بیوٹی پارلر ، کتھک ناچ ، پبلسٹی اور ہیش ٹیگ می ٹو

مشاطہ اور رقاصہ ہر دربار کی ضرورت ہوا کرتی تھیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے بھانڈ میراثی ، بونے، نائی اور خواجہ سرا۔ سب کی اپنی ذمہ داری اور اپنے خاص نوعیت کے کام ہوتے ہیں ۔ اسی طرح قدیم زمانے کے میلے میں ایک دیہاتی سرکس بھی ہوا کرتا تھا۔ اس سرکس کی خاص بات…

Read more

قرض اتارو ملک سنوارو: آئیے ڈیم بناتے ہیں

جمرات کی رات ہمارے بچپن میں سب سے بد مزا رات ہوتی۔ ایک تو ٹی چینل صرف دو اوپر سے جب تک جمعرات ویک اینڈ رہا ہم نیلام گھر دیکھنے پہ مجبور پھر ابھی ہم اسکول میں ہی تھے کہ نواز شریف دوسری بار بھی وزیر اعظم بنے اور جمعرات کی جگہ ہفتہ (سنیچر ) ویک اینڈ بنا لیکن ٹی وی چینل وہی دو۔ ایک رات ہم نہایت بیزاری کے عالم میں ٹی وی دیکھ رہے تھے تو جیسے ہی پروگرام کا آغاز ہوا طارق عزیز نے اپنے مخصوص انداز میں وہی رائن ادا کیں جو آج بھی کرتے ہیں۔

”دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے، اس نے ووٹ مانگے آپ نے ووٹ دیے، اس نے نوٹ مانگے آپ نے نوٹ دیے“، یہ کچھ عجیب سا تھا بالکل نیا۔ آج تک ہم نے ایسا دیکھا نہ تھا کہ پرائم ٹائم پہ بھی حکومت کا اشتہار آ سکتا ہے۔ یوں تو صبح شام ہم اشتہار دیکھنے کے عادی تھے۔ ”قرض اتارو ملک سنوارو پاک وطن کے پیارو سینا چیرو دل نکالو“۔

Read more

بینا کی نابینا لاٹھی

بینا ایک چھوٹے سے قصبے میں انیس سو پچاس میں پیدا ہوا۔ بینا کا نام بینا نہ تھا یہ نام تو معاشرے نے اسے عطا کیا۔ اس کا اصلی نام جو اس کے والد نے اس کی پیدائش پہ رکھا وہ فقیر محمد رکھا تھا۔ بچپن سے اسے اپنے نام سے شدید نفرت تھی۔ اس…

Read more

آسیہ بی بی اور شاہ رخ جتوئی کے لیے بابا رحمت کے نام ایک اور خط

بنام جناب عالی مرتبہ چیف جسٹس محترم ثاقب نثار صاحب۔ سرکار بعد از سلام ایک بار دوبارہ عرض ہے، دراصل آپ سے جیسے ہی مخاطب ہوتی ہوں آپ کی پرسنلٹی کے حساب سے کوئی کہانی گھومنے لگتی ہے۔ آپ بھی ماشاءاللہ فنون لطیفہ کے شائق اور میں بھی آپ کو کہانی میں ٹوئسٹ پسند اور…

Read more

آسیہ بی بی اور شاہ رخ جتوئی کے لیے بابا رحمت کے نام ایک اور خط

بنام جناب عالی مرتبہ چیف جسٹس محترم ثاقب نثار صاحب۔ سرکار بعد از سلام دوبارہ عرض ہے، دراصل آپ سے جیسے ہی مخاطب ہوتی ہوں آپ کی پرسنلٹی کے حساب سے کوئی کہانی گھومنے لگتی ہے۔ آپ بھی ماشاءاللہ فنون لطیفہ کے شائق اور میں بھی۔ آپ کو کہانی میں ٹوئسٹ پسند ہے اور مجھے…

Read more

پائڈ پائپر، خوفزدہ اساتذہ اور ڈاکٹر مجاہد کامران

گزرے زمانے کا ذکر ہے! ایک چھوٹے سے قصبے میں انسانی آبادی سے زیادہ چوہے آباد تھے۔ وہاں کے لوگوں کی زندگی مشکل ہو گئی تھی۔ گھر کے ہر کونے میں چوہے۔ جوتوں اور ٹوپیوں تک میں چوہے رہا کرتے۔ بچوں کو کاٹتے کھانا کھا جاتے کپڑے چبا جاتے۔ بچے، جوان اور بوڑھے سب ہی…

Read more

سرکاری کوارٹر، مفت کا چندن

وطن عزیز میں ہمیشہ سے ہی ہر سرکاری چیز ویسے تو عوام کے لئے مال مفت رہی ہی ہے اور مثل مشہور ہے، مال مفت دل بے رحم۔ ہمارا دل مال مفت پر بہت بے رحم ہو جاتا ہے۔ یہ ہمارے قومی مزاج کے حوالے سے سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اب ذرا غور سے…

Read more

جامعہ کراچی کے اساتذہ تر نوالہ کیوں؟

اس واقعے کو کافی عرصہ گزر گیا، اس لئے قارئین کو یاد دلا دیں کہ اس شہر کے ایک پارک میں رینجرز کے کچھ اہلکاروں نے ایک لڑکے کو کھڑا کر کے گولی مار دی تھی۔ اس واقعے کی ایک ٹی وی چینل نے عکس بندی کر لی تھی کیونکہ اتفاق سے وہ اس سانحے…

Read more

مملکت خداداد پاکستان اور مقدس عدالتیں

پاکستان انیس سو سینتالیس میں معرضِ وجود میں آیا۔ ہم سبھی جانتے ہیں۔ جب سے لے کر آج تک یہاں اصولوں کو بنایا جاتا ہے، بلکہ نہیں اصولوں کو بنایا نہیں جاتا، بنے بنائے اصولوں کو چلایا جاتا ہے۔ یعنی وہی قوانین جو برٹش انڈیا کے دور میں گورے نے بنائے وہی رواں دواں ہیں۔…

Read more

میرا کتا مجھ سے خفا ہے

محترمہ بانو قدسیہ صاحبہ کی شہرہ آفاق کتاب راجہ گدھ میں جانوروں کی مجلسِ شوریٰ دکھائی گئی ہے۔ اس ناول میں دو کہانیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔ ایک کہانی شہر کی ہے دوسری جنگل کی۔ جنگل میں ایک مقدمہ چل رہا ہے جو گدھ کے خلاف ہے۔ سارے جانور ایک طرف اور غریب گدھ…

Read more