ایف آئی آر

سردیوں کی ایک انتہائی سرد ٹھٹھرتی رات۔
سنسان اتنی کہ جیسے قبرستان۔
سناٹا ایسا کہ جیسے موت۔
اندھیرے میں خنجر کی طرح اتری ہوئی سڑک۔
سڑک کنارے پولیس اسٹیشن کی روشنی جیسے امید کی آخری کرن۔

پولیس اسٹیشن کے اندر ایک کم عمر لڑکا پولیس انسپیکٹر کے سامنے بیٹھا ہوا۔
لڑکے کے چہرے پر ابھی جوانی نہیں اتری مگر تازہ خون کے چھینٹوں نے اس کے چہرے کو ایسا بنادیا ہے جیسے ستر برس کا بوڑھا۔
اس کی فقط ایک آنکھ سے آنسو بہہ رہا ہے۔ دوسری آنکھ خشک ہے۔
اس کا دبلا پتلا جسم سردی اور خوف سے یوں لرز رہا ہے، جیسے ماں کی گود سے چھینا گیا بچہ۔
اس کے کپڑوں پر بھی جابجا خون کے دھبے ہیں۔

Read more

ابھی انتظار کر چیف جسٹس! اب محشر میں ہو گی ملاقات

پرانے زمانے کی بات ہے
وقت کا چیف جسٹس اپنی رٹائرمنٹ والے دن شہر کی مرکزی مسجد میں لوگوں سے مخاطب تھا۔

لوگو!

میں نے تمہارا بھلا چاہا۔ تمہارے بھلے کے لیے میں نے سخت سے سخت تر قدم اٹھایا۔ پھر بھی اگر مجھ سے بھول چوک ہوگئی ہو تو مجھے معاف کردینا۔ اور مجھے اچھے الفاظ میں یاد رکھنا۔ تم سب کے درمیان یہ میرا آخری دن ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جاتے جاتے بھی تمہارے درمیان انصاف کرتا جاؤں۔ اگر کسی نے کوئی مقدمہ پیش کرنا ہے تو ابھی اٹھ کر کہہ دے۔

جمع کا دن تھا اور مسجد کا صحن کھچا کھچ بھرا تھا۔
سفید کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان اٹھ کھڑا ہوا۔

Read more

میری اماں کی سلائی مشینیں اور مرغیاں اور میرا پچھتاوا

زندگی جب اپنے اختتام کی طرف رُخ موڑتی ہے، تو پچھتاوا نہ صرف ساتھ ساتھ چلنا شروع کرتا ہے بلکہ مسلسل بولنے بھی لگتا ہے۔ دیکھا، کہا تھا نا کہ ایسا مت کر۔ کتنا روکا تھا۔ ایسا نہ کیا ہوتا تو آج یوں نہ ہوتا اور اگر ویسا کیا ہوتا تو آج کچھ یوں ہورہا ہوتا۔ عورت کو عموماً زندگی کے آخری اسٹیج پر ماں کی نصیحتیں یاد آیا کرتی ہیں۔ ماں اپنے تجربے کا نچوڑ بیٹی کو جہیز میں دینا چاہتی ہے مگر زندگی کی تجربہ گاہ میں داخل ہوتی بیٹی وہ فرسودہ تجربہ قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ بہت ساری زندگی گزارنے کے بعد کہیں جاکر انکشاف ہوتا ہے کہ زندگی ہے ہی فرسودہ چیز! اسے فرسودگی سے گزارو تو مزے میں گزرتی ہے۔ مختلف راستہ پکڑو تو آگے کی کوئی گارنٹی نہیں!

میری اماں کمال کی آرٹسٹ تھیں۔ رنگوں سے کھیلنے کا فن انہیں کڑھائی کی صورت آتا تھا۔ میں نے آنکھ کھولی تو اپنے گھر میں سنگر سلائی مشین سے لے کر ہر دور کی جدید ترین سلائی مشینیں دیکھیں۔ ہر سال حج کا سفر ہماری زندگی کا حصّہ تھا ہی، مگر واپسی پر جدہ میں چند دن رہ کر جدید جرمن سلائی مشینوں کی بڑی بڑی دکانوں کی زیارت کیے بغیر ہمارا سفرِ حج گویا مکمل ہی نہ ہوتا تھا!

Read more

برگد کے آسیب زدہ درخت میں لاپتہ ہوتی آوازیں

بچپن میں ایک سندھی لوک کہانی گیت کی صورت بڑی بوڑھیاں گنگناکر سنایا کرتی تھیں۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ
ایک تھی ”ادی سونل“
اس کی شادی ہونے جارہی تھی
ایک دیو اس پر عاشق تھا
عین شادی کے دن دیو نے اسے اٹھاکر برگد کے بوڑھے درخت میں لاپتہ کردیا۔
بارات آگئی مگر ادی سونل لاپتہ تھی۔

ادی سونل کا دکھیارا بھائی اب گیت گاتے ہوئے درخت تلے کھڑا بہن کو آوازیں دینے لگا، تاکہ باراتی یہ نہ سمجھیں کہ ادی سونل موجود نہیں۔ بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ بھائی بہن کی رخصتی کے دکھ میں گیت گا رہا ہے۔

Read more

بندوقوں کے سائے میں بے نظیر کا غریب ووٹر

ایک دن گپ شپ کے دوران عائشہ صدیقہ نے پوچھا کہ بی بی کی لیگیسی کیا ہے؟ فوری جواب تو یہ بنتا تھا کہ پیپلز پارٹی! پر پتہ نہیں کیوں ایک فضول سا جواب لگا یہ۔ حال ہی میں بلاول کو دیکھتے ہوئے اپنے ہی دماغ نے یہ سوال دہرایا اور جواب سوچا کہ کیا…

Read more

”عشقِ رسولﷺ“ کا دن سرکاری طور پر منانے کا اعلان

یہ 22 ستمبر 2012 کی پوسٹ ہے، جب گستاخانہ وڈیو کے ردعمل میں رحمان ملک نے ”عشقِ رسولﷺ“ کا دن سرکاری طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ نتیجے میں دن بھر ہر سوُ آگ بھڑکتی رہی۔ میں مدینے میں تھی۔ اسی دن شام کو پاکستان واپسی کے لیے جدہ پہنچی تو پاکستانی نیوز چینلز…

Read more

مدینہ منورہ کے خواجہ سرا

 میں نے دنیا میں آنکھ کھولی تو مدینہ منورہ کو زندگی کا حصّہ پایا۔ میری پیدائش سے پہلے ہی اماں اور بابا کے عشق کا رُخ مدینہ منورہ کی طرف مڑ چکا تھا۔ دونوں میں اگر کوئی قدر مشترک تھی تو وہ یہ منزل تھی، جہاں ہر سال انہیں روضہِ پاک کے سامنے جا کھڑے…

Read more

‏زرا آنکھیں کھولو کلثوم

‏زرا آنکھیں کھولو کلثوم دیکھو پاکستانی سیاست کوبھی کینسر ہوچکا ہےاور اب مصنوعی سانسیں لے رہی ہے زرا آنکھیں کھولو کلثوم دیکھو پاکستانی کس طرح لذتِ مرگ کےجنون میں مبتلا ہوچکےہیں زرا آنکھیں کھولو کلثوم دیکھو فاتحہ خوانی کا بازار خوب گرم ہے آج اورسب ہی رسمِ قُل کی خرید و فروخت میں مصروف ہیں…

Read more

چائے پاپے والی سرکار چاہیے

  وزیراعظم ہاؤس میں صرف چائے بسکوٹ (انگریزی والا بسکٹ) والی رسم کی ابتدا مذاق میں مت لیجیے. یہ بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے. اس کے پیچھے 70 سالہ تاریخ کا اضطراب دبا ہے. ٹیکنیکل، قانونی، آئینی، معاشی، ریاستی و سیاستی اور چین و ہند و امریکہ سمیت فارن پالیسی کے مسائل کا انبار ایک…

Read more