سفاک بادشاہ ضحاک اور زینب کے بابا کی دہائی

اہل فن کے تیشوں سے چٹانوں پہ کندہ تاریخ بتاتی ہے کہ سر زمین فارس موجودہ ایران پہ ایک ضحاک نامی بادشاہ جس نے جبر و استبداد کی تاریخ معصوم جانوں کے خون سے تحریر کی۔ اپنے کندھوں کے ابھار میں پھوڑوں کا شکار ہؤا۔ تاجداری کے قرب کے کسی شائق نے مشورہ دیا کہ…

Read more

اور دل کہتا ہے ٹھہرو، ابھی ٹھہرو، عینی

  نومبر کی شام رات کے اندھیرے سے گلے مل رہی تھی۔ ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات کی بازگشت اس کے کانوں کی دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔ اس کے جگر پہ ٹیومر ہے۔ فرار ہوتا وقت سوچوں کی لہروں میں پتھر پھینکے جا رہا تھا۔ مہد سے لحد تک…

Read more

بابا فرید کے دربار سے سند حکومت پانے والے دو حکمران

گنج شکر کے فیوض و برکات کے چشمے پھوٹ رہے تھے جب غلاموں کے جتھے سے نعمان نامی غلام اپنے آقا کی اجازت سے بارگاہ درویشیت میں شرف باریاب ہوا۔ اجازت گویائی ملتے ہی اس کے نتھنے پھڑکنے لگے ہونٹوں کے کنارے تڑپنے لگے اپنی ٹوٹی پھوٹی ذات کو مجتمع کرتا یوں گویا ہوا۔ میرا…

Read more

ڈوبتے لاہور نے سر کٹا انسان یاد دلا دیا

عراق کے سرحدی حاشیے سے بارہ کلومیٹر کی مسافت پر حدود شام میں فرانسیسی آفیسر لیفٹینینٹ کیبین کے پاس ایک مقامی بدّو بوکھلایا ہؤا آیا اور سرکٹا انسان سر کٹا انسان کی تکرار کرتا ہؤا چیخنے لگا۔ مذکورہ آفیسر اس کے بتائے ہوئے مقام تک پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ کھنڈرات کے ڈھیر پر…

Read more