لائق بچوں کو ناکام کرنے کا ذمہ دار کون؟

وہ انٹر کلاس کے پہلے درجہ میں سائنس کا طالبعلم تھا۔ باپ چونکہ ایک عسکری ادارے میں افیسر رینک سے ریٹائرڈ تھا لہذا تعلیم کے اخراجات نسبتا بہت کم تھے۔ ہاکی کا بہت اچھا پلیئر اور کالج کا بہترین اتھلیٹ تھا ہر غیر نصابی سرگرمی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ڈیبیٹ، ورائٹی شوز، سٹیج پرفارمینس تمام میں ہمیشہ سب سے اگے اگے ہوتا، لیکن جہاں تک تعلیمی سرگرمیوں کا تعلق تھا، کلاس سے سب سے نالائق طلبہ میں اس کا شمار ہوتا، نہ اسے کیمیسٹری کے فارمولوں سے کوئی شغف تھا اور نہ ریاضی کی مساواتوں میں دلچسپی۔ نتیجہ یہ کہ سپورٹس اور آرٹ ٹیچرز کا پسندیدہ ترین کھلاڑی سبجیکٹ ٹیچرز کا ناپسندیدہ ترین طالبعلم تھا۔

اساتذہ کو یہ پریشانی لاحق کہ اس کی وجہ سے ہمارا رزلٹ خراب ہو گا اور وہ اس فکر میں رہتا کہ موقع ملے تو کلاس سے غائب ہو کیونکہ کلاس میں بیٹھنے کا مطلب مسلسل بے عزتی اور بوریت تھی۔ ٹیچرز سے تنگ آ کر کلاس سے بھاگتا تو باہر ڈسپلن انچارج یا کبھی کبھار پرنسپل کے ہتھے بھی چڑھ جاتا اور پھر وہی ڈانٹ ڈپٹ، بے عزتی اور سزا کا سلسلہ۔ تو جن دنوں کالج میں کوئی سپورٹ یا غیر نصابی سرگرمی نہ ہو رہی ہوتی وہ عرصہ اس پر ایک مسلسل عذاب کا عرصہ ہوتا۔ نتیجہ ہر امتحان میں مسلسل فیل ہوتا جب بورڈ میں داخلہ بھیجنے کا وقت آیا تو حسب توقع اس کا داخلہ روک لیا گیا۔

Read more

‌ ڈاکٹر عمر سیف کی برطرفی

‌ جن حضرات نے 80 یا نوے کی دہائی میں سیاست کا بغور جائزہ لیا ہے وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ اگر کسی حکومت سے کوئی عوامی فلاح کا کام اتفاق سے سرزد ہو بھی گیا تو اس کے ثمرات عوام تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ پراجیکٹ لپیٹ دیا گیا کیونکہ حکومت بدل گئی۔ حکومت بدلنے کے ساتھ ہی نئی حکومت کی پہلی ترجیح مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے پچھلی حکومت کے شروع کیے گئے منصوبوں کو نظرانداز کرنا ہوتا تھا۔ اس سے ان منصوبوں پر خرچ ہونے والی ساری سرمایہ کاری خاک ہو جاتی تھی۔

Read more