بوا حمیدن کی غزالہ: ایک ہاری ہوئی کہانی

ابھی کچھ دن پہلے روزنامہ‘ ترنگ‘ کے ادبی ایڈیشن میں ایک سکہ بند نقاد نے میرے تازہ ترین ناول ’محبت کے سات رنگ ’ کو بازاری لٹریچر قرار دیتے ہوئے مجھے ادبی کنوئیں کے اُس مینڈک سے تشبیہہ دی ہے جو اگلے سو سال بھی پھدکتا رہے تو شاعرانہ لفاظی اور غیر حقیقی موضوعات کی…

Read more

’’ دشمنوں کے لئے نظمیں ‘‘—-ایک تاثراتی مطالعہ

دشمنوں کی ڈی کنسٹرکشن ابھی کچھ دیر پہلے حفیظ تبسم کی کتاب کا مسودہ بذریعہ ای میل موصول ہوا تو حسرت آلود یادوں کی ایک پٹاری سی کھلتی چلی گئی (چونکہ وائی فائی کی سپیڈ معمول سے کچھ کم تھی لہذا نظموں کی فائل کافی دیر بعد جاکر کھلی )۔ فائل تو جیسے تیسے کھل…

Read more

ایک طویل سفر کی کتھا

خزاں کی زلفوں میں اُلجھی ایک شام، آخری دَموں پہ تھی۔ تالاب کنارے، پیپل کا ایک بوڑھا شجر، اپنے شاخچوں میں بسنے والے پرندوں کے انتظار میں کھڑا اونگھ رہا تھا۔ دِ ن بھر کی مسافت سے تھکا ہارا سورج، تالاب کے پانی میں اُتر کر اشنان کرنے لگا تو لکن میٹی کھیل کر گھروں…

Read more

دائرہ…..مختصر کہانیاں

دی اینڈ "F"دبایا، فائر ہوا، چار آدمی ہلاک۔ فکر کی کوئی بات نہیں برے آدمی تھے سالے! برائی پندرہ سو افراد فی مربع کلومیٹر کی شر ح سے بڑھتی ہے۔ اچھائی نگوڑی نیگیٹو گروتھ کی پٹیاں پڑھتی ہے۔ "J"پہ انگلی رکھی تو ہیرو جمپ لگا کر برے آدمیوں کے سروں کے عین اوپر ۔ "K"کی…

Read more

واردات – مختصر کہانیاں

(کتاب پیدائش و اموات کا ایک باب) تیسری عالم گیر برفابی کے پانچ لاکھ سال بعد، جب سورج دوبارہ نمودار ہوا، اور زندگی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ بحال ہوئی تو تباہی کے اسباب جاننے کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنایا گیا، جس کا سربراہ ٹی ریکس نامی ایک سپر روبورٹ تھا۔…

Read more

کرما – ایک بلیک کامیڈی

میں ایک پیپل کا درخت تھا۔ میں نے چھاؤں بانٹی اور آکسیجن دان کی۔ ایک روز میرے بدن پر تیز دھار آرا چلا کر مجھے کاٹ دیا گیا۔ میری لاش سے میزیں اور پلنگ بنائے گئے۔ اگلی دفعہ میں ایک کونج بن کر نمودار ہوا۔ میں نے ہوا کے دوش پر رقص کیا، بے ساختہ…

Read more

چلیے اب دونوں وقت ملتے ہیں۔۔۔

(شارٹ نوٹ) تخیّل کے علاوہ کوئی بھی چیز ہمیں بیتے ہوئے پل اور گزرے ہوئے کل نہیں لوٹا سکتی (یوں تو تاریخ بھی یہ کام کر سکتی تھی، المیہ مگر یہ ہوا کہ ساری تاریخ بوگس اور بے ہودہ نکلی)۔ چونکہ تخیّل کا تخلیقی اظہار محض آرٹ ہے لہٰذا آرٹسٹ کو ماضی میں ضرور جینا…

Read more

میں، قاضی اور کولاج

ایک ذلت آمیز آپ بیتی کا خلاصہ پہلے میں نالائق اور کم علم ہوا کرتا تھا، اب کوتاہ فہم اور قلیل اندیش بھی ہوں۔ بہا الدین ذکریا یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت میں زندگی کے تین قیمتی سال اساتذہ سے بحث و مباحثہ کرتے ہی گزار دیے۔ جھولی پھیلا دی ہوتی تو علم کی دولت سے…

Read more

انسان ہونا بےمعنی ہے، اصل چیز نسل اور خاندان ہے

’’ تمہارا بلڈ گروپ کیا ہے؟‘‘ ’’ اے نیگیٹو۔‘‘ ’’پھر تو میرا اندازہ بالکل درست نکلا۔‘‘ ’’کون سا؟‘‘ ’’یہی کہ تم منفی مکتبہ ہائے خون سے تعلق رکھتے ہو۔‘‘ ’’منفی مکتبہ ہائے خون؟ یہ کیا بکواس ہے؟ یعنی خون نہ ہوا، معاشرتی علوم ہو گئے؟ـــــ‘‘ ’’ لو! معاشرتی علوم اور کیا ہوتے ہیں بھلا؟ خون…

Read more

(ڈھشما (ایک پروپیگنڈہ اینی میٹڈ فلم کا خلاصہ

پردہ اٹھتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سلور سکرین پر ٹائٹل چل رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک جنّاتی سائز کا مگرمچھ اپنا منہ کھولتا ہے اور ڈوبتے ہوئے سورج کو زندہ نگل جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سرخ رنگ کے آتشی دائرے باہم پیوست ہو کر اولمپک رنگ بناتے ہیں تو ایتھوپیا…

Read more