مائی باپ! آپ کے بوٹ کے نیچے میرا ووٹ پڑا ہے

عالی جناب مائی باپ! سات سلام قبول ہوں۔ آپ کا اقبال بلند رہے۔ گزارش ہے کہ میں آپ کی عالیشان ریاست کا اک بندہ گندہ ہوں۔ آدھا ننگا، آدھا ڈھکا ہوا۔ آدھا خالی، آدھا بھرا ہوا۔ آپ تو مجھے نہیں جانتے ہوں گے مگر اس بندہِ خاکی کا نام عوام ہے مائی باپ! اکیلا ہوں…

Read more

ایک شیر ضیاء۔۔۔ دوسرا کون؟

آج صبح صبح نجانے کیوں ایک یاد ذہن کے کینوس پر اپنا سیاہ و سفید رنگ چھوڑ گئی۔ اپنا پہلا اردو سیریل جنگل میں نے ضیاء کے سفاک دورِ عروج میں لکھا۔ میری عمر اس وقت 26 سال تھی۔ ایک دن پی ٹی وی کراچی سینٹر سے کال آئی کہ اسلام آباد سے پی ٹی…

Read more

مولوی صاحب! میں مدینے میں ہوں

پیارے مولوی صاحب! گزارش ہے کہ میں اس وقت مدینے میں ہوں۔ ویسی ہی ہوں جیسی پاکستان میں ہوتی ہوں۔ اِک بندہ گندا۔ باہر سے دھلی دھلائی اندر سے گناہوں اور خطاؤں سے لدی اور میلی۔ شیطان مردود یہاں بھی ساتھ ساتھ چلا آیا ہے اور عین نماز میں میرے سر پر پنجے گاڑ کر…

Read more

سیاسی آتشدان میں کارکنوں کی راکھ اور ہاتھ تاپتے سیاستدان

الیکشن سر پر ہے، گویا قیامت آنے کو ہے! سیاستدان جیتنے سے پہلے جیت کے نشے سے سرشار ہیں اور ان کے جانثار مداح ان ہی کی اس لذت سے مدہوش ہوکر ایک دوسرے کی مائیں بہنیں گالیوں کی صورت نوچ کھا رہے ہیں۔ مگر قیامت سے پہلے ایک قیامت ہے جو مختلف پارٹیوں کے…

Read more

62-63  کا حمام اور ننگے صادق و امین

اس ملک کا پہلا صادق و امین جنرل ضیاء تھا۔ جو خود ایک ایسا نفسیاتی مریض تھا جسے بھٹو دشمنی میں جل کر سیاہ ہو چکے مولویوں اور فتویٰ سازوں نے وردی کے اوپر امیرالمومنین کی شیروانی پہنائی تھی۔ انہوں نے اسے اس ذہنی بیماری میں مبتلا کر دیا تھا کہ ایک بھٹو کو پھانسی…

Read more

آنکھوں کی سوکھ چکی شبنم

گئے دنوں کی بات ہے کہ پاکستان میں ایک شبنم ہوا کرتی تھی، لاکھوں لوگوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی مانند۔ بنگال کا جادو اس کی آنکھوں میں بھرا تھا۔ اردو بنگالی لب و لہجے میں ایک ٹھہراؤ کے ساتھ ادا کرتی تھی، جس میں اس کی آواز کی مدھر سی لرزش عجب سا جلترنگ…

Read more

ہیپی مدرز ڈے

عدنان خان کاکڑ کا میسج آیا کہ مدرز ڈے پر کچھ لکھیے۔ مدرز ڈے پر کیا کچھ لکھوں! زندگی اور زندگی کا تجربہ، ایک لکھنے والے کو (چاہے وہ مرد ہو یا عورت) کس طرح ایک ماں کا دل عطا کرتا ہے! اور ماں کا دل حاصل کرنے کے بعد کس طرح ایک محدود نظریاتی…

Read more

انسانیت مر گئی، عشق ابھی زندہ ہے!

پچھلی رات عابدہ پروین کو رو برو سن رہی تھی اور اپنے گرد بیٹھے ہر عمر کے لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو بڑی محویت کے ساتھ عابدہ پروین کو سُن رہے تھے اور سر دھُن رہے تھے، چاہے وہ اردو کلام گا رہی ہو، سندھی ہو یا پنجابی۔ بس عشق کا جادو تھا جو…

Read more