سہل پسندی

سنتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب برصغیر پاک و ہند میں ایسا نظام تعلیم رائج تھا جس میں کردار سازی پہ بھرپور توجہ دی جاتی تھی جس میں اخلاق و اطوار کو نکھار کر آدمی کو انسان بنایا جاتا تھا اور تعلیم کا اصل مقصد انسان کی ایسی تربیت کرنا تھا جس کے بعد انسان حقیقی معنوں میں اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہونے کا اہل بن سکے۔ نیابت کا منصب سنبھالنے کے قابل بن سکے۔ پھر انگریز بہادر نے تجارت کی غرض سے سرزمین برصغیر پر قدم رکھا اور اسے سونے کی چڑیا کہہ کر اپنے قبضے میں کر لیا۔

Read more

16 دسمبر 2014 جیسے کالے دن موم بتیاں جلانے سے روشن نہیں ہوا کرتے

16 دسمبر 2014 جیسے کالے دن موم بتیاں جلانے سے روشن نہیں ہوا کرتے۔ ہاں البتہ ذہنوں دلوں اور ضمیروں کو روشن کر لیا جائے تو عین ممکن کہ آنے والے دنوں میں سولہ دسمبر 2014 جیسا سیاہ دن دوبارہ نہ آئے۔ ہماری اپنی کوتاہی، سکول کی ناقص سکیورٹی اور ریاست انتظامیہ کی انتظامیہ نا اہلی کی وجہ سے درندوں کی بربریت کا شکار ہونے والے ان معصوم بچوں کو شہداء کہہ کر ہم نہ جانے اپنے کون سے جذبے کی تسکین کرتے ہیں یا شاید اپنی شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان معصوم بچوں پر ہوئے ظلم پر احتجاج کرنے اور اس طرح کے تمام مظالم کی مذمت کرنے اور اپنے آپ کے ساتھ یہ عہد کرنے کی بجائے کہ ہم آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے کچھ ایسا اہتمام کر جائیں کہ وہ اپنی زندگیوں کو خوف کی بجائے امن و آشتی کے سائبان تلے بسر کریں، ہم موم بتیاں جلا رہے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ کی طرح اس معاملے میں بھی سہل پسندی کا راستہ اپنایا اور ان بچوں کو جن کا حق تھا کہ انہیں جینے دیا جاتا ان پھولوں کو جن کا حق تھا کہ انہیں کھلنے دیا جاتا انہیں بچوں کے بے دردی سے پرخچے اڑا دیے جانے پر ہم ان ناسوروں کو بددعائیں دیتے ہوئے اور بچوں کی بہادری کے نغمے گاتے ہوئے اپنے آپ کو کس بے شرمی سے ایک عظیم قوم تصور کرتے ہیں۔

Read more

دوسری شادی کے حق میں بولنے والی ایک خاتون

خود کو نمایاں کرنے کے چکر میں انوکھی حرکات اور انوکھی بات کرنے کی روایت نئی تو نہیں البتہ دور حاضر میں اس کی شدت میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان دنوں ہماری ایک پیاری دوست مرد کی دوسری شادی کو لے کر پوسٹ پر پوسٹ داغے چلی جا رہی ہیں اور انداز ایسا ہے کہ جیسے مذہب میں دوسری شادی کی مشروط اجازت نہ ہو بلکہ یہ حکم ہو کہ ہر مرد کو دوسری شادی لازمی طور پر کرنی ہے اور لوگ اس خاص حکم کو بھولے ہوئے ہیں جب کہ وہ پیاری دوست اس حکم کو یاد دلانے کے مشن پر ہیں۔

Read more

دیسی انڈے

سو دن کی کارکردگی۔۔۔ خادمِ اعلیٰ سے لے کر خادم رضوی تک سب اندر اور دیسی انڈے باہر ۔۔۔ ہمارے ہاں یہ ایک عام رویہ ہے کہ جب عورت اپنے مرد کی کوئى خراب عادت یا کوئى اخلاقی رخنہ (اخلاقی رخنہ کی تفصیل موضوع کے اعتبار سے غیر ضروری ہے) دور کرنے میں ناکام رهتی…

Read more

فہمیدہ ریاض

جب ڈر اور خوف کے مارے ہوئے لوگ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں مستقل طور پر مفاہمت اور مصالحت کی ڈگر پہ چلنے کے عادی ہو چکے ہوں اور اپنی محکومی کو ذہنی طور پر قبول کر چکے ہوں تو ایسے لوگوں کے وجود سے جنم لینے والے معاشرے مردہ معاشرے قرار پاتے ہیں۔ اور مرے ہوئے کو تو کوئی ایک رات سے زیادہ اپنے آنگن میں جگہ نہیں دیتا، چاہے وہ کسی کے کتنے ہی پیارے کا مردہ کیوں نہ ہو۔ تو کسی مردہ معاشرے کو زندہ اور متحرک زمانہ کیسے اپنے ساتھ باندھے رکھنے پر تیار ہو سکتا ہے۔

معاشرے دراصل زندہ انسانوں کے قبرستان ہوتے ہیں جو ہنستے بستے شہروں سے دور بنائے جاتے ہیں۔ جن کا شہروں سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ یہ دنیا زندوں کی قدر کرتی ہے، زندوں کو قبول کرتی ہے۔ اس لیے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے ایک زندہ اور سانس لیتی ہوئی سوچ کے ساتھ ساتھ ایک دھڑکتا ہوا نظریہ ناگزیر ہے۔ مزاحمتی ادب حقیقی معنوں میں تبھی تخلیق ہوتا ہے جب تخلیق کار نے ان حالات کو خود پر جھیلا ہو جن کے نتیجے میں کسی بھی ذی شعور فرد کے اندر مزاحمت پنپتی ہے۔

Read more

سموگ اور نیا پاکستان

تُو سانس نہ لے پائے اِس طور کے موسم میں ہم شعر بھی کہتے ہیں لاہور کے موسم میں محکمۂ موسمیات اور محکمۂ شعریات کی ملی بھگت سے حاصل ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شاعر ان دنوں شدومد سے شعر کہنے میں مشغول ہیں اور پھیپھڑوں اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد…

Read more

ایک اور فرقہ ابھر رہا ہے

ایک زمانے میں عرب کے لوگ اپنی زبان دانی اور اپنی شاعری کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے اپنے علاوہ تمام دنیا کو عجمی گردانتے تھے۔ حالیہ ادبی منظر نامے کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہاں ہر شاعر ہی اپنے تئیں عربی اور باقی سب کے سب عجمی ہیں۔ ہمارے ہاں شاعری میں…

Read more

عافیہ اور آسیہ

دو مختلف مذاہب دو متضاد نظریات و عقائد اور دو مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی ایک ہی جمہوری ملک کی دو آزاد شہری عافیہ صدیقی اور آسیہ مسیح جن میں سے ایک کا تعلق ملک کی اکثریت اور دوسری کا تعلق اقلیتی برادری سے ہے۔ ان دونوں کی پوزیشن کے آپسی موازنے کے حوالے…

Read more

سوچ سمجھ کے دستخط کریں

آپ کا دستخط آپ کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے جو آپ لاشعوری طور پر دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ مختلف کاغذات پر آپ کی شناخت کے علاوہ یہ آپ کے اندرونی عکس کو بھی کاغذ پر اتارتا ہے۔ دستخط ایک طرح سے کسی بھی کمپنی کے لوگو سے مماثل چیز ہے۔ آپ…

Read more

فاخرہ نورین کی / کا “خندہ ہائے زن”

یہ کوئی فخر کی بات نہیں اس لئے شرمندگی سے بتا رہے ہیں کہ ادب سے تعلق ہونے کے باوجود خصوصاً فکاہیہ مضامین کو باقاعدہ کتابی شکل میں پڑهنے کا یہ ہمارا پہلا موقع ہے- طنز اور مزاح سے الگ الگ تو ہمیشہ واسطہ پڑا- کبهی طنز کے تیروں سے زخم زحم ہوئے اور کبهی…

Read more