مما، میں ووٹ کسے دوں

بے خبر سو رہی تھی کہ یکے بعد دیگرے فون لرز اٹھا۔ گھبرا کے اٹھی کہ یا اﷲ سب خیریت ہو۔ فون جو دیکھا تو پانچ عدد فارورڈ میسج تمسخرانہ انداز میں منہ چڑا رہے تھے۔ میری قوم کل اگر کالا باغ ڈیم پہ اتنی متحرک ہوتی تو آج کو یہ بن بھی چکا ہوتا۔…

Read more

پرائیویٹ اسکول اور اساتذہ کی حالت زار

گلی میں آواز لگ رہی تھی ’سبزی والا‘۔ میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ ہر شہر میں نجانے کیوں چھابڑی والوں کی آواز و انداز ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ خدا جانے ایسا کیوں ہوا کہ مجھے تعلیم فروش یاد آ گئے۔ ہر شہر میں خوانچہ فروشوں کی طرح ان کے انداز بھی قدر مشترک ہیں۔…

Read more

کراچی کے عسکری پارک کا 360 پنڈولم جھولا آخر کار گر گیا

نظر بد برحق ہے۔ مگر یہ سمجھ نہیں آتا کہ صرف کراچی کا خون ہی کیوں ہلکا ہے۔ کوئی اچھی پیش رفت صرف چند ایام کی مہمان ہی کیوں ہوا کرتی ہے؟ کراچی آئے کئی دن ہوئے۔ خوش گوار تبدیلی تھی مگر میرا قلم ٹھہرا طنزیہ۔ اس دفعہ اچھی تبدیلی لگی کراچی میں۔ خاص کر…

Read more

مجھے زیارت جا کر شدید مایوسی ہوئی

چھٹیوں پہ کوئٹہ آئے کئی دن گزرے۔ بہت آرام ہو چکا۔ سوشل میڈیا پہ جو گندگی اور طوفان بد تمیزی امڈا ہوا ہے آجکل، اسے دیکھ کے کئی بار سوچا کہ اپنے حلقہء احباب کی چھٹائی ہی کر ڈالوں۔ مگر پھر ڈر سا لگا کہ مٹھی بھر دانے بھی نہ رہ جائیں گے لہٰذا سوشل…

Read more