”مذہب سے متعلق ملانہ رویے“ کے جواب میں

جناب ڈاکٹر مجاہد مرزا صاحب کا ایک کالم ”مذہب سے متعلق ملانہ رویے“ ”ہم سب“ فورم پر شائع ہو اہے۔ اس مضمون میں جناب ڈاکٹر صاحب مذہب میں ملائیت کی بے جا دخل اندازی پر نوحہ کناں ہیں۔ بے شک ”نیم حکیم خطرہ جان او رنیم ملاں خطرہ ایمان“ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس نیم…

Read more

ہوائی فائرنگ اور مفرور عشق

ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ ناموس رسالت کے مقدس نام پر ذاتی مقاصد کی تکمیل کا اچھا موقع تھا۔ موقع پرست عناصر، سربراہان دھنگا و فساد اور طفلان کوچہ و بازار برساتی مینڈکوں کی طرح باہر نکل کر ٹر ٹر کر رہے تھے۔ جگہ جگہ ناکے لگا کر شہر بند کر دیے گئے۔ عورتیں، بچے اور بوڑھے خدا کے نام پر ہونے والے فساد فی الارض میں خدا کی زمین پر بے یارو مدد گارہو گئے۔

دوسروں کو نقصان پہنچا کر اپنے عشق رسول کا اظہار کرنے کا تازہ تازہ سبق پڑھ کر آنے والے ڈنڈا برداروں کے ہاتھوں سبھی تکلیف اٹھا رہے تھے۔ گاڑیاں محفوظ تھیں نہ راہگیر۔ ہر قسم کے پرجوش نعرے لگا رہے جا رہے تھے۔ ان نام نہاد عاشقان میں ایسے بھی تھے جنہیں گھر والے گھاس ڈالتے ہیں نہ گلی محلے والے پوچھتے ہیں۔ لیکن آج و ہ جو جی میں آئے کر رہے تھے جسے چاہیں پتھر ماریں جس کی گاڑی کو چاہیں آگ لگا دیں۔

ان کٹھ پتلیوں کے سرغنہ جگہ جگہ سٹیج بنا کر اور کچھ بنا سٹیج کے ہی پر جوش خطابت کے جوہردکھا رہے تھے۔ ان کے آگے ہر چیز خس و خاشاک کی طرح بہ رہی تھی جیسے بہتا ہوا لاوہ ہر سد راہ کو خاکستر کرتا جائے۔ ”جو منہ میں آئے کہ دو“ کی پالیسی پر عمل پورے جوش سے جاری تھا۔ کوئی روکنے والا تھا نہ پوچھنے والا۔ جو کچھ کہا جا رہا تھا وہ بے ربط بھی تھا اور بے ربط کرنے والا بھی۔

Read more

یہ ہے عشق رسول ﷺ

عاشق جانثاران رسول، فدائیان رسول، ناموس رسالت کے الفاظ روزانہ سماعتوں سے ٹکراتے ہیں۔ بیشتر دفعہ یہ الفاظ چوراہوں، سٹرکوں کے بیچوں بیچ لگے مجمع سے اٹھ رہے ہوتے ہیں۔ بیک گراونڈ میں جلتے ٹرک، ذلیل و خوار ہوتے مسافر، بھوک سے نڈھال عورتیں بچے، تڑپتے مریض اور نعرے لگانے والے ڈنڈا بردار ہوتے ہیں۔…

Read more

امن کا نوبل انعام کرشماتی ڈاکٹر کے لئے

بچے نے اپنے والد کے ساتھ مریضوں کی عیادت کرتے کرتے ڈاکٹر بننے کی ٹھان لی۔ بڑا ہوا تو ہمسایہ ملک برونڈی میں جا کر ڈاکٹری تعلیم مکمل کی اور گائناکالوجسٹ بن گیا۔ کہیں بیرون ملک جا کر دولت کے انبار لگانے اور پر تعیش زندگی پر اپنی ہی دھرتی پر تڑپتی اورسسکتی انسانیت کی…

Read more

موچی کا احتجاج

طفیل صبح اپنے ٹھکانے پر پہنچا تو وہاں منظر ہی بدلا ہو اتھا۔ اس کاسارا سامان جل کر بکھر چکا تھا۔ سامان تھا ہی کتنا۔ جوتے پالش کرنے والے کچھ پرانے برش اور مختلف رنگوں کی پالش کی ڈبیاں۔ الگ الگ پاؤں والی کچھ چپلیں۔ جسے وہ اپنے گاہکوں کو عارضی طور پر پہننے کے…

Read more

بیگم کلثوم نواز، مولانا فضل الرحمن اور دینی مدارس

حلقہ زہد و تقویٰ کے ارباب از قسم فضل الرحمان، اکرم درانی اور خادم رضوی کو ابال آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسلام خطرے میں ہے کے نقارے پر چوٹ پڑنے لگی ہے۔ مدارس کا نصاب بدلنے نہ دیں گے کے نعرے لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسلام کے ان قلعوں میں اصلاحات لانے کی…

Read more

محمد اظہار الحق صاحب کی تجاویز اور مغالطے

تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ نرمی اور دلائل سے بات کرنے کا ڈھنگ سکھانے کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نمائندگان رب جلیل نے بھجوائے ۔ حتی کہ موسیٰ کلیم اللہ کو بھی زمین پر خدا بنے بیٹھے فرعون سے'' قولاً لیناً '' یعنی نرم لہجے میں بات کرنے کا ارشاد ہوا۔ پر گالی…

Read more

کپتان بالکل نہیں ڈرتا

صوفی ازم میں ایک ایسے فرقے نے بھی جنم لیا ہے جس نے اشیاء کے خارجی وجود کا سرے سے انکار ہی کر دیا تھا۔ یعنی جو بھی ہے سب ہمارا وہم ہے اور حقیقت میں کوئی مادی شے موجود ہی نہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مادی وجود سے بھی انکار کر بیٹھے۔ اس…

Read more

ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کے لیے راست اقدام

دشمن تلا بیٹھا ہے کہ وہ ہر صورت اسلام کوبدنام کرنے کے لئے جھوٹ کی نجاست پر با ربار منہ مارتا رہے گا۔ اپنی حسرت و یاس کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مسلم دنیا میں آگ لگاتا رہے گا۔ اس کے لئے خواہ اسے اپنا کتنا ہی تصوراتی گند باہر لانا پڑے ۔کتنی جھوٹی کہانیاں…

Read more

حسینان عالم ہوئے شرمگیں

اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا تھا۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون عملاً اور سرعام رائج تھا۔ جو جتنا بڑا مجرم اتنا بڑا معزز تھا۔ بظاہر دین ابراہیم کے پیرو کہلانے والے عملاً دین حنیف سے کوسوں کیا ہزاروں کوسوں کی دوری پر تھے۔ اپنی پگڑی اونچی رکھنے کے لیے کچھ بھی کر…

Read more