دیسی حکیم کے ہاتھ چڑھا ولایتی گاہک

ایک مرتبہ مجھے لندن سے آئے ہوئے میرے ایک دوست جیسر برق اور اس کی بیوی کیتھرین کو شہر کی سیر کرانے کا اتفاق ہوا۔ دونوں مختلف علاقوں میں گھومتے رہے۔ وہ اردو نہیں پڑھ سکتے اس لئے ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کے بارے میں تفصیلاً سوال کر رہے تھے۔ جب کبھی کسی دیوار پر کوئی اشتہار لکھا ہوا نظر آتا وہ پوچھتا کہ یہ کیا لکھا ہے؟ میں ہر مرتبہ پریشان سے دو چار ہو جاتا کیونکہ اپنے شہر میں رہتے ہوئے جس بات پر میں نے غور نہیں کیا تھا وہ چیز مجھے آج نظر آ رہی تھی۔

سارے شہر میں جگہ جگہ مردانہ و زنانہ امراض میں مبتلا افراد کے لئے دیواروں پر خوشنجر ی پر مبنی اشتہارات لکھے ہوئے تھے۔ ایک ہی دن میں ہم نے سو ڈیڑھ سو ایسے اشتہارات پڑھ ڈالے۔ اس کو بری عادت تھی کہ وہ اردو اخبارات میں شائع اشتہارات کے بارے میں بھی پوچھا کرتا تھا۔ اتفاق سے مردانہ امراض کے علاج اور ”ہر قسم کے عاملوں سے مایوس“ افراد کے لئے کسی نئے عامل کا اشتہار موجود تھا۔ وہ بولا پاکستان میں کالا جادو کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے میں خاموش رہا۔

Read more

دبئی میں چند روز

گذشتہ 10 برس کے دوران متحدہ عرب امارات میں جس قدر ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ شاید ہی کوئی ایسا بزنس مین ہو جو بذریعہ دبئی امپورٹ ایکسپورٹ نہ کرتا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دبئی فری پورٹ ہے۔ وہاں کوئی بھی چیز مخصوص فیس ادا کر کے منگوائی یا بھجوائی جا سکتی ہے۔ دنیا کے تمام ممالک نے وہاں اپنے دفاتر کھول رکھے ہیں۔ روپے پیسے کی فراوانی کے باعث وہاں عیاشی کے مراکز بڑی تعداد میں کھل چکے ہیں۔ جسم فروشی وہاں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ درہم کمانے کا سب سے آسان ذریعہ ہے۔

کئی پاکستانی ادکارائیں اور گلوکارائیں وہاں سکونت پذیر ہیں اور سال میں کئی مرتبہ پاکستان میں نئے چہروں کی تلاش کے لئے آتی ہیں۔ وہاں دنیا کی حسین سے حسین عورت موجود ہے۔ نائٹ کلب میں داخل ہونے کے بعد انسان مبہوت ہو کر رہ جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ جیسے کسی ماہر سنگتراش نے نہایت شاندار مجسّمے تراش کر سجا دیے ہوں۔ عورت کس قدر خوبصورت ہو سکتی ہے اس کا اندازہ دبئی جا کر ہوا۔ میرا وہاں قیام 3 دن کے لئے تھا اور بطور صحافی ایک وفد میں شامل تھا۔

Read more

بازار حسن کا انسائیکلو پیڈیا حکیم الدین غوری اس چکر میں کیسے پڑا؟

ایک دفعہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس کی عمر 46 سال تھی شاید ہی کوئی طوائف ایسی ہو جو اس کی صورت یا اس کے نام سے واقف نہ ہو۔ وہ بازار حسن کا انسائیکلو پیڈیا تھا اور میرے قابو بڑی مشکل سے آیا۔ پہلے تو اس نے کئی چکر دیے لیکن بہت اصرار پر اس نے وعدہ لیا کہ میں اس کا اصل نام ظاہر نہ کروں گا تو وہ مجھے اپنی کہا نی سنا دے گا ہم اس کا نام حکیم الدین غوری رکھ لیتے ہیں جو اس کے نام سے کچھ ملتا ہے۔ حکیم الدین غوری پیشے کے اعتبار سے ایک ورکشاپ کا مالک ہے اور شاید ہی لاہور میں کوئی ایسا کوٹھی خانہ ہو جہاں اس قدم نہ رکھا ہو۔

” حکیم صاحب! اب تک کتنی لڑکیاں آپ کی زندگی میں آ چکی ہیں؟ “ میں نے پوچھا۔ “لڑکیوں سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آپ کہیں طوائف کے بارے میں تو بات نہیں کر رہے؟ “ میرا اشارہ طوائف ہی کی طرف تھا؟ “
” میں سینکڑوں عورتوں کو اپنے تجربے سے مستفید کر چکا ہوں۔ “اس نے فخر سے سینہ تا ن کر کہا۔

” کیا مطلب، آپ نے عورتوں کو اپنے تجربے سے مستفید کیا یا عورتوں کے پاس جائے کی وجہ سے آپ کے تجربات میں اضافہ ہوا؟ “
” میرے معاملے میں یہ صورت حال الٹ ہے۔ “

” پہلی عورت زندگی میں کب آئی “
” عورت نہیں لڑکی کہیں۔ وہ میری کزن تھی اور شادی شدہ تھی۔ پہلا تجربہ اس سے حاصل کیا۔

Read more

بچوں سے جنسی زیادتی کا رجحان

دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بچے مردوں کے جبر سے محفوظ نہیں۔ بچوں کی بڑی تعداد کم سنی کے ایام میں نوجوان اور اوباش قسم کے مرد حضرات کی ہوس کا نشانہ بن جاتی ہے بچوں سے جنسی جبر کی تاریخ بھی انسانی تاریح کی طرح پرانی ہے۔ شاید ہی کوئی دور ہو جب بچے اس ظلم سے محفوظ رہے ہوں۔ جس طرح نیکی اور گناہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے اس طرح بچے بھی بڑوں کے گناہوں کا فی زمانہ شکار رہے ہیں۔ عموماً فیکٹریوں میں کام کرنے والے بچوں کو ان کے سنیئر جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں جب کہ گلی محلوں میں گھروں سے باہر کھیل کود میں مصروف بچے اکثر اوقات اس ظلم کا شکار ہو جاتے ہیں۔

پہلے کوئی انہیں لالچ دے کر اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے اور پھر بچے آہستہ آہستہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں اور یہ شوق انہیں جوانی میں بدنام کرانے کا موجب بنتا ہے۔ ریسرچ کے دوران میری درجنوں بچوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جب کہ نوجوان اور بوڑھے افراد سے ان کے بچپن کے بارے میں پوچھا تو 15 فیصد سے زائد افراد نے اقرار کیا کہ جب وہ بچے تھے تو انہیں محلے کے فلاں دکاندار، فلاں پتنگ باز وغیرہ نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔

Read more

شوقیہ جسم فروش

روز مرہ کی اشیا ء خریدنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد عورتوں کی ہوتی ہے۔ کپڑے کی مارکیٹ ہو یا الیکٹرونکس کی دکان، جنرل سٹور ہو یا کوئی بوتیک آپ کو خریداری کرنے والوں میں خواتین نمایاں نظر آئیں گی۔ اچھے اور برے کی سب سے زیادہ پہچان وکیل، صحافی اور پولیس والے کے…

Read more

مغرب کی نجی زندگی، فحش فلمیں اور پاکستانی طلاقیں

بھری بس یا ٹرین میں یا کسی پبلک پارک میں جہاں دوسرے افراد کی کمی نہ ہو جو نہی کسی جوڑے کا جی چاہا وہ اظہار محبت کرنا شروع کر دیتا ہے اور کیا مجال ہے کہ کوئی ان کو ڈسٹرب کرنے کا تصور بھی کر سکے۔ لندن کی سڑک کے کنارے سرشام ایک گاڑی کھڑی تھی اور اس گاڑی کے اند ر ایک نوجوان لڑکا اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ جنسی فعل کر رہا تھا۔ دونوں محبت کے ان حسین لمحات میں دنیا جہاں کے غموں سے بے نیاز زندگی کو انجوائے کر رہے تھے کہ وہاں سے گزرنے والی ایک گاڑی میں سوار کسی شخص نے کیمرے کا استعمال کر ڈالا۔

کیمرے کی فلیش کی چکا چوند روشنی نے جو نہی مذکورہ جوڑے کی گاڑی کو اپنے حصار میں لیا‘ لڑکے اور لڑکی نے اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ ان کے جسم پر کپڑ ے موجود ہیں یا نہیں، سڑک پر کھڑے ہو کر بنانے والے شخص کو گالیاں دینا شروع کر دیں اور ساتھ ہی انہوں نے اپنے موبائل فون سے پولیس کو اطلاح کر دی کہ فلاں رنگ اور ماڈل کی گاڑی میں سوار نامعلوم شخص نے ان کی نجی زندگی میں مداخلت کی ہے۔

وہ جوڑا کسی اسلامی ملک میں اس فعل کا ارتکاب کر رہا ہوتا تو اسے سو سو کوڑے مارے جاتے اور قرآنی احکامات کے مطابق ایسا کرتے رحم سے کام نہ لیا جاتا۔ لیکن اس معاشرے کے خوبی یا خامی دیکھیں کہ وہاں جرم مرد اور عورت کا نہ سمجھا گیا بلکہ جس نے تصویر بنانے کی کوشش کی اس کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ مقدمہ چلا تو اس شخص نے حلفاً کہا کہ میرے کیمرے میں فلم موجود نہ تھی میں نے تو شرارتاً فلیش گن استعمال کی تھی۔ مگر عدالت نے اسے سزا سنا دی۔

Read more

ایڈز میں مبتلا ایک پاکستانی اداکارہ کی کہانی

1997ء میں نارتھ کراچی کے ایک ہسپتال میں ایک اداکارہ کا انتہائی راز داری سے علاج ہو رہا تھا۔ یہ اداکارہ ایڈز جیسے موذی مرض میں مبتلا تھی۔ مجھے کسی نے اس کے بارے میں بتایا تو میرا تجّس بڑھا اور ایک دن میں کراچی کے لئے روانہ ہو گیا۔ کراچی میں قیام کے دوران…

Read more

سیاسی اور مذہبی راہنماؤں کو طوائفوں کے ذریعے کیسے پھنساتے ہیں

جسم فروشی جیسے حساس موضوع پر تحقیق کے سلسلے میں جب میں پشاور گیا تو وہاں میرے ایک صحافی دوست نے میری ملاقات ایک خاتون سے کرائی جو وہاں سماج حلقوں میں خاصی مقبول تھی۔ لیکن حقیقت میں وہ ایک نائیکہ تھی۔ میں اس عورت جسے اس کی شناخت ظاہر نہ کرنے کے لئے گل بانو کا نام دیا گیا ہے جب پوچھا کہ ایک عورت ہوتے ہوئے دوسری عورت سے جسم فروشی کرانے پر کیا آپ کے ضمیر نے کبھی ملامت نہیں؟ تو وہ بولی: ” آپ نے یہ ذکر چھیڑ ہی دیا ہے تو بتائیں کہ خریدار کون ہے؟ “

میں گل بانو کے اس حملے کے لئے بالکل تیار تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ جس انداز میں سوال کیا جائے گا اسی انداز میں جواب بھی آئے گا۔ میں نے فوراً کہا کہ عورت کے خریدار کو اسلامی قوانین کے مطابق کوڑے مارے جانا چاہیں۔ گل بانو نے میری طرف غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں غصے کے آثار نمایاں تھے۔ لیکن وہ دھیرے سے بولی: ” جب اسلام اپنی اصل شکل میں نافذ ہو جائے تو ایسی بات کرنا۔ ابھی ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ “

Read more

لاہور کی ٹبی گلی سے شہر میں منتقل ہونے والے چکلے

ایک مرتبہ لاہور کے ایک صحافی نے کسی مخصوص کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ مجھے اس کا عورت کو اس طرح ذلیل کرنا اچھا لگا۔ میں نے کہا : ” راشد بڑے افسوس کی بات ہے۔ “ وہ بولا ”میں نے ایک طوائف کو گالی دی کسی عورت کو نہیں۔ “ میں نے…

Read more

طوائف اور آرٹسٹ میں فرق

مجھے یقین تھاکہ نوشابہ آج ضرور فون کرے گی۔ وہی ہوا، ابھی مجھے گھر پہنچے بمشکل 15منٹ ہی ہوئے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ میرے ہیلو کہنے پر کسی نے صرف اتنا کہا: ” آج قلعہ اس کی اسی جگہ پر پانچ بجے ضرور ملنا۔ “ اس پہلے کہ میں کوئی بات کرتا، فون…

Read more