مجھے وزیر بنایا جائے

جھنگ وسطی پنجاب کا ایک پسماندہ ترین ضلع ہے۔ اس شہر کی قسمت میں ایسے سیاسی رہنما آئے کہ جن کے نام بڑے اور درشن چھوٹے تھے۔ ان میں سیدہ عابدہ حسین، فیصل صالح حیات، شیخ وقاص اکرم، وغیرہ ماضی میں کئی اہم عہدوں اور وزارتوں پر براجمان رہے ہیں، اور صاحبزادہ محبوب سلطان، صاحبزادہ…

Read more

مایوس ہو کر کیا کریں گے ؟

پانچ دن پہلے ہمارے ایک نہائت پیارے دوست کو سینے میں شدید تکلیف اور متلی کی شکایت ہوئی۔ ان کو فوری طور پر گاڑی میں ڈال کر ملتان کارڈیالوجی سینٹر لے جایا گیا۔ وہاں پر ایمرجنسی میں ان کا علاج شروع ہوا، ڈاکٹروں نے دل کا شدید دورہ بتایا اور ساتھ ہی اس بات کی اطلاع بھی دی کہ سٹنٹ ڈالے جائیں گے۔ لواحقین کا خیال تھا کہ پانچ سے چھ لاکھ روپے تک کا فوری انتظام کرنا پڑے گا۔ لیکن ان کوبتایا گیا کہ حکومت پنجاب کے نئے حکم نامے کے مطابق جو مریض ایمرجنسی میں یہاں لایا جائے اس کا علاج فوراً شروع ہو گا اور لواحقین سے پیسوں کا انتظام کرنے کو نہیں کہا جائے گا۔

آپ لوگ آرام سے بیٹھیے۔ اس کے بعد اینجیو گرافی، اینجیو پلاسٹی اور سٹنٹ ڈالنے کے مراحل آرام سے طے ہو گئے اور مریض کو آپریشن کے بعد اولین انتہائی نگہداشت کے کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔ اگرچہ ہمارے اس دوست کا تعلق ایک خوشحال گھرانے سے ہے اور وہ اپنے خرچ پر بھی یہ مہنگا علاج کروا سکتے تھے، لیکن ان کے کہنے مطابق کہ بغیر کسی سفارش اور جان پہچان کے جس طرح سے انہیں انسانیت کے ناطے سے یہ سہولت دی گئی اس طرح کے اچھے سلوک کا اس طرح کے سرکاری اداروں میں پہلے کوئی تصور نہیں تھا۔ صرف تین روز بعد ہی مریض کو رو بہ صحت قرار دے کر گھر بھیج دیا گیا اوراس سارے علاج کا ہسپتال کی طرف سے جو بل دیا گیا وہ صرف تین ہزار اور تین سو روپے تھا۔

Read more

حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ

ایک طلسم ہوش رُبا ہے کہ جس سے آنکھیں خیرہ ہیں۔ ہر روز نئے نئے انکشافات ہوتے جا رہے ہیں ”پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں“ اس محاورے کی عملی تصویر جناب آصف علی زرداری صاحب جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی انگلی پکڑے اقتدار کے ایوانوں میں نمودار ہوئے، تو اپنی قابلیت سے آتے ہی مسٹر ٹین پرسنٹ کا لقب پا لیا اور اس پر کبھی شرمندہ بھی نہیں ہوئے۔ آنے والے مختلف ادوار میں ان پر مالی بد عنوانیوں کے الزامات لگتے رہے، لیکن ان کو مرد حر، نیلسن منڈیلا، مفاہمت کا بادشاہ اور ایک زرداری سب پر بھاری قرار دے کے کر ان کی عظمت، لیاقت اور قابلیت کے ڈھول پیٹنے والوں کو کہیے بھی تو کیا کہیے۔

بے نظیر بھٹو کے پہلے ادوار حکومت میں وزیر سرمایہ کاری اور بے نظیر بھٹو کی حادثاتی موت کے بعد عہدہ صدارت پر فائز رہنے والے زرداری، اور کسی پر بھاری ثابت ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں، اپنی پارٹی اور ملک پر ضرور بھاری ثابت ہوئے۔

Read more

سماء کے کیمرہ مین کا میاں صاحب کے محافظ پر تشدد

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ”مجھے کیوں نکالا“ کا دردناک الاپ شروع ہوا تھا۔ پرچی اور لقموں کے محتاج خود ساختہ قائد جمہوریت کے کان میں کسی نے یہ لقمہ انڈیل دیا کہ، میاں صاحب آپ براستہ جی ٹی روڈ اگر لاہور روانہ ہو جائیں تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر آپ کی حمایت کے لئے گھروں سے باہر نکل آئے گا اور آپ کے لاہور پہنچنے سے پہلے ہی ان پانچ لوگوں کے پسینے چھوٹ جائیں گے اور وہ عوامی دباؤ کے آگے لاچار ہو کر آپ کی برطرفی کا فیصلہ واپس لے لیں گے۔

میاں صاحب اپنے حواریوں کے ساتھ ماتم کناں لاہور کی طرف روانہ ہوئے، تو راستے میں ان کے قافلے میں شامل ایک گاڑی ایک بچے کے اوپر سے گزر گئی۔ اس قافلے میں کئی ایمبولینسیں بھی شامل تھیں۔ لیکن غریب کے بچے کے لئے کسی نے بھی رکنا گوارا نہیں کیا۔ اس بیچارے کو چنگ چی میں ڈال کر ہسپتال لے جانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ بجائے اس کے کہ غمزدہ غریب خاندان کے آنسو پونچھنے کوئی ان کے پاس جاتا۔ ان بے حسوں نے وہیں گھر بیٹھ کر اس بچے کو اپنے قافلہ جمہوریت کا پہلا شہید قرار دے دیا۔

Read more

اس وقت بنگلہ دیش کہاں کھڑا ہے اور پاکستان کہاں

مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں کون قصور وار تھا اور کون نہیں؟ اس بات کا تعین ہم آج تک نہیں کر سکے۔ سیاستدان، فوجی حکمران، مغربی پاکستان کی سول بیوروکریسی، شیخ مجیب الرحمٰن کی ہٹ دھرمی، ایک ہزار میل کی زمینی دوری، الگ زبان و ثقافت یا پھر ہندوستان کی سازش۔ ہو سکتا ہے یہ سب عوامل ہوں یا ان میں سے کچھ نہ بھی ہوں۔

اچھا اس بحث کو تھوڑی دیر کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں اس وقت بنگلہ دیش اور پاکستان کہاں کھڑے ہیں۔

Read more

ہندو یاتریوں کے سامنے ہمیں صرف شرمندگی ہی ہو گی

کئی برسوں بعد اس سال دوبارہ بھارت سے 160 ہندو یاتری اپنے انتہائی مقدس مذہبی مقام کٹاس راج مندر کی یاترا کے لئے براستہ واہگہ پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ میں اس سے پہلے بھی کٹاس راج کے تاریخی ورثے کی بربادی پر لکھ چکا ہوں۔ اور اس تاریخی ورثے کی بربادی کی کچھ تصویریں بھی…

Read more

صاحبان کشف و کرامات

جب بھی پرانے زمانوں کے بزرگان اور پہنچی ہوئی ہستیوں کے حالات اور کشف و کرامات کے قصے سنتے اور پڑھتے ہیں، تو دل میں یہ قلق ہمیشہ رہتا ہے کہ کاش ہم بھی ان کے ادوار میں زندہ ہوتے تو ان کی صحبت کے فیوض و برکات سے کچھ فائدہ اٹھا پاتے۔ پتا نہی اب دھرتی پر ان جیسے صاحبان جلال و کمال اور کرنی والوں کا نزول کیوں نہی ہوتا۔ ایسے لگتا تھا جیسے اب یہ دھرتی بانجھ ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن جب غور کیا تو اپنی کوتاہ بینی اورکم فہمی کا ادراک ہوا۔

گویا کہ خرابی ہماری فہم و نظر کی تھی۔ ایسا معاملہ ہرگز نہ تھا کہ ایسی پہنچی ہوئی ہستیاں یہاں اس گئے گزرے دور میں ناپید ہوں۔ بلکہ اب تو، ایک ڈھونڈھو ہزار ملتے ہیں۔ والا معاملہ ہے۔ پہلے وقتوں میں ایسے صاحبان نظر کی محافل میں مہینوں اور کبھی برسوں دو زانوں بیٹھنا پڑتا تھا، تب جا کر ان کے کمالات آشکار ہوتے تھے، اب تو معاملہ الٹ ہو چکا ہے۔ اب ہمارے جیسے کوتاہ نظر اور کم فہم بھی سوشل میڈیا کے ذریعے سے ایسی برگزیدہ ہستیوں کے کمالات سے آشنائی حاصل کر لیتے ہیں۔

Read more

مرتا سسکتا کسان اور شوگر مل مافیا

پاکستان کی ذیادہ تر آبادی دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے،اور آبادی کا غالب حصہ زراعت پیشہ ہے۔ کسی زمانے میں ہمارے دیہات میں کپاس کی چاندی جیسی فصل اپنی بہار دکھاتی تھی۔ لیکن اس پر نت نئی حملہ آور بیماریوں اور کیڑوں نے اس کی کاشت کسانوں کے لئے مشکل بنا دی۔ تو کسانوں…

Read more

جناب وزیر اعظم، کٹے آپ کے لئے دعا گو ہیں

بھینسوں کے نور نظر یعنی فرزند ارجمند عرف عام میں کٹے کہلاتے ہیں۔ تاریخی طور پر یہ مخلوق ہمیشہ سے مظلوم ہی رہی ہے۔ یہ بیچارے پیدائشی بد قسمت ہوتے ہیں۔ حضرت انسان کے برعکس جہاں کٹوں یعنی بیٹوں کی پیدائش پر جشن منائے جاتے ہیں بدھائیاں دی جاتی ہیں۔ بھینسوں کے ہاں ایسے سپوت…

Read more

کرتار پور کاریڈور اور نئے امکانات

ستر سال سے سکھ پنتھ کے لوگ روزانہ ایک ارداس (دعا، تمنا) ضرور کرتے تھے کہ، واہےگرو جو گوردوارے اور پوتر استھان (مقدس مقامات) ہم سے بٹوارے کے سمے بچھڑ گئے تھے۔ان سے دوبارہ ہمیں ملا دے۔ اور آنکھیں بند ہونے سے پہلے ایک بار ان کے درشن ضرور کرا دے ۔ 1947ءمیں پنجاب بھر…

Read more