’’آخرِ شب کے ہم سفر عطارکے پرندے‘‘

کراچی کا بیچ لگژری ہوٹل ان زمانوں میں لے جاتا ہے جب یہ ایک فراخ دل اور کھلے بازوئوں سے تمام مذاہب کو قبول کرتا تھا اور اس میں تو کچھ شک نہیں کہ یہ پارسی تھے جنہوں نے اس شہر کو اپنایا‘ اسے خوبصورت کیا اور مالا مال کیا۔ کسی زمانے میں وہاں ایرانی…

Read more

’’عارف نقوی۔ شمیم حنفی اور آخری‘ حسین ‘‘

چنانچہ میرے ناول’’اے غزالِ شب‘‘ جس کا انگریزی میں ترجمہ ’’لینن فار سیل‘‘ کے نام سے ہو چکا ہے اس کا مرکزی کردار عارف نقوی ہے جسے میں بہت مدت پہلے برلن میں ملا تھا اور میرا خیال تھا کہ وہ بھی اب تک مر چکا ہو گا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ گیارہویں عالمی اردو…

Read more

’’چاندی کے آبی پرندے‘ فہمیدہ ریاض اور اردو کانفرنس‘‘

میری بیوی نے آئی پیڈ سے آنکھیں اٹھا کر کہا’’فہمیدہ ریاض مر گئی ہے‘‘ اگر میں یہ کہوں کہ میں ایک گہرے صدمے میں چلا گیا اور فہمیدہ کے ساتھ اس کی شاعری اور شخصیت کے حوالے سے جتنی چاہت جتنا احترام تھا‘ ان سب کی تصویری البم کھولتا ہوں تو تمام تصویریں سیاہ ہو…

Read more

’’شاہدرہ کے جہانگیری خواجہ سرا اور کاشغر کے کھسرے‘‘

آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ کالم میں ایسی دو ’’خواتین‘‘ کا تذکرہ ہوا تھا جو ایک محفل کے اختتام پر مجھ سے شکایت کرنے آئی تھیں کہ آپ نے اپنی گفتگو کے آغاز میں صرف خواتین و حضرات کو مخاطب کیا۔ ہمیں بھول گئے کہ ہم بھی تو تیسری جنس کی صورت پڑے…

Read more

خواجہ سرا بہنوں اور بھائیوں کے لیے

ان دنوں جب مجھے کسی سٹیج پر کھڑے ہو کر اپنے ارشادات عالیہ سے عوام الناس کو مستفید کرنا ہوتا ہے تو گفتگو کا آغاز کرنے سے پیشتر میں قدرے جھجک جاتا ہوں۔ پہلے تو ایک روانی میں خواتین و حضرات السلام علیکم کہہ کر تقریر دل پذیر کا آغاز کردیتا تھا لیکن اب ایک…

Read more

منظر ہے اس طرح کا کہ دیکھا نہیں ہوا

منیر نیازی نے مجھے اپنی ’’کلیات منیر‘‘ عنایت کرتے ہوئے میری حیات کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا۔ مستنصر کے لئے۔ ’ ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفرنہیں، منظر ہے اس طرح کا کہ دیکھا نہیں ہوا‘۔ 19 فروری 98ء کی شام۔ میں نے اکثر تنہا سفر کیا جس میں کوئی ہم سفر نہ…

Read more

’’میں رویت ہلال کمیٹی کا چاند، تو میری چاندنی‘‘

میں بہ قائمی ہوش و حواس یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں ایک عدد محب الوطن پاکستانی ہوں اگرچہ میرے پاس حب الوطنی کا کوئی سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ نہ ہی میں فخر سے اعلان کرسکتا ہوں کہ میں نے ملک و قوم کی بے حد خدمت کی ہے اور میری کوئی قدر نہیں کی گئی…

Read more

مجھے ننگے پاؤں چلنے والے، رونے والے اچھے لگتے ہیں

کیا بھینسیں فروخت کرنے سے ملک میں ڈیم بن سکتے ہیں؟ نہیں بن سکتے ’ لیکن بھینسیں نہ فروخت کرنے سے بھی تو ڈیم نہیں بن سکے ’ تو پھر کیا پتہ بھینسیں فروخت کرنے سے ہی ڈیم بن جائیں۔  ان بھینسوں کی فروخت پر بہت واویلا کیا گیا تھا کہ ہائے ہائے ہمارے صاحب…

Read more

’’ہائے میری بھنڈیاں اور وہ جو دکان اپنی بڑھا گئے‘‘

خواتین و حضرات! میرے ساتھ کچھ ہمدردی کے بول بولئے کہ میرے ساتھ ایک ہاتھ ہو گیا ہے۔ یوں کہیے بہت زیادتی ہو گئی ہے۔ پچھلے دنوں جو کھلی بغاوتیں ہوئیں۔ شورش پسندوں نے پورے پاکستان میں ناکے لگا کر ناک میں دم کر دیا۔ شاہراہیں بند‘ سکول بند اور عوام الناس گھروں میں بند۔…

Read more

اس گھر کو آگ لگ رہی ہے گھر کے چراغ سے

پچھلے دو تین روز سے میں سہم گیا ہوں۔  جیسے میں ایک کبوتر ہوں اور ایک سیاہ بلی غراتی ہوئی میری جانب بڑھ رہی ہے اور میں سہم گیا ہوں۔  میرے اندر نامعلوم کے ایک خوف نے جڑیں پکڑلی ہیں۔  میری سرزمین کا خون پی جانے والی سیاہ چمگادڑیں میرے بدن میں پھڑپھڑاتی پھرتی ہیں۔ …

Read more