات کہی تو میں نے مینہ برساتے آسمان کی طرف دیکھتے ہوِئے پھیکی سی مسکراہٹ اس کی طرف اچھال دی۔۔۔۔ واقعہ لگ بھگ 25 سال پرانا…

Read more

ماں جی

بیٹا آپ کھڑے ہو جاؤ، آنٹی کو بیٹھنے دو۔۔۔۔ یہ پہلا حکم تھا جو سن شعور کی ابتدائی یادوں میں آج بھی زندہ ہے اور ماں جی کے اس حکم نے ذہن پر کچھ ایسی مہر ثبت کی کہ آخر دم تک تابعداری نہ گئی۔ پلٹ کر جواب دینا کیونکہ اس زمانے کا رواج نہ…

Read more